BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 September, 2006, 12:55 GMT 17:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
1993 دھماکے: دو مزید قصور وار

1993 میں پلازہ تھیڑ کی عمارت بم دھماکوں کے بعد
بھارت کی ایک خصوصی عدالت کے جج نے پیر کے روز ملکی تاریخ کے طویل ترین مقدمہ’ پلازہ تھیٹر بم دھماکہ کیس‘ میں دو مزید ملزمان اصغر مقادم اور شاہنواز قریشی کو قصور وار قرار دے دیا ہے۔

انیس سو ترانوے میں ہونے والے اس بم دھماکے میں دونوں ملزمان کو عدالت نے دھماکہ خیز مواد رکھنے کا مجرم تو قرار دیا ہے لیکن ان کی سزا کا تعین یہ کہتے ہوئے فی الوقت نہیں کیا کہ اس کا فیصلہ دیگر ملزمان کے ساتھ مقدمہ کے آخر میں کیا جائے گا۔

جسٹس پرمود دتاتریہ کوڈے نے انڈیا کی تاریخ کے سب سے طویل مقدمہ کا فیصلہ بارہ ستمبر سے سنانا شروع کیا تھا اور اب تک عدالت سات ملزمان کو قصوروار قرار دے چکی ہے اور تین کو ناکافی ثبوت کی بنا پر بری کیاہے۔

اصغر مقادم اور شاہنواز قریشی پر الزام ہے کہ انہوں نے دادر میں واقع پلازہ تھیٹر پر دھماکہ خیز مواد سے بھری کار کھڑی کی تھی۔

مشہور فلمساز وی شانتا رام کے اس تھیٹر میں ہونے والے دھماکے میں دس افراد ہلاک اور چھتیس زخمی ہوئے تھے۔

’سی بی آئی‘ کے مطابق اصغر مقادم، ٹائیگر میمن کا بزنس مینیجر تھا اور پولیس نے دھماکہ کے فورا بعد انہیں گرفتار کیا تھا۔

اصغر مقادم نے جو اقبالی بیان دیا اس میں انہوں نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار شعیب گھنسار ، پرویز شیخ انور تھیبہ اور مشتاق ترانی کے ساتھ شہر کی تین بڑی ہوٹلوں میں دھماکہ خیر مواد سے بھرے سوٹ کیس پہنچائے تھے۔

انہوں نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ جب وہ واپس ماہم کی الحسینی بلڈنگ پہنچے تو انہیں ٹائیگر میمن کے اہم سرغنہ جاوید چکنا نے ’آر ڈی ایکس‘ سے بھری ماروتی کار دی کہ وہ اسے شاہنواز کے ساتھ جا کر پلازہ تھیٹر کے پاس کھڑی کرے۔

اصغر پر اس کے علاوہ شیکھاڑی کے ساحل پر اسلحہ اتارنے اور اسے شہر میں پہنچانے کا بھی الزام تھا۔

لیکن جسٹس کوڈے نے ان پر بم رکھنے کا جرم ثابت ہونے کا حکم سنایا ہے اور قرار دیا ہے کہ ان پر اسلحہ اتارنے اور پاکستان جا کر تربیت لینے یا دبئی میں سازش کا جرم ثابت نہیں ہو سکا۔

اس عدالت نے گزشتہ جمعہ کو زویری بازار میں بم رکھنے کے الزام میں ایک ملزم شعیب گھنسار کو قصوروار قرار دیا تھا۔ شعیب نے عدالت سے رحم کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک عزت دار خاندان کا فرد ہے اس کی بوڑھی ماں ہے اور ایک لڑکی گزشتہ تیرہ برس سے اس کی واپسی کی منتظر ہے اور وہ ان سے رہائی کے بعد شادی کر سکے گا۔

سرکاری وکیل اجول نکم کا کہنا ہے کہ وہ بم نصب کرنے والے تمام ملزمان کے لیے عدالت سے موت کی سزا کا مطالبہ کریں گے۔ جیسا کہ ان کے بقول انہوں نے میمن خاندان کے قصوروار ملزمان کے لیے کیا ہے۔

عدالت نے اب تک ٹائیگر میمن کے بھائی یوسف میمن ، عیسیٰ میمن ، یعقوب میمن اوران کی بھابھی روبینہ میمن کے بعد شعیب گھنسار کو مجرم قرار دیا ہے۔

اس مقدمہ میں نامزد ملزمان کی تعداد 123 ہے اور ایک ہفتہ میں صرف گیارہ ملزمان کی قسمت کا فیصلہ ہو سکا ہے اور قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اس کارروائی کو مکمل ہونے میں شاید مزید دو ماہ کا وقت لگے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد