سنجے دت کے بعد متعدد اپیلیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پروبیشن آف اوفینڈر ایکٹ کے تحت جب سے بالی ووڈ سٹار سنجے دت نے عدالت میں اپیل داخل کی ہے، تب سے انیس سو ترانوے بم دھماکوں کے مقدمے کا رخ ہی بدل گیا ہے۔ عدالت کے سامنے درجنوں سزایافتہ قیدیوں نے اپیلیں کی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ایک ہی عدالت میں ایک مجرم کے ساتھ نرمی اور دوسروں کے ساتھ سختی کیوں برتی جا رہی ہے۔ جس روز سے سنجے دت کی اپیل عدالت میں داخل ہوئی ہے تب سے دیگر سزایافتہ لوگوں کے رشتہ داروں نے عدالت کے باہر مظاہرے شروع کر دیے ہيں اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح سنجے دت پر سے ٹاڈا ہٹا دیا گیا اور انہیں صرف اسلحہ قانون کا مجرم قرار دیا گیا اسی طرح دیگر مجرمین کے مقدموں پر بھی نظر ثانی کیا جانا چاہیے۔ بم دھماکوں کے مقدمے کے 68 مجرمین اس وقت آرتھر روڈ جیل میں قید ہیں۔ انہوں نے ٹاڈا عدالت میں ایک اپیل داخل کی ہے۔ مجرم ذاکر حسین منا عرف منوج کمار گپتا، آصف شیخ، شاہنواز شیخ کے علاوہ دیگر نے عدالت کے سامنے اپیل کی ہے جسے عدالت نے سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے اور اس پر سماعت بارہ مارچ کو ہوگی۔ چھبیس صفحات پر مشتمل اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ وہ پیشہ ور مجرم نہیں ہیں۔ بابری مسجد کے انہدام، اس کے بعد پولیس کا جانب دارانہ رویہ، فسادات کے دوران مسلمانوں پر ہونے والے مظالم نے انہیں ان دھماکوں کا حصہ بننے پر مجبور کیا تھا لیکن ان میں سے بیش تر کا یہ دعوی ہے کہ انہیں پتہ نہیں تھا کہ آخر کیا ہونے والا ہے، کیونکہ وہ کسی سازش کا حصہ نہیں تھے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ عدالت انہیں ٹاڈا کے تحت الزامات سے بری کرے اور انہیں بغیر کسی شرط کے ذاتی مچلکہ پر رہا کیا جائے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ عدالت ان کے مقدموں پر نظر ثانی کے لیے ایک کمیٹی مقرر کرے جو دو ہفتوں کے اندر رپورٹ پیش کر دے۔
مجرمین کا کہنا ہے کہ وہ بھی سنجے دت کی طرح چونکہ کوئی پیشہ ور مجرم نہیں ہیں اس لیے ان کے لیے بھی پروبیشن افسر مقرر کیا جائے جو ان کے اخلاق کی رپورٹ عدالت میں پیش کرے اور اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو اس کیس کی از سر نو سماعت ہو اور ان پر سے ’ٹاڈا‘ ہٹا کر ان پر تعزیرات ہند اور اسلحہ قانون کے دفعات کےتحت مقدمہ چلایا جائے۔ اس سے قبل 69 مجرمین نے اسی طرح کی عرضی عدالت میں داخل کی تھی۔ سینئر ایڈوکیٹ عباس کاظمی کا کہنا تھاکہ یہ عدالت پر منحصر ہے کہ وہ ان عرضیوں کو کتنی اہمیت دیتی ہے لیکن اگر عدالت نے ان پر ایک بار پھر بحث کی اجازت دے دی تو فیصلے کا رخ مڑ سکتا ہے۔ دت کا کیس دت کی اس اپیل کے بعد ان کے دوست اور فلمساز سمیر ہنگورا، بابا موسی چوہان جنہوں نے ان کے گھر اسلحہ پہنچایا عدالت سے کہا کہ ان کی سزا کے تعین پر ان کے وکلاء اس وقت بحث کریں گے جب وہ دت کے وکلاء کی بحث سن لیں۔ لیکن عدالت نے اس پر ہفتوں دونوں فریقین کے وکلاء کی بحث سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھا اور یہ بھی کہا کہ سنجے دت کے بارے میں فیصلہ تمام ملزموں کو سزا کی مدت سنانے کے بعد دیا جائے گا۔ اب سب کو بارہ مارچ کا شدت کے ساتھ انتظار ہے اور یہی وہ دن ہے جب چودہ سال قبل ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں سے لرز گیا تھا۔
عدالت میں ایک سو تیئس ملزموں پر مقدمہ چلا۔ عدالت نے ان میں سے سو کو مجرم قرار دیا اور تیئس کو الزامات سے بری کر دیا۔ ان میں سے 48 ملزم بم دھماکہ کی سازش میں ملوث قرار دیے گئے۔ بارہ کو بم نصب کرنے کا قصوروار اور سولہ کو پاکستان جا کر تربیت لینے کا مجرم قرار دیا گیا۔ چار ملزمان کو صرف اسلحہ قانون کی خلافورزی کا مرتکب قرار دیا گیا۔ سات ملزمان کو ٹاڈا اور اسلحہ دونوں قوانین کے تحت مرتکب پایا گیا۔ دس کے خلاف عدالت میں دہشت گردی کا ساتھ دینے اور بم دھماکہ کرنے میں مدد کرنے کا جرم ثابت ہوا۔ سنجے دت سمیت دس ملزمان پر سے ٹاڈا کا قانون ہٹا کر انہیں صرف اسلحہ قانون کے تحت جرم کا مرتکب قرار دیا گیا۔ آٹھ پولیس اہلکار اس کیس کے ملزم تھے جن میں سے پانچ کو مجرم قرار دیا گیا۔ اسی طرح کسٹم کے تمام پانچ کسٹم افسران کو عدالت نے مجرم گردانا ہے۔ اس وقت نوے قیدی جیل میں ہیں اور دس ضمانت پر رہا ہیں۔ |
اسی بارے میں سنجےدت کی پیشی28 November, 2006 | انڈیا سنجے دت کو مجرم قرار دے دیا گیا28 November, 2006 | انڈیا امرتسر میں سنجے دت کے لیے دعائیں 16 November, 2006 | انڈیا سنجے دت پر فیصلہ دیوالی کے بعد18 October, 2006 | انڈیا سنجے دت کیس کا فیصلہ متوقع16 October, 2006 | انڈیا بم دھماکہ کیس کے ملزم سنجے دت 10 August, 2006 | انڈیا سنجے دت اور ابو سالم عدالت میں09 December, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||