سنجےدت کی پیشی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ کافی دنوں سے سنجے دت کےمقدمے کے حوالے سے یہ قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں کہ فلم اداکار سنجے دت ٹاڈا کورٹ سے بری ہوں گے یا نہیں۔ ممبئی میں اس کے تذکرے کچھ زیادہ ہی تھے، یہی وجہ ہے کہ منگل کے روز جب سنجے دت عدالت پہنچے توذرائع ابلاغ کا جیسے سیلاب امنڈ پڑا ہو۔ سنجےدت ایک فلم اسٹار ہیں لیکن ان کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا جو دوسرے ملزموں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ٹاڈا عدالت آرتھر روڈ جیل کے احاطے میں ہی لگتی ہے۔ سنجے دت جب جیل پہنچےتو انہوں نے جینز اور شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ انکی پیشانی پرپوجا کا نشان نمایاں تھا۔ لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ کیا سوچ رہے تھے۔ جج کی آمد سے قبل مسٹردت نے کورٹ سے باہر آکر ایک سگریٹ پیا اور صحافیوں سے بات چیت بھی کی۔ سنجے دت 'ملزم نمبر 117 ، کو بلانے سے پہلے جج پی ڈی کونے نے دو دیگر ملزموں کومجرم قرار دیا اور پھر سنجے دت کو کٹہرے میں کھڑے ہونے کو کہا۔ کورٹ روم صحافیوں سے بھرا ہوا تھا اور جب سنجے دت کا نام پکارا گیا تو ایسا لگا جیسے سب پر سکتہ طاری ہوگیا ہو۔ سنجے دت کا سرکبھی جھکا ہوتا تو کبھی وہ جج کو دیکھ رہے ہوتے۔ انکے چہرے پربےصبری اور بے چینی کے آثار تھے۔ جب دہشت گردی اورسازش کے الزام سے انہیں بری کیا گيا تو ان کے چہرے پر کچھ تاثرات نمایاں ہوئے اور عدالت میں موجود سبھی نے یہ سوچا کہ سنجے دت اب آزاد ہو جائیں گے۔ لیکن اسی دوران جج نے انہیں غیر قانونی طور ہتھیار رکھنے کا مجرم ٹھہرادیا۔ یہ سن کر سنجے دت زرا جھنجھلاۓ اور ایسا لگا کہ وہ جج سے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ جیسے فیصلہ ختم ہوا سنجے کہنے لگے کہ ' میں اپنے خاندان میں کمانے والا واحد فرد ہوں، ۔ یہ کہتے ہی جج نے انہیں خاموش رہنے کی ہدایت کی اور کہا کہ انہیں موقع دیا جائیگا۔ 'مجھے آپکو نہیں سننا ہے۔ اب جو ہونا تھا ہوگیا میں آپکی بات پھر سنوں گا۔، بعد میں انہیں انیس دسمبر تک ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ سنجے دت کے بعض دوست انہیں دوبارہ جیل کی دہلیز پر دیکھ کرمایوس ہوئے ہیں۔ آشا بھوسلے نے کہا کہ ' مجھے پورا یقین ہے کہ سنجے دت غدار نہیں ہوسکتے۔، اداکار چنکی پانڈے نے کہا کہ ٹی وی پر فیصلہ سن کر ' مجھے رونا آگیا۔، ہدایت کار تنوجا چندرا نے کہا کہ سنجے دت کسی بھی صورت میں دہشت گرد نہیں ہوسکتے۔ 'وہ کبھی دہشت گردانہ حرکت نہیں کرسکتا وہ اس طرح کا آدمی ہی نہیں ہے کہ کسی طرح کی سازش رچ سکے۔، ممبئی میں عام لوگ بھی اس بات سے خوش ہیں کہ سنجے دت کو دہشت گردی کے الزامات سے بری کردیا گیا ہے۔ اس مقدمے کی سماعت اور فیصلے کے انتظار میں سنجے نے کچھ دنوں سے اپنی تمام فلمی شوٹنگ منسوخ کر رکھی تھیں اور وہ اکثر مندر کی زیارت کیا کرتے تھے۔ فیصلے کے لیے تیرہ برس انتظار کرنا پڑا ہے اور سنجے دت کے ساتھ ساتھ ان کے حامی اور مخالفین سب کے لیے یہ طویل انتظار ثابت ہوا ہوگا۔ | اسی بارے میں سلمان کی گرفتاری، بالی وڈ پر سکتہ 10 April, 2006 | انڈیا بم دھماکہ کیس کے ملزم سنجے دت 10 August, 2006 | انڈیا سنجے دت کیس کا فیصلہ آج؟27 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||