سنجے دت کیس کا فیصلہ آج؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا میں ایک خصوصی عدالت منگل کے روز متوقع طور پر سنہ انیس سو ترانوے میں ہونے والے بم دھماکوں کے اس مقدمے کا فیصلہ سنا رہی ہے جس میں بالی وڈ کے سٹار سنجے دت بھی ملزم ہیں۔ خصوصی جج پی ڈی کوڈے نے سنجے دت کو منگل کے روز عدالت میں حاضر رہنے کا حکم دیا ہے۔سنجے دت اس کیس کے ملزم نمبر ایک سو سترہ ہیں اور ان پر ٹاڈا اور اسلحہ قانون کے تحت ممنوعہ علاقہ میں اے کےرائفل رکھنے کا الزام ہے۔ بارہ ستمبرکو عدالت نے بم دھماکہ کیس کے ملزمان کا فیصلہ سنانا شروع کیا تھا اور اس وقت سے سنجے دت نے ایک طرف پارٹیوں میں شرکت بند کر دی تھی تو دوسری طرف کئی فلموں کی دن رات شوٹنگ کر کے انہیں مکمل کرنے کی کوشش کی جس میں شوٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈوالا بھی شامل ہے۔ سنجے دت پر ساٹھ کروڑ روپے داؤ پر فلمی تجزیہ نگار امود مہرہ نے بی بی سی کو بتایا کہ سنجے دت پر اس وقت بالی وڈ کے تقریبا ساٹھ کروڑ روپے داؤ پر ہیں۔ انہوں نے سنجے کی تعریف کی کہ ان حالات میں بھی انہوں نے چند فلمیں مکمل کر لیں اور چند کی ڈبنگ کو پورا کیا تاکہ فلمسازوں کا نقصان نہ ہو۔ سنجے نے چند فلموں کی شوٹنگ جان بوجھ کر شروع نہیں کی تھی کیونکہ وہ فلمسازوں کو نقصان پہچانا نہیں چاہتے تھے۔ سنجے دت کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر سنجے دت کو سزا ہو جاتی ہے تو کم سے کم فلمسازوں کے پاس کسی دوسرے اداکار کو لینے کا موقع تو باقی رہے گا۔ سنجے دت جب پہلے گرفتار ہوئے تھے اس وقت وہ کامیابی کی بلندیوں پر تھے ان کی فلم ’کھلنائیک‘ بہت مقبول ہوئی تھی اور اب جب ایک بار پھر انہیں عدالت کا سامنا کر نا ہے تو اس وقت بھی ان کی فلم لگے رہو منا بھائی نے ریکارڈ توڑ کامیابی حاصل کی۔ سنجے پر سیاسی پارٹیوں کی نظریں سنجے دت کی بہن پریہ دت اس وقت کانگریس پارٹی کی ممبر پارلیمنٹ ہیں اور اسی لئے سنجے دت کے عدالتی فیصلہ پر ملک کی حزب اختلاف پارٹیوں کی نظریں ہیں۔ مہاراشٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر کا کہنا تھا کہ اگر سنجے دت کو سزا ہوتی ہے توان کی پارٹی پریہ دت سے اخلاقی بنیادوں پر استعفے کا مطالبہ ضرور کرے گی۔ سنجے دت کا کیس جب انہیں ممبئی بم دھماکوں اور اس کے بعد ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے بارے میں پتہ چلا اس وقت سنجے دت ماریشس میں شوٹنگ کر رہے تھے۔اس لئے انہوں نے مبینہ طور پر اپنے ساتھیوں یوسف نل والا، کیرسی اڈجانیا ، روسی مہتہ اور اجے مارواہ کو وہ رائفل تباہ کرنے کے لئے کہا۔ ماریشس سے واپسی پر پولس نے سنجے دت کو ایئر پورٹ سے ہی گرفتار کر لیا تھا۔ پہلے سنجے دت نے رائفل کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی لیکن جب پولس نے انہیں ان کے دوستوں سمیر ہنگورا کا بیان پڑھ کر سنایا تو سنجے نے مبینہ طور پر اقرار کر لیا۔ سنجے کو قید کر لیا گیا اور انہوں نے اٹھارہ ماہ جیل میں گزارے لیکن انہوں نے عدالت میں اپنے اقبالی بیان سے انحراف کر لیا اور کہا کہ ان پر دباؤ ڈال کر بیان ریکارڈ کرایا گیا تھا۔ عدالت بارہ ستمبر سے ملزمان کا فیصلہ سنا رہی ہے اور اب تک عدالت نے ایسے پانچ افراد کو قصوروار قرار دیا جن کے پاس سے پولس نے اسلحہ برآمد کیا تھا۔عدالت نے ملزم منظور قریشی کو بھی مجرم قرار دیا جن پر الزام تھا کہ انہوں نے سنجے دت کے گھر سے واپس کئے گئے اسلحہ کو ایک دوسرے ملزم کے گھر پہنچایا تھا۔ سنجے دت کو اگر عدالت سے سزا ہوتی ہے تو انہیں سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا حق حاصل ہو گا۔ ایڈوکیٹ عباس کاظمی نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹاڈا عدالت سے سزا یافتہ ملزمان کو سیدھے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا ہوگا۔ | اسی بارے میں ابو سالم، سنجے دت اور پریا دت15 November, 2005 | انڈیا سنجے دت اور ابو سالم عدالت میں09 December, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||