ریحانہ بستی والا بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، ممبئی |  |
 | | | سنجے دت کے خلاف دھماکہ کی سازش، اسلحہ ایکٹ کے تحت کیس درج ہے |
خصوصی ٹاڈا عدالت نے فلم اسٹار سنجے دت کو اٹھارہ اکتوبر کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہ عدالت 1993 میں ہونے والے ممبئی کے بم دھماکوں کی سماعت کر رہی ہے۔ سنجے دت پر بم دھماکہ کی سازش، اسلحہ ایکٹ کے تحت کیس درج ہے۔ ایک سو تئیس ملزمان میں سنجے دت 117ویں ملزم ہیں۔ سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن ( سے بی آئی ) نے ان پر اے کے 56 رائفل رکھنے اور پھر تمام ثبوت مٹانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ سی بی آئی کے مطابق فلم اسٹار سنجے دت پر الزام ہے کہ ان کے بنگلہ پر مافیا سرغنہ ابو سالم کچھ لوگوں کے ساتھ ایک جیپ میں پہنچے تھے جس میں اسلحہ تھا۔ سنجے دت نے مبینہ طور پر ابو سالم سے اسلحہ اور ہینڈ گرینیڈ لیے لیکن پھر صرف ایک اے کے 56 رائفل کے سوا واپس دے دیے۔ پولس نے سنجے دت کی خود سپردگی کے بعد انہیں گرفتار کرلیا تھا اور اٹھارہ ماہ جیل کے بعد سپریم کورٹ سے ضمانت پر رہا کیا تھا۔ عدالت گزشتہ ماہ بارہ سمتبر سے انیس سو ترانوے بم دھماکوں کا فیصلہ سنا رہی ہے۔ عدالت نے اب تک 59 ملزمان کے بارے میں فیصلہ سنایا ہے جن میں سے 43 کو قصوروار قرار دیا اور 16 کو رہائی مل چکی ہے۔ عدالت ہر روز چند ملزمان کا فیصلہ سنا رہی ہے اس لیے صرف انہی ملزمان کو طلب کیا جاتا ہے جن کا فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ اس لیے عدالت کے حکم کے بعد اب یہی طے ہے کہ اٹھارہ اکتوبر کو سنجے دت کی قسمت کا فیصلہ ہو گا۔ سنجے دت کے وکیل ستیش مانے شندے اور فرحانہ شاہ ہیں۔ ٹاڈا قانون میں اسلحہ رکھنے کا الزام اگر ثابت ہو جائے تو ملزم کو پانچ سال سے عمر قید کی سزا تک ہو سکتی ہے۔ سنجے دت انڈین فلم انڈسٹری کے نامور اداکار ہیں اور حال ہی میں ان کی فلم لگے رہو منا بھائی نے کامیابی کے کئی ریکارڈ توڑے ہیں۔ ان کی فلم آسکر ایوارڈ کے لیے بھی بھیجی گئی ہے۔ |