’دیوداس والد سے متاثر ہوکر بنائی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی کا کہنا ہے کہ انہوں نے فلم ’دیوداس‘ کا مرکزی کردار اپنے والد سے متاثر ہو کر تخلیق کیا تھا۔ انہوں نے یہ بات بی بی سی ورلڈ کے دستاویزی پروگراموں کے سلسلے ’بالی ووڈ باسز‘ کے لیے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔ سنجے لیلا بھنسالی پر بنائے گئے دستاویزی پروگرام میں ان کی فلم ’ہم دل دے چکے صنم‘ کے ہیرو سلمان خان اور موسیقار اسماعیل دربار کے علاوہ کئی نامور فلمی ناقدین کے خصوصی انٹرویو بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے کے دیگر پروگراموں میں ’کبھی خوشی کبھی غم‘، ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ اور ’کل ہو نا ہو‘ کے ہدایت کار کرن جوہر، ’سلسلہ‘، ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ اور ’دل تو پاگل ہے‘ کے تخلیق کار یش چوپڑا اور ’کہو نا پیار ہے‘ اور ’کوئی مل گیا‘ کے ہدایت کار راکیش روشن کے فنی سفر کا جائزہ لیا جائے گا۔ اپنے خصوصی انٹرویو میں سنجے لیلا بھنسالی نے کہا کہ ان کی ماں کے پاس شراب کی وہ آدھی بوتل اب تک محفوظ ہے جو مرتے وقت میرے باپ کے ہاتھ میں تھی۔ ’مجھے دیوداس کے لیے اسی بات سے تحریک ملی۔ میرے والد کو شراب پسند تھی۔ وہ اس سے مکمل طور پر لطف اندوز ہوتے تھے اور اس معاملے میں وہ بالکل دیوداس جیسے تھے۔‘ ’دیوداس کے ذریعے میں نے اپنے والد کو خراج تحسین پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں نے انہیں ان کو شراب کی عادت اور پیار کو بہت رومانوی انداز میں پیش کر کے خراج تحسین پیش کیا ہے۔ یہ میرے لیے انتہائی ذاتی فلم ہے باوجود اس کے کہ میں نے اسے لکھا نہیں۔‘ فلمی ناقدین کا کہنا ہے کہ ’دیوداس‘ ہی نہیں سوانحی عناصر سنجے لیلا بھنسالی کی باقی دو فلموں میں جابجا نظر آتے ہیں۔ سنجے لیلا بھنسالی کے والد نوین بھنسالی بھی ایک فلمساز جبکہ والدہ ایک ڈانسر تھیں اور سنجے کے مطابق ان کی شہرت کا خیال رکھنا اور لوگوں کی توقعات پر پورا اترنا ان کے لیے ایک چیلنج تھا۔ ’ہم ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتے تھے اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میری ماں جب بھی خوش ہوتیں، وہ ریڈیو کی آواز اونچی کرکے ڈانس کرنا شروع کر دیتیں۔ میری ماں ایک خوبصورت ڈانسر تھیں اور مجھے اس بات کا ہمیشہ دکھ ہوتا تھا کہ کاش میری ماں کے پاس ڈانس کرنے کے لئے زیادہ جگہ ہوتی۔‘ ’بچپن کی اس بات پر مجھ پر بہت اثر ہوا اور جب میں نے فلمیں بنانا شروع کیا تو میری ہمیشہ خواہش ہوتی کہ گانوں کی پکچرائزیشن اور ڈانس کے لئے بڑے بڑے سیٹ بناؤں۔‘ (’بالی ووڈ باسز‘ بی بی سی ورلڈ پر سنیچر کو گرینج کے معیاری وقت کے مطابق سہ پہر ساڑھے چار بجے اور پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رات ساڑھے نو بجے نشر کیا جاتا ہے۔) |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||