’تارے زمیں پر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی وڈ میں بچوں کے لیے فلمیں بہت کم بنتی ہیں اور جو بن چکی ہیں وہ زیادہ تر تفریحی رہی ہیں۔ بچوں کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنے جیسی کوئی فلم بنانے کی کسی بھی فلمساز نے ہمت ہی نہیں کی۔ پہلی مرتبہ بالی وڈ سٹار عامر خان ایک ایسی فلم لے کر ناظرین کے سامنے آ رہے ہیں جسے آپ بچوں کی فلم تو کہہ سکتے ہیں لیکن صحیح معنوں میں یہ فلم بڑوں کے لیے ہے جو انہیں ان کے بچوں کے مسائل کو بخوبی سمجھنے میں مدد کرے گی۔ فلم ’تارے زمین پر‘ اداکار عامر خان کی بہ حیثیت ہدایت کار پہلی فلم ہے۔ بی بی سی سے ایک خصوصی ملاقات میں عامر خان نے بتایا کہ فلم بنانے کا فیصلہ انہوں نے کیوں کیا اور پھر اس فلم کے ذریعے وہ والدین کو کیا پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عامر کہتے ہیں کہ انہیں اس فلم کا سکرپٹ بہت پسند آیا تھی۔تین سال قبل امول گپتے ان کے پاس اس فلم کی کہانی لے کر آئے تھے اور انہیں یہ کہانی بہت پسند آئی تھی، اس لیے اسی وقت انہوں نے اس فلم کو بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
عامر کے لیے مشہور ہے کہ وہ بہت کم فلمیں کرتے ہیں اور جو بھی کرتے ہیں وہ ہمیشہ منفرد سکرپٹ پر مبنی ہوتی ہیں۔عام روش اور موضوع سے ہٹ کر اس کہانی کو منتخب کرنے پر عامر کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے انفرادیت کے حامی رہے ہیں۔ ان کی فلم ’لگان‘ ایک ایسے وقت میں آئی جب کھیل پر کوئی بھی فلم نہیں بناتا تھا۔اس کے بعد فلم’منگل پانڈے ‘ ایک تاریخی فلم تھی اس کے بعد انہوں نے فلم’ فنا‘ میں کام کیا جس میں کشمیریوں کے مسائل کو خوبصورتی کے ساتھ اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔اس کے بعد’ رنگ دے بسنتی‘ یہ سب فلمیں عام روش سے الگ تھیں۔ فلم کا نام ’تارے زمین پر‘ کس نے دیا اس کے بارے میں عامر کا کہنا تھا کہ انہیں اچھی طرح یاد نہیں لیکن شاید امول گپتے اور سلمان خان نے یہ نام رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔ عامر اپنی آنے والی فلم میں تین رول ادا کر رہے ہیں۔ وہ اس فلم کے فلمساز بھی ہیں اور ہیرو بھی۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ اس فلم کی ہدایت بھی دے رہے ہیں۔ عامر کے مطابق انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ جس فلم میں کام کریں گے اس کی ہدایت نہیں دیں گے کیونکہ وہ ایک وقت میں ایک ہی کام کرنا چاہتے تھے لیکن حالات ایسے ہوئے کہ انہیں دونوں کام کرنے پڑے۔
عامر کے مطابق فلم کے آغاز میں ہی ان کے اور گپتے کے درمیان تخلیقی اختلاف پیدا ہو گیا تھا اس لیے انہوں نے کام رکوا دیا تھا۔ پوری رات وہ سوچتے رہے اور بعد میں انہوں نے فلم کو خود ڈائریکٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ عامر کے مطابق دوسروں کو ہدایت دینا آسان ہوتا ہے لیکن خود کو ڈائریکٹ کرنا بہت ہی مشکل۔شاید اسی لیے عامر فلم میں انٹرول سے صرف کچھ دیر پہلے ہی نظر آتے ہیں۔ فلم کی کہانی ان بچوں کے مشکل حالات کی عکاسی کرتی ہے جو کسی بھی بات کو جلد یاد نہیں کر پاتے یا ان کا ذہن اسے بہت جلد قبول نہیں کر پاتا ہے۔ایسے بچے اکثر پڑھائی میں کمزور کہلاتے ہیں اور پھر ایسے حالات میں ان کے ٹیچر اور والدین سے انہیں پھٹکار ملتی ہے۔ فلم میں عامر نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اس مشکل حالات سے دنیا کے کئی بڑے نامور انسان گزر چکے ہیں۔عامر کہتے ہیں کہ ان کی یہ فلم ان والدین اور اساتذہ کے نظریات کو بدل کر رکھ دے گی جو بچوں کو مار پیٹ کے ذریعے تعلیم دینا چاہتے ہیں۔ فلم کی شوٹنگ مہاراشٹر کے پہاڑی علاقہ پنچگنی کے نیو ایرا سکول میں ہوئی ہے۔عامر کے لیے بچوں کے ساتھ شوٹنگ کرنا کتنا مشکل یا کتنا آسان تھا؟ عامر کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ شوٹنگ میں مزہ آیا۔ عامر کے مطابق ہر انسان میں ایک بچہ ہمیشہ موجود رہتا ہے اور یہ انہوں نے فلم ڈائریکٹ کرتے وقت محسوس بھی کیا۔لیکن سیٹ پر ان کی بیوی کرن راؤ بچوں میں ڈسپلن برقرار رکھنے کے لیے موجود رہتی تھیں۔اس فلم میں آٹھ سے دس سال کے بچے ہیں اور زیادہ تر بچے اُسی سکول کے ہیں جہاں شوٹنگ ہوئی ہے۔ عامر نے فلم ’یادوں کی بارات‘ میں چھوٹا سا رول کیا تھا۔عامر کی نظر میں اس فلم کا آٹھ سالہ بچہ درشیل سفاری بہتر اداکار ہے اس میں اداکاری کی خوبیاں بھری ہوئی ہیں۔ فلم میں عامر نے کئی نئی تیکنیک کا سہارا لیا ہے۔ اس میں کلیمیشن تیکنیک کا استعمال کیا گیا ہے۔یعنی کوئی بھی شبیہہ مٹی سے بنائی جاتی ہے پھر اینیمیشن کیا جاتا ہے۔عامر چاہتے تھے کہ بچوں کی اس فلم میں کوئی نیا تجربہ کیا جائے جس سے بچے اسے دیکھتے ہوئے انجوائے کریں۔
فلم کا ہیرو آٹھ سالہ بچہ درشیل سفاری ہے فلم میں اس کا نام ایشان ہے۔یہ بچہ پڑھائی میں کمزور ہے لیکن اسے ڈرائنگ اور مصوری میں دلچسپی ہے اور عامر اپنی فلم میں ایک ایسے استاد کو کردار کر رہے ہیں جو بچوں کا ساتھی بن کر انہیں تعلیم دینے پر یقین رکھتا ہے۔ فلم’تارے زمین پر‘ اکیس دسمبر کو نمائش کے لیے پیش ہو گی اور اس کے ساتھ ہی انیس بزمی کی کامیڈی ملٹی سٹار فلم ’ویلکم‘ بھی ریلیز ہو رہی ہے۔ عامر کہتے ہیں کہ دونوں فلموں کا موضوع الگ ہے اس لیے مقابلے کی بات ہی نہیں ہے البتہ عامر اس وقت بہت فکرمند ہیں اور اسی لیے انہوں نے سگریٹ پینا بھی شروع کر دیا ہے۔ عامر کے مطابق سگریٹ سے ٹینشن سے کچھ راحت مل جاتی ہے لیکن اکتیس دسمبر سے وہ سگریٹ پینا چھوڑ دیں گے۔ عامر اس فلم کے بعد فلم ’گجنی‘ پر کام کر رہے ہیں۔ جنوبی ہند کی اس فلم کا ری میک بنایا جا رہا ہے اس میں عامر ایک الگ روپ میں نظر آئیں گے۔ سال میں صرف ایک فلم کرنے پر عامر کہتے ہیں کہ حالانکہ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہر چھ ماہ میں ایک فلم دیں گے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ اس فلم کو بنانے میں انہیں کافی وقت لگ گیا۔گجنی کے علاوہ عامر کی پروڈکشن کمپنی فلم’جانے تو یا جانے نا‘ بنائے گی جس میں وہ اپنی بہن کے بیٹے عمران کو لانچ کر رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’رنگ دے بسنتی‘ آسکرز سے باہر17 January, 2007 | فن فنکار ’رنگ دے بسنتی ایک خاص فلم ہے‘26 September, 2006 | فن فنکار عامر کی ’فنا‘ کی نمائش کھٹائی میں 23 May, 2006 | فن فنکار ’پاکستان میں فلم بنانا چاہتا ہوں‘10 May, 2006 | فن فنکار فضائیہ نے رنگ دے بسنتی’اوکے‘ کردی11 January, 2006 | فن فنکار منگل پانڈے لوکارنوفیسٹیول میں 14 July, 2005 | فن فنکار بالی وڈ: اب ستارے گیت بھی گائیں گے28 April, 2005 | فن فنکار شہزادہ چارلس، عامر خان اور بھارتی فلم04 November, 2003 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||