نادیہ پرویز بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی |  |
 | | | اوم شانتی اوم میں سلمان خان نے پہل بار شرٹ اتار دی ہے |
پہلے ’اوم شانتی اوم‘ یا پھر ’سانوریا‘؟ آج شاید ہندوستان کے سبھی فلم شایقن کے ذہن میں یہ سوال گھوم رہا ہوگا۔ یوں تو ہر برس دیوالی کے تہوار پر سال کی سب سے بڑی فلم ریلیز ہو تی ہے لیکن اس مرتبہ ہندی فلم انڈسٹری اس موقع پر فلم شائقین کے لیے دو دو فلموں کا تحفہ پیش کر رہی ہے۔ ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی کی ’سانوریا‘ اور ہدایت کار فرح خان کی ’اوم شانتی اوم‘ کا گزشتہ دو مہینے سے زبردست پروموشن جاری ہے۔ دونوں ہی فلموں کے ٹی وی پروموشن تو عام بات ہے لیکن اس مرتبہ پروموشن کیمپینرز نے چھوٹے پردے یعنی ٹی وی کا سہارا لیا ہے۔ چاہے وہ میوزکل شو ہو یا پھر سلبرٹیز کے ڈانس مقابلے، ان تمام پروگراموں ميں ان فلموں کے اداکاروں نے شرکت کر کے پروگرام کی ریٹنگ تو بڑھائی ہی، ساتھ ہی ساتھ اپنی فلم کی بھی دل کھول کر پروموشن کی۔ ’بلیک‘ اور ’ہم دل دے چکے صنم‘ جیسی فلموں کے خالق سنجے لیلا بھنسالی کی فلم سانوریا ایک نوجوان جوڑے کی محبت کی کہانی ہے۔ اس فلم میں راج کپور کے پوتے اور رشی کپور اور نیتو سنگھ کے بیٹے رنبیر کپور اپنے عشق کا اظہار انل کپور کی بیٹی سونم کپور سے کرتے ہوئے نظر آئيں گے۔ دونوں کی ہی یہ پہلی فلم ہے۔ فلم ناقد بھاؤنا سومایا نے بدھ کی شام سانوریا کاپرمیئر شو دیکھا ہے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ساتھ ایک خصوصی بات بات چیت میں بھاؤنا نے بتایا کہ ’دونوں بچوں نے بہترین کام کیا ہے۔ رنبیر اگلا سپر سٹار ہے اور سونم پھول کی طرح خوبصورت ہے۔ سونم وحیدہ رحمان اور ریکھا کی یاد دلاتی ہیں۔‘  | | | سونم وحیدہ رحمان کی یاد دلاتی ہیں | فلم کے بارے میں بھاؤنا کا کہنا تھا کہ ’یہ فلم ایک رومانی نغمے کی طرح ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ فلم میں رانی مکھرجی اور سلمان خان کے کردار چھوٹے ضرور ہيں لیکن فلم میں ان کی کافی اہمیت ہے۔سونم کپور اور رنبیر کپور نے اداکاری سے پہلے تقریبا تین برس تک ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی کو اسِسٹ کیا ہے۔ سنجے نہ صرف ان لوگوں کو فلم سازی اور ہدایت کاری کے نسخے دیے بلکہ ان دونوں کی شخصیت کو نکھارنے میں بھی اہم کرادر ادا کیا۔ سنا ہے کہ اداکاری کی دنیا میں قدم رکھنے سے قبل سونم کا وزن اسی کلو تھا۔ اب بات فرح خان کی ’فلم اوم شانتی اوم‘ کی۔ لیکن اگر اس فلم کو شاہ رخ خان کی فلم کہيں تو غلط نہیں ہوگا۔ فلم 70 کی دہائی میں بالی وڈ کی دنیا پر مبنی ہے۔ شاہ رخ خان کی ہیروئن ٹاپ ماڈل دیپکا پاڈیکون ہیں۔ دیپیکا بیڈمنٹن کے مشہور کھلاڑی پرکاش پاڈیکون کی بیٹی ہیں۔ فلم سے قبل وہ کئی ٹی وی اشتہارات میں کام کر چکی ہیں اور ماڈلنگ کی دنیا میں اپنا مقام بنا چکی ہیں۔  | | | رانی مکھرجی اور سلمان خان کے کردار چھوٹے ضرور ہيں لیکن فلم میں ان کی کافی اہمیت ہے | فلم ناقد بھاؤنا سومایا کا اوم شانتی اوم کے بارے میں کہنا ہے کہ یہ فلم 70 کی دہائی پر مبنی ہے، وہ دور تھا لمبے بالوں کا ، بل بوٹمز کا۔ اس دور میں فلم میں جونئر آرٹسٹ کی ایک الگ اہمیت ہوتی تھی اور فرح خان انڈسٹری کے اسی پہلوں کو سامنے لے کر آئی ہیں۔فلم کے گانے تو پہلے سی ہی ہٹ ہیں اور شاہ رخ خان کے ’سکس پیک ایبز‘ (ورزشی جسم) کا چرچہ زور شور سے جاری ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب شاہ رخ نے کسی فلم کے لیے اپنی شرٹ اتاری ہے۔ یوں تو اس ٹرینڈ کی شروعات سلمان خان نے کی تھی لیکن اس کے بعد سبھی نئے پرانے اداکاروں نے یہ سلسلہ جاری رکھا۔ شاہ رخ کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ ’لک‘ اپنے بیٹے آرین کی وجہ سے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے نے ان سے اس بات کی شکایت کی کہ سکول میں بچے ان کے جسم کا مذاق اڑاتے ہیں۔ چاہے وہ بنا شرٹ والے شاہ رخ ہوں یا پھر رنبیر اور اور سونم کی کیمِسٹری یا پھر سنجے اور فرح کی ہدایت کاری، وجہ چاہے جو بھی ہو فلم شائقین کے لیے یہ سب سے اچھا موقع ہے کیوں کہ دیوالی کی خوشیوں کے ساتھ انہيں دو ایسی فلموں کا تحفہ مل رہا ہے جسے فلم ناقدین نے ریلیز سے پہلے ہی ہٹ قرار دیا ہے۔ |