BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 November, 2007, 18:03 GMT 23:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیمو کی زندگی، کردار جتنی ڈرامائی

اداکارہ شیمو
شیمو کا کردار ایک غریب لڑکی کا ہے
بنگلہ دیش کی تیرہ سالہ ٹی وی اداکارہ شیمو کی اصل زندگی ان کی پردے کی کہانی جتنی ہی ڈرامائی لگتی ہے۔

شیمو بنگلہ دیشی ٹی وی کے ایک ایسے ڈرامہ سیریل میں کام کرتی ہیں جس میں نہ صرف لڑکیوں کی تعلیم پر زور دیا گیا ہے بلکہ بچپن کی شادیوں کے مسئلے کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

جیسا کہ اس ڈرامے میں ان کے کردار کو مشکلات کا شکار دکھایا گیا ہے ان کی نجی زندگی بھی کچھ ایسے ہی مسائل کا شکار ہے۔ شیمو کو ڈرامے میں کام کرنے کا معمولی معاوضہ ملتا ہے اور یہ غربت ہی تھی جس کی وجہ سے انہیں سکول چھوڑنا پڑا تھا۔

شیمو پر وہ وقت بھی آیا جب ان کے والدین نے ان کے بچپن میں ہی بیاہنے کے لیے آبائی گاؤں بھیج دیا لیکن میڈیا میں ان کی کہانی کے سامنے آنے کے بعد وہ مقامی تنظیموں اور ایک بین الاقومی خیراتی ادارے کی مدد سے نہ صرف واپس آنے میں کامیاب ہوئی بلکہ وہ اب سکول بھی جاتی ہے اور ڈراموں میں کام بھی کرتی ہے۔

شیمو ٹوکائی نتیاڈول نامی سٹریٹ تھیٹر گروپ کے ان قریباً تیس بچوں میں سے ایک ہے جو اکثر دوپہر کو ڈھاکہ کے غریب ترین علاقے کی گلیوں میں مل بیٹھتے ہیں۔ ان بچوں میں سے بہت سے سکول کی فیس ادا رکنے کے قابل نہیں اور بہت سے جزوقتی کام کر کے اپنے والدین کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔

لیکن وہ سب ایک دن ٹی وی سٹار بننا چاہتے ہیں اور شیمو ان کی آئیڈیل ہے۔ شیمو جس ڈرامے میں کام کرتی ہے اس میں شیمو کا کردار ایک غریب لڑکی کا ہے جس کے والدین اسے سکول سے اٹھانا چاہتے ہیں تاکہ وہ شہر جا کر ملبوسات کے کارخانے میں کام کر سکے۔

یہی وہ ڈرامہ ہے جس نے شیمو کو شہرت دلوائی ہے لیکن یہ شہرت اس کی اصل زندگی میں موجود غربت اور تعلیم ادھوری رہ جانے کے خدشے کو ختم کرنے میں مدد گار ثابت نہیں ہو سکی ہے۔

’میں مزید پڑھنا چاہتی تھی لیکن میرے دادا مالی مشکلات کا شکار ہو گئے‘

شیمو کے والد کا انتقال اس کی پیدائش سے قبل ہو چکا تھا۔ اس کی ماں نے دوسری شادی کر لی اور اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اس کے دادا ، دادی پر آ پڑی۔ شیمو کی دادی عائشہ بی بی کا کہنا ہے کہ پیسہ ہمیشہ سے ہی ایک مسئلہ رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ’ ہم اسے سکول کے اخراجات پورے کرنے میں ناکام تھے اس لیے ہم نے اسے گھر واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس وقت ہمیں کچی بستی خالی کرنے کا حکم ملا تھا۔ ہمیں لگا کہ ہم تو سڑکوں پر رہ لیں گے لیکن ایک جوان لڑکی کا سڑکوں پر رہنا صحیح نہیں۔ اس لیے ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ ہم اسے واپس گاؤں بھیج دیں‘۔

شیمو کا کہنا ہے’میں مزید پڑھنا چاہتی تھی لیکن میرے دادا مالی مشکلات کا شکار ہو گئے اور وہ میری فیس ادا کرنے سے قاصر تھے۔ انہوں نے مجھے گاؤں واپس بھیج دیا۔ اور مجھے اپنا تھیٹر گروپ چھوڑ کر گھر جانا پڑا۔ لیکن یونیسف اور میرا گروپ میری مدد کو آئے اور مجھے اور میرے خاندان کو مالی مدد فراہم کی جس کی بدولت میں ڈھاکہ میں رہنے کے قابل ہوئی‘۔

شیمو مقامی تھیٹر میں کام کرنے والے بچوں کی آئیڈیل ہے

یونیسف اور ٹی وی ڈرامہ بنانے والی کمپنی شیمو کی پڑھائی کا خرچہ اٹھاتے ہیں اور وہ اپنے سکول کے قریب واقع کچی بستی میں رہتی ہے۔شیمو کا کہنا ہے’میں یہاں رہ کر بہت خوش ہوں کیونکہ میں یہاں سب کو جانتی ہوں اور سب مجھ جانتے ہیں‘۔

شیمو بنگلہ دیش کی ان بہت سی غریب لڑکیوں کی ترجمان ہے جو نہ صرف اخراجات کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہیں بلکہ پیسے کی یہی کمی ان کی شادی نہ ہونے کا سبب بھی بنتی ہے۔ شیمو کی دادی عائشہ بی بی کا کہنا ہے’میں اس کی شادی کرنا چاہتی ہوں لیکن ہمارے پاس جہیز کے لیے رقم موجود نہیں اور اب اگر کوئی بنا جہیز کے اس سے شادی کرنے کو تیار ہو تو تبھی شادی ہو سکتی ہے‘۔

تاہم شیمو کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کیریر اور تعلیم پر توجہ دینا چاہتی ہے اور ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔ لیکن وہ تسلیم کرتی ہے کہ شادی سے انکار پر قائم رہنا ایک مشکل کام ہے۔’ مجھ پر دباؤ ہے کہ میں شادی کر لوں۔ اور میرے گھر والے بھی جلد از جلد میری شادی کر دینا چاہتے ہیں۔ لیکن میں شکر گزار ہوں یونیسف کی اور اپنے تھیٹر گروپ کی جو میرے ساتھ ہیں۔ انہوں نے مجھے بچایا ہے اور انہی کی کوششوں کی وجہ سے میرے دادا دادی یہ بات ماننے کو تیار ہوئے ہیں کہ فی الحال شادی کا وقت نہیں ہے۔ اس وقت تو میں ایک مشہور اداکارہ بننا چاہتی ہوں‘۔

اسی بارے میں
جبری شادی کے قانون پر بحث
05 September, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد