’بنگلہ دیش: بہاریوں کوشہریت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے ایک سینئر اہلکار نےجمعرات کو بتایا ہے کہ چھتیس سال سے پاکستان منتقلی کے منتظر اردو بولنے مسلمان اور خود کو پاکستانی کہنے والے تیس لاکھ ’بہاریوں‘ میں سے نصف کو آئندہ انتخابات سے قبل بنگلہ دیشی شہریت دیے جانے کا امکان ہے۔ اردو بولنے والے یہ مسلمان انیس سو سینتالیس میں برطانوی نوآبادیاتی نظام کے خاتمے اور آزادی کے نتیجے میں ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے بعد ہندوستان کے مختلف علاقوں، خاص طور پر بہار سے ہجرت کر کے مشرقی پاکستان آباد ہوئے تھے۔ وزارتِ داخلہ کے اہلکار محمد محسن کا کہنا ہے کہ ’ہم ان ایک لاکھ چالیس ہزار بہاریوں کو بنگلہ دیشی شہریت دینے پر غور کر رہے جو یا تو بنگلہ دیش میں پیدا ہوئے ہیں یا ہمارے وفادار ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ باقی بہاری جنہیں ’پھنسے ہوئے‘ پاکستانی بھی کہا جاتا ہے اس وقت تک انتظار کریں گے جب تک ان کی قسمت پر کوئی مفاہمت نہیں ہو جاتی۔ ان بہاریوں کو ڈھاکہ اور بنگلہ دیش کے دوسرے شہروں کے نواح میں قائم ان کیمپوں میں ناگفتہ بہ زندگی گزارتے ہوئے تین دہائیوں سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے جنہیں اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین اور بنگلہ دیش کی حکومت چلا رہے ہیں۔ محمد محسن کا کہنا ہے کہ ان بہاریوں کی نئی نسلیں اپنے والدین اور ان کے والدین کے اعتراض کے باوجود ڈھاکہ حکومت سے یہ مطالبہ کرتی ہیں کہ انہیں بنگلہ دیشی کے طور پر قبول کیا جائے کیونکہ ان کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہ وہاں جانا چاہتے ہیں۔ حکومت ان بہاریوں کو انتخابات سے پہلے شہریت دینے اور انتخابات میں ووٹ دینے کے لیے شناختی کارڈ جاری کرنے پر غور کر رہی ہے۔ بنگلہ دیشی فوج کی حمایت سے قائم نگراں حکومت کے مطابق یہ انتخابات سنہ دو ہزار آٹھ میں اور آزادانہ و منصفانہ ہوں گے۔ | اسی بارے میں بنگلہ دیش کے ’راشد منہاس‘20 April, 2006 | پاکستان ایک سو بنگلہ دیشی پنجاب جیلوں میں13 April, 2006 | پاکستان بنگلہ دیش: پائلٹوں کی ہڑتال ختم27 September, 2005 | پاکستان پاک بنگلہ دیش آزاد تجارت مذاکرات17 November, 2003 | پاکستان ’بنگلہ دیش میں بسنا چاہتے ہیں‘13 September, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||