BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 September, 2007, 12:42 GMT 17:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بنگلہ دیش: بہاریوں کوشہریت‘
 بنگلہ دیش میں بہاری
بنگلہ دیش کے ایک سینئر اہلکار نےجمعرات کو بتایا ہے کہ چھتیس سال سے پاکستان منتقلی کے منتظر اردو بولنے مسلمان اور خود کو پاکستانی کہنے والے تیس لاکھ ’بہاریوں‘ میں سے نصف کو آئندہ انتخابات سے قبل بنگلہ دیشی شہریت دیے جانے کا امکان ہے۔

اردو بولنے والے یہ مسلمان انیس سو سینتالیس میں برطانوی نوآبادیاتی نظام کے خاتمے اور آزادی کے نتیجے میں ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے بعد ہندوستان کے مختلف علاقوں، خاص طور پر بہار سے ہجرت کر کے مشرقی پاکستان آباد ہوئے تھے۔
بنگلہ دیش میں
انیس سو اکہتر میں جب پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں مبینہ شورش کچلنے کے لیے فوجی آپریشن شروع کیا تو ان لوگوں نے پاکستانی فوج کا ساتھ دیا تھا جس کے نتیجے میں وہ اس مقامی بنگالی آبادی سے کٹ گئے جو آپریشن کو بنگلہ دیش میں ’جنگِ آزادی‘ کے نام سے یاد کرتی ہے۔

وزارتِ داخلہ کے اہلکار محمد محسن کا کہنا ہے کہ ’ہم ان ایک لاکھ چالیس ہزار بہاریوں کو بنگلہ دیشی شہریت دینے پر غور کر رہے جو یا تو بنگلہ دیش میں پیدا ہوئے ہیں یا ہمارے وفادار ہیں‘۔

ان کا کہنا ہے کہ باقی بہاری جنہیں ’پھنسے ہوئے‘ پاکستانی بھی کہا جاتا ہے اس وقت تک انتظار کریں گے جب تک ان کی قسمت پر کوئی مفاہمت نہیں ہو جاتی۔

ان بہاریوں کو ڈھاکہ اور بنگلہ دیش کے دوسرے شہروں کے نواح میں قائم ان کیمپوں میں ناگفتہ بہ زندگی گزارتے ہوئے تین دہائیوں سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے جنہیں اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین اور بنگلہ دیش کی حکومت چلا رہے ہیں۔

محمد محسن کا کہنا ہے کہ ان بہاریوں کی نئی نسلیں اپنے والدین اور ان کے والدین کے اعتراض کے باوجود ڈھاکہ حکومت سے یہ مطالبہ کرتی ہیں کہ انہیں بنگلہ دیشی کے طور پر قبول کیا جائے کیونکہ ان کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہ وہاں جانا چاہتے ہیں۔

حکومت ان بہاریوں کو انتخابات سے پہلے شہریت دینے اور انتخابات میں ووٹ دینے کے لیے شناختی کارڈ جاری کرنے پر غور کر رہی ہے۔ بنگلہ دیشی فوج کی حمایت سے قائم نگراں حکومت کے مطابق یہ انتخابات سنہ دو ہزار آٹھ میں اور آزادانہ و منصفانہ ہوں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد