BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 April, 2006, 13:07 GMT 18:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بنگلہ دیش کے ’راشد منہاس‘

مطیع الرحمان
مطیع الرحمان پاک فضائیہ میں انسٹرکٹر تھے
اسلام آباد میں قائم بنگلہ دیش کے ہائی کمیشن کے ترجمان نے جمعرات کے روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ اپنے لڑاکا پائلٹ مطیع الرحمٰن کا جسد خاکی پاکستان سے بنگلہ دیش لے جانے کے لیے انتظامات کر رہے ہیں اور جلد ہی انہیں وہاں دوبارہ دفن کیا جائے گا۔

مطیع الرحمٰن جو کہ پاک فضائیہ میں لڑاکا پائلٹوں کو تربیت دیتے تھے وہ سن انیس سو اکہتر کی جنگ کے دوران کراچی سے لڑاکا طیارہ اغوا کرکے بنگلہ دیش لے جارہا تھے تو بھارت کی سرحد کے قریب ان کا جہاز تباہ ہوگیا تھا اور وہ ہلاک ہوگئے تھے۔

مطیع الرحمٰن کے متعلق پاکستان حکومت کا دعویٰ ہے کہ بیس اگست کو جب راشد منہاس اپنی تربیتی پرواز پر تھے تو انہیں طیارے میں خرابی کا اشارہ کرکے روکا اور انہیں ’کلوروفام‘ سے نیم بے ہوش کردیا۔ مطیع الرحمٰن نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ ان کے اہل خانہ کو کراچی میں بھارتی ہائی کمیشن پہنچائیں اور وہ طیارہ جودھ پور لے جارہے ہیں۔

 بنگلہ دیش کی وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا اس سال فروری میں جب پاکستان آئیں تھیں تو انہوں نے اپنے مدفون پائلٹ کا جسد خاکی ڈھاکہ لے جانے کی خواہش ظاہر کی اور پاکستان حکومت نے انہیں اجازت دے دی۔

مطیع الرحمٰن خاصے تجربہ کار پائلٹ تھے اور انہوں نے ’راڈار‘ سے بچنے کے لیے نچلی سطح پر پرواز کی اور راشد منہاس ان سے لڑتے رہے۔ جب راشد منہاس کو کوئی اور راستہ نظر نہیں آیا تو انہوں نے دو کاک پٹ والے ٹی تینتس یعنی ’ٹی برڈ‘ طیارے کو زمین سے ٹکرادیا۔ جس میں مطیع الرحمٰن اور راشد منہاس ہلاک ہوگئے بعد میں حکومت نے راشد منہاس کو اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ’نشان حیدر‘ سے نوازا۔

جبکہ بنگلہ دیشی پائلٹ مطیع الرحمٰن کے اعضا کراچی میں مدفون کیے گئے اور انہیں نو آزاد ملک بنگلہ دیش نے اپنا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز دیا۔ موجودہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا اس سال فروری میں جب پاکستان آئیں تھیں تو انہوں نے اپنے مدفون پائلٹ کا جسد خاکی ڈھاکہ لے جانے کی خواہش ظاہر کی اور پاکستان حکومت نے انہیں اجازت دے دی۔

اس ضمن میں جب دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم سے دریافت کیا تو انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان حکومت نے جذبہ خیر سگالی کے تحت بنگلہ دیش کی حکومت کو مطیع الرحمٰن کا جسد خاکی لے جانے کی اجازت دی ہے اور اب یہ ان کی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ کب لے جاتے ہیں۔‘

اس بارے میں بنگلہ دیش کے ہائی کمیشن کے ترجمان سے جب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ انتظامات کو حتمی شکل دے رہے ہیں اور بہت جلد اپنے مدفون پائلٹ کا جسد خاکی ڈھاکہ لے جائیں گے اور دوبارہ دفن کریں گے۔

ہائی کمیشن کے ترجمان نے کہا کہ مطیع الرحمٰن بنگلہ دیش کے ہیرو ہیں اور انہیں بنگلہ دیشی حکومت نے اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ’بیر شریسترہ‘ یعنی ’بہترین بہادر ہیرو‘ کا لقب دے رکھا ہے۔

مشرقی پاکستان جو کہ پاکستان کا حصہ تھا لیکن انیس سو اکہتر میں بنگلہ دیش کے نام سے علیحدہ ملک بنا تو اس وقت طیارہ اغوا کرکے لے جانے والے بنگالی پائلٹ مطیع الرحمٰن کو پاکستان میں غدار کا نام دیا گیا۔

اسی بارے میں
’ہائی مارک 2005‘ کا آغاز
04 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد