’جی ایف 17‘ لڑاکا جیٹ جلد تیار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور چین کے تعاون سے تیار ہونے والے ’جی ایف 17 تھنڈر ‘ لڑاکا طیارے اگلے سال کے آخر تک پاکستان میں بننے شروع ہونگے اور توقع ہے کہ سن دو ہزار سات تک یہ پاکستانی فضائیہ میں شامل کر لیے جائیں گے۔ یہ بات پاکستان ٹیلی وژن کی اتوار، پندرہ مئی کو نشر ہونے والی ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ طیارے کامرہ کے ائیروناٹکل کمپلیکس میں بنائے جائیں گے۔ انیس سو بہتھر میں کامرہ صرف ایک چھوٹی ورکشاپ تھی جس میں پاکستان نے چین کے تعاون سے ’ایف 6‘ لڑاکا طیاروں کی اسمبلی شروع کی تھی۔ اب یہ لڑاکا طیاروں کی مرمت اور اسمبلی کے لیے ایک بڑا کمپلیکس بن چکا ہے ۔ تین ستمبر سن دو ہزار تین پاکستان اور چین کے اس ’جے ایف 17‘ مشترکہ منصوبے کی ایک اہم تاریخ تھی ۔ یہ وہ دن ہے جب ’جی ایف 17 تھنڈر ‘ کا چین میں کامیاب تجربہ کیا گیا۔ کامرہ میں اس منصوبے کے چیف پراجکٹ ڈائریکٹر ایئر وائس مارشل شاہد لطیف نے بتایا کہ اس لڑاکا جیٹ کی وسیع پیمانے پر تیاری سن دو ہزار آٹھ میں شروع ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ چین کو ڈھائی سو ایسے طیارے درکار ہیں جبکہ پاکستانی فضائیہ ڈیڑھ سو طیارے لے گی۔ پاکستان ائیروناٹکل کمپلیکس، کامرہ کے چیئرمین ائیر مارشل اورنگزیب خان نے اس سلسلے میں بتایا کہ ’اگلے سال کے آخر تک ہمیں چین سے طیارے کے پرزے مل جائیں گے اور ہم ان کو یہاں جوڑنے کا کام کریں گے۔ اس سے اگلے سال ہم چند لڑاکا طیارے پاک فضائیہ کے حوالے کر سکیں گے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’جے ایف 17 تھنڈر‘ یورپی ساخت کے لڑاکا طیاروں سے بہت سستا ہوگا اور یورپی طیاروں کی قیمت اس سے تقریباً تین گناہ زیادہ ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کئی ممالک نے اس کو خریدنے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے لیکن یہ کس کو بیچا جائے گا یہ فیصلے پاکستان اور چین مل کر کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||