BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 March, 2006, 15:10 GMT 20:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی فوج کی پہلی خواتین پائلٹ

سائرہ بتول پائلٹ بننے والی خاتون
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار چار خواتین لڑاکا پائلٹ بن گئی ہیں اور جمعرات کے روز تربیت مکمل کرنے پر انہیں فضائی فورس میں شامل کرتے ہوئے ’فلائنگ بیجز‘ لگائے گئے۔

صبا خان، نادیہ گل، مریم خلیل اور سائرہ بتول بتیس مرد کیڈٹس کے ساتھ ایک سو سولہواں جنرل ڈیوٹی پائلٹ کورس مکمل کرکے لڑاکا پائلٹ بنی ہیں۔

ویسے تو پاکستان کی تینوں افواج میں طبی اور دیگر شعبوں میں خواتین کام کرتی ہیں لیکن لڑاکا فورسز میں پاکستان فضائیہ نے ہی بری اور بحری افواج سے سبقت حاصل کرتے ہوئے خواتین کو بھرتی کیا۔

چار لڑاکا خواتین پائلٹ میں سے دو کا تعلق پاکستان کے سب سے زیادہ پسماندہ صوبے بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے ہے جبکہ ایک کا تعلق مذہبی اعتبار سے سخت گیر خیالات رکھنے والے صوبہ سرحد اور ایک کا صوبہ پنجاب کے شہر بہاولپور سے ہے۔

ایک سال قبل جب بی بی سی نے ان کی تریبت کے دوران ان سے بات کی تھی تو کوئٹہ کی صبا خان نے کہا تھا کہ ان کا پائلٹ بننا ایک خواب کے حقیقت بننے کے مترادف ہے اور وہ بہت خوش ہیں۔ ان کے والدین نے بھی بہت زیادہ خوشی کا اظہار کیا تھا۔

کامیابی کے ساتھ تربیت مکمل کرنے والی چاروں پائلٹ خواتین
رسالپور اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر نائب آرمی چیف جنرل احسن سلیم حیات نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کامیاب پائلٹ خواتین کو مردوں کی طرح مشکل ترین تربیتی مراحل میں خود کو ثابت قدم رکھتے ہوئے کورس مکمل کرنے پر سراہا۔

’رسالپور بیس‘ انیس سو دس میں انگریزوں نے قائم کیا تھا اور پہلی جنگِ عظیم کے وقت وہاں فلائنگ کلب قائم کیا گیا۔ انیس سو اڑتالیس میں قائد اعظم نے رسالپور فلائنگ سکول کا قائد اعظم نے درجہ بڑھا کر کالج کردیا اور انیس سو سڑسٹھ میں ایوب خان نے اسے اکیڈمی کا درجہ دیا۔

یہ اکیڈمی پاکستان میں لڑاکا پائلٹ کا کورس کرانے والی سب سے اہم اور بڑی اکیڈمی سمجھی جاتی ہے۔

نادیہ گل نامی فلائنگ افسر کو پڑھائی کے شعبے میں بہترین کیڈٹ کی ٹرافی ملی جبکہ فلائنگ اور جنرل ڈیوٹیز کے شعبوں میں بہرتین کیڈٹ کی ٹرافیز ان کے مرد ساتھیوں کو ملیں۔

پاک فضائیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی فورس میں پانچ فیصد خواتین ملازم ہیں جو کہ طبی شعبے سے لے کر انجنیئرنگ اور ایئر ٹریفک کنٹرول تک مختلف شعبوں میں پہلے ہی کام کر رہی ہیں۔ البتہ ان کے مطابق لڑاکا فورس میں یہ پہلی خواتین ہیں۔

جنرل ڈیوٹی پائلٹ کے ایک سو سترہویں کورس میں بھی چھ خواتین کیڈٹ شامل ہیں اور وہ بھی آئندہ سال اپنا کورس مکمل کریں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد