ایک سو بنگلہ دیشی پنجاب جیلوں میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے چالیس سالہ شہری قمر الدین گزشتہ سال بھارت کے راستے پاکستان میں روزگار تلاش کرنے آئے تھے لیکن تقریباً ایک سال سے سیالکوٹ جیل میں قید ہیں۔ قمرالدین پنجاب کی جیلوں میں قید ان ترپن سے زیادہ بنگلہ دیشی باشندوں میں سے ایک ہیں جو اپنی سزائیں پوری کرنے کے باوجود رہا نہیں ہوسکے۔ پنجاب کے محکمہ جیل خانہ جات کے انسپکٹر جنرل سرفراز مفتی کا کہنا ہے کہ صوبہ کی جیلوں میں اس وقت ایک سو چالیس غیرملکی قید ہیں جن میں سے سو سے زیادہ کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے۔ قمرالدین کو گزشتہ سال سیالکوٹ کے قریب سوچیت گڑھ کے مقام پر غیرقانونی طور پر ورکنگ باؤنڈری پار کرنے کی بنا پر گرفتار کیا گیا تھا۔ ایک پاکستانی عدالت نے قمرالدین کو انیس دسمبر سنہ دو ہزار پانچ کو پانچ ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ سیالکوٹ کی ضلعی جیل حکام کےمطابق قمر الدین کی سزا زیرتحویل دورانیہ اور ایک سو روپے جرمانہ کی عدم ادائیگی کے مزید دس یوم شامل کرکے اس سال چھ جنوری کو ختم ہوگئی تھی۔ تاہم انہیں اب تک رہا نہیں کیا گیا۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ قمرالدین بیمار ہیں اور اس کی ذہنی حالت درست نہیں۔ انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان کے مطابق غیرملکی قیدیوں کی سزا مکمل ہونے کے باوجود ان کی واپسی متعلقہ سفارتخانہ کے ذریعے ان کے کوائف کی جانچ پڑتال کے بعد ہی ممکن ہوتی ہے جو ایک طویل اور تکلیف دہ عمل ہے۔ پنجاب کے آئی جی جیل خانہ جات کے مطابق صوبہ میں قید بنگلہ دیشیوں میں سے تیس سزا یافتہ قیدی، اٹھارہ زیر تحویل حوالاتی اور ترپن ایسے افراد شامل ہیں جو عدالت سے ملنے والی سزائے قید پوری کرچکے ہیں۔ سب سے زیادہ بنگلہ دیشی راولپنڈی اور بہاولنگر کی جیلوں میں قید ہیں۔ پنڈی میں بیاسی اور بہاولنگر میں ترپن بنگلہ دیشی قید ہیں۔ | اسی بارے میں پنجاب جیلوں میں تین گنا قیدی20 March, 2006 | پاکستان جیل میں کوڑوں کی سزا ختم06 December, 2005 | پاکستان بھارتی جیلوں سے آٹھ پاکستانی رہا26 December, 2005 | پاکستان سزا میں رعایت کے لیئے بھوک ہڑتال01 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||