BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 April, 2006, 13:31 GMT 18:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سزا میں رعایت کے لیئے بھوک ہڑتال

 جیل
قیدی مدتِ قید میں کمی کی رعایت کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
کوٹ لکھپت جیل اور اڈیالہ جیل میں ہزاروں قیدیوں نے اپنے مطالبات کے حق میں جمعہ اور سنیچر کے روز بھوک ہڑتال کی ہے۔

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں یہ بھوک ہڑتال ابھی جاری ہے تاہم لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کے حکام کا کہنا ہے کہ وہاں قیدیوں نے بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔

سینٹرل جیل لاہور میں چار ہزار سے زیادہ قیدیوں نے جمعہ کو مدتِ قید میں رعایت کی بحالی پر زور دینے کے لیئے کھانا کھانے سے انکار کر دیا تھا اور وہ سنیچر کی سہ پہر تک بھوک ہڑتال پر رہے۔

جیل سے ایک قیدی رضی بٹ نے اپنے موبائل فون سے بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ بھوک ہڑتال میں عورتیں اور پیسنٹھ سال سے زیادہ عمر کے بزرگ قیدی بھی شامل تھے۔ رضی بٹ نے بتایا کہ سنیچر کی دوپہر عورتوں نے اپنے چھوٹے بچوں کے لیے بھی کھانا لینے سے انکار کر دیا تھا۔

رضی بٹ نے کہا کہ قیدیوں کا کہنا ہے کہ ہر سال عید میلادالنبی، عید اور بقر عید کے علاوہ تئیس مارچ اور چودہ اگست کو صدر اور گورنر قیدیوں کی قید میں کمی کا اعلان کیا کرتے تھے جس سے ان قیدیوں کو اپنی مدت قید میں کمی مل جاتی تھی اور وہ سزا کی تکمیل سے پہلے ہی جیل سے رہا ہو جاتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہوتا۔

انہوں نے بتایا کہ جیل حکام کا کہنا ہے کہ یہ رعایت سپریم کورٹ کے ایک حکم کے تحت واپس لے لی گئی ہے جبکہ قیدیوں کا خیال ہے کہ صدر اور گورنر آئین کے تحت یہ رعایت دیتے تھے اس لیئے سپریم کورٹ بھی اسے واپس نہیں لے سکتی۔

 سپریم کورٹ نے سنہ دو ہزار چار میں حوالاتیوں اور مقدمہ کی سماعت کے دوران قید لوگوں کو دی جانے والی معافی کو اپنے ایک فیصلے میں غیرقانونی قرار دے دیا تھا اور مدت سزا میں دی گئی ان معافیوں کو منسوخ کر دیا تھا۔
آئی جی جیل خانہ جات

پنجاب کے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات سرفراز مفتی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے سنہ دو ہزار چار میں حوالاتیوں اور مقدمہ کی سماعت کے دوران قید لوگوں کو دی جانے والی معافی کو اپنے ایک فیصلے میں غیرقانونی قرار دے دیا تھا اور مدت سزا میں دی گئی ان معافیوں کو منسوخ کر دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ قیدی حوالات کی مدت کو اپنی قید کی سزا میں شامل کر کے اس میں سے معافی کے دن کم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آئی جی جیل خانہ جات نے بی بی سی کو بتایا کہ قیدیوں کو پہلے جو رعایت ملتی تھی اس سے انہیں چھ سے سات سال تک کا فائدہ ہوجاتا تھا۔

سنیچر کی سہ پہر آئی جی جیل خانہ جات نے کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کے اجتماع سے خطاب کیا اور کہا کہ وہ قیدیوں کا مدتِ قید میں کمی اور معافی بحال کرنے کا مطالبہ سپریم کورٹ تک پہنچا دیں گے اس لیئے وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں۔

جیل حکام کا دعوی ہے کہ آئی جی جیل خانہ جات کی اس یقین دہانی کے بعد قیدیوں نے کھانا لے لیا اور بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ تاہم اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قیدیوں کی ہڑتال سنیچر کی شام تک جاری تھی اور قیدیوں سے ملاقات کے لیے محکمہ جیل کے اعلی افسر لاہور سے راولپنڈی روانہ ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
جیل: سینیٹ کمیٹی کی تشویش
07 February, 2006 | پاکستان
جیل میں کوڑوں کی سزا ختم
06 December, 2005 | پاکستان
چارقیدی جیل توڑ کر فرار
03 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد