ڈاکو دس قیدیوں کو اپنے ساتھ لے گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے ضلع خیر پور میں ڈاکو قیدیوں کی ایک گاڑی پر حملہ کرکے دس قیدیوں کو اپنے ساتھ کچے کے علاقے میں لے گئے ہیں۔ سکھر پولیس قیدیوں کو جیل سے خیرپور کی عدالت میں پیشی کے لیے گئے تھے۔ سکھر کے ضلعی پولیس افسر آفتاب ہالیپوٹو نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کی گاڑی مجرموں کی عدالت میں پیشی کے بعد سکھر آرہی تھی کہ ببرلو کے قریب مسلح ڈاکوں نے اس پر حملہ کردیا اور گاڑی کو اغوا کر کے اپنے ساتھ کچے کے علاقے میں لے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سکھر اور خیرپور کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے۔جبکہ پولیس ڈاکوں کا پیچھا کر رہی ہے۔ سکھر جیل ون کے جیل سپرنٹینڈینٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ صبح کو خیرپور پولیس معمول کے مطابق ان کے یہاں سے قیدیوں کو حاضری پر لےگئی تھی۔ان کے مطابق جس ضلع میں مقدمہ ہوتا ہے۔وہاں کی پولیس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ قیدیوں کو عدالت میں لے جائے۔ انہوں نے بتایا کہ گاڑی میں دس قیدی سوار تھے۔جن میں نورو، محمد رمضان، بنگل، مشتاق، غوث بخش، امیر شاہ، نیاز حسین، خالد، یوسف اور حاجی بخش شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ امیر شاہ میربحر اور حاجی بخش جونیجو کی گرفتاری پر دس دس لاکھ روپے انعام رکھا گیا تھا۔ ڈاکوں نے آگے جاکر گاڑی میں سوار پانچ پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد چھوڑ دیا ہے۔زخمی اہلکار ھادی بخش، نذیر بھٹی، قمرالدین، حاجی بخش اور دہنی بخش پولیس کو وراث گھنبیر گوٹھ کے قریب سے ملے ہیں۔ پولیس یہ معلوم نہیں کرسکی ہے کہ قیدیوں کو ان کے ساتھی چھڑا کر لیے گئے ہیں یا دشمنی میں اغوا کیے گئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||