BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 September, 2005, 12:14 GMT 17:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جبری شادی کے قانون پر بحث
جبری شادی
جبری شادی کے زیادہ تر معاملات میں خواتین اس ظلم کا شکار بنتی ہیں
برطانیہ میں جبری شادی کا شکار ہونے والی خواتین سے اس سلسلے میں رائے لی جائے گی کہ آیا زبردستی کی شادی کروانے کو جرم قرار دیا جائے یا نہیں۔

اس وقت اولاد کو زبردستی کی شادی پر مجبور کرنے پر والدین کو صرف اس وقت سزا دی جا سکتی ہے جب یا تو اولاد کو اغوا کیا جائے یا اس پر تشدد کیا جائےگا۔

برطانوی وزیر اس معاملے میں تین ماہ تک مشاورت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور اس کے بعد اسے قانونی شکل دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

جبری شادیوں کے لیے بنائے گئے برطانوی وزارتِ داخلہ و خارجہ کے مشترکہ یونٹ نےگزشتہ چار برس میں زبردستی کی شادیوں کے ایک ہزار معاملات کا پتہ چلایا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت جبری شادیوں پر قابو پانے کے لیے کئی سال سے کوشاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جبری شادیاں نہ صرف حقوقِ انسانی کے خلاف ہیں بلکہ ان شادیوں کے سلسلے میں لوگوں کو اغواء کر کے بیرونِ ملک بھی لے جایا جاتا ہے۔

برطانوی پولیس حکام نے پہلے ہی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ جبری شادیوں کو جرم قرار دیا جانا چاہیے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جبری شادی کے قانون سے نہ صرف مقدمات میں آسانی پیدا ہو گی بلکہ برطانیہ کی نئی نسل کو یہ بھی پیغام ملے گا کہ اگر وہ شادی نہیں کرنا چاہتے تو انہیں زبردستی اس پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

بی بی سی کے نمائندے نیل بینیٹ کا کہنا ہے کہ سینکڑو ں بلکہ ہزاروں برطانوی اپنی اپنی کمیونٹی میں اس قسم کا دباؤ برداشت کرتے ہیں۔ ان شادیوں سے انکار کے نتیجے میں نہ صرف غیرت کے نام پر قتل جیسے معاملات سامنے آتے ہیں بلکہ یہ ایشیائی لڑکیوں میں خودکشی کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجہ بھی ہے۔

جبری شادی کے زیادہ تر معاملات میں خواتین اس ظلم کا شکار بنتی ہیں تاہم پندرہ فیصد کیسوں میں مردوں کو بھی ان کی رضا کے بغیر شادی پر مجبور کیا جاتا ہے۔

برطانیہ میں ہونے والی زیادہ تر جبری شادیاں پاکستانی، بھارتی اور بنگلہ دیشی گھرانوں میں ہوتی ہیں تاہم اس قسم کے کچھ واقعات شمالی افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والی کمیونٹیوں میں بھی پیش آتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد