بالی وڈ سٹارز میں فلمسازی کا رحجان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی وڈ سپر سٹارز فلموں میں بڑھتے منافع میں اپنا حصہ حاصل کرنے کے لیے اب اپنی پروڈکشن کمپنیاں بنانے میں مصروف ہیں۔اس وقت بالی وڈ کے ہر سپر سٹار نے اپنی نجی پروڈکشن کمپنی بنا لی ہے اور وہ منافع جو دیگر تجارتی کمپنیوں کے کھاتوں میں جاتا تھا، اب سٹارز اسے اپنی آمدنی کا حصہ بنا رہے ہیں۔ شاہ رخ خان نے اپنی نجی کمپنی ’ریڈ چلی کارپوریشن‘ بنائی ہے۔عامر خان کی اپنی ذاتی پروڈکشن کمپنی ’عامر خان فلمز پروڈکشن‘ ہے۔ سلمان خان کی ’سہیل خان پروڈکشنز‘ اور سنیل شیٹی کی ’پوپ کارن انٹرٹینمینٹ اور موشن پکچرز‘۔ بالی وڈ کے اسٹارز دراصل اپنی پروڈکشن کمپنیاں بنانے میں ہالی وڈ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بالی وڈ کا ہر سپر سٹار یہ بات اچھی طرح سمجھتا ہے کہ فلم ’برانڈ نام‘ کی وجہ سے چلتی ہے اور اب چونکہ یہ فلمیں انڈیا کے علاوہ بیرونی ممالک میں بھی اچھا بزنس کر رہی ہیں، لہذا لاکھوں کروڑوں ڈالر کا منافع کمانے کے لیے ہر سپر سٹار اپنی نجی پروڈکشن کمپنی بنانے میں مصروف ہے۔
فلموں میں کام کرنے کے لیے سٹارز کا معاوضہ وقت کے ساتھ کروڑوں میں پہنچ گیا ہے اور اب ایک سپر سٹار پانچ سے دس کروڑ تک کا معاوضہ طلب کرتا ہے۔ آج ایک سپر سٹار کے ساتھ فلم بنانے میں کمپنیاں تیس سے چالیس کروڑ روپے خرچ کرتی ہیں۔لیکن اس کے بعد انڈیا اور اوورسیز مارکیٹ سے وہ تین سے چار گنا زیادہ منافع آسانی کے ساتھ کما لیتی ہیں۔ اب ہر سٹار فلم کمپنی سے صرف اپنا معاوضہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ منافع میں اپنا حصہ بھی طلب کرتا ہے۔ سلمان خان نے حال ہی میں ’سری اشٹ ونائیک پروڈکشن کمپنی‘ سے فلم میں کام کرنے کا معاوضہ بارہ کروڑ روپے طلب کیا ہے اور اسی کے ساتھ منافع میں تیس فیصد حصہ بھی مانگا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کمپنی نے سلمان خان کے اس مطالبہ کو منظور کر لیا ہے۔ فلم ٹریڈ تجزیہ نگار امود مہرہ کا کہنا ہے کہ ’اداکار یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ فلم کی کامیابی کا بہت حد تک انحصار ان کے نام پر ہوتا ہے۔اس لیے اب ان کے مطالبات بڑھ گئے ہیں اور کمپنیاں اسے قبول بھی کر رہی ہیں۔ کچھ بڑے تجارتی ادارے تو سپر سٹارز کے ساتھ تین سے چار فلموں کے معاہدے بھی کر رہے ہیں اور اس کے لیے وہ انہیں منہ مانگی رقم بھی ادا کر رہے ہیں۔‘
ہر سپر سٹار اب اپنی پروڈکشن کمپنی بنانے میں کیوں مصروف ہے؟ مہرہ کہتے ہیں کہ ’ کوئی بھی سٹار چالیس پچاس کروڑ روپے کا تو مطالبہ نہیں کر سکتا لیکن اگر وہ پروڈکشن کمپنی اس کی اپنی ہے تو سارا منافع اس کی جیب میں ہو گا اور خود ان کی اپنی فیس بھی دینے کی ضرورت نہیں ہو گی اس طرح یہ منافع بڑھ سکتا ہے۔‘ شاہ رخ کی کمپنی ریڈ چلی کارپوریشن کے بینر تلے بننے والی فلم ’میں ہوں نہ‘ سپر ہٹ فلم تھی اور اس نے بہت منافع کمایا تھا۔ اب فلم ’اوم شانتی اوم‘ کے بہت چرچے ہیں۔ عامر خان اس وقت کسی بھی دوسرے بینر کی فلم میں کام کرنے کے بجائے اپنی فلمیں بنا رہے ہیں۔ ان کی فلم ’لگان‘ بہت مقبول ہوئی تھی۔ اس وقت ان کی فلم ’تارے زمین‘ پر مکمل ہو چکی ہے اور تمل فلم گھجنی کے ری میک کے علاوہ دوسری کئی اور فلموں پر کام کر رہے ہیں۔ سپر سٹارز میں اس وقت صرف اکشے کمار اور جان ابراہام کی اپنی نجی کمپنیاں نہیں ہیں۔ سنجے دت نے فلمساز سنجے گپتا کے ساتھ ’وائٹ فیدر‘ نامی کمپنی میں شراکت کی ہے۔ سنی دیول اور سیف علی خان اپنے بینر کی کمپنی بنانے کی تیاری میں ہیں۔امیتابھ بچن کی اپنی فلم کمپنی 'اے بی سی ایل کارپوریشن' پہلے سے موجود ہے۔ سپر سٹارز کے ذریعہ اپنی پروڈکشن کمپنی بنانے کے نتیجے میں ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے جب یہ سپر سٹارز صرف اپنی ہی کمپنیوں کے لیے کام کریں گے۔ شاہ رخ اور عامر ابھی سے اس ڈگر پر چل پڑے ہیں۔ |
اسی بارے میں فلم انڈسٹری کے کھٹے میٹھے رشتے02 August, 2005 | فن فنکار بالی وڈ میں کامیڈی 06 July, 2005 | فن فنکار سلمان خان کے انڈر ورلڈ سے تعلقات؟14 July, 2005 | فن فنکار فلم سٹار بےگھر، سلّو کی دعوت02 July, 2007 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||