سنجےکی ضمانت سے بالی وڈ خوش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلم سٹار سنجے دت کو سپریم کورٹ نے عبوری ضمانت پر پیر کے روز رہا کرنے کا حکم دیا ہے تاہم مہاراشٹر کے شہر پونے کی یروڈا جیل میں قید سنجے کو منگل کو ہی رہائی مل سکے گی۔ انسپکٹر جنرل (جیل) ستیش ماتھر کے مطابق سپریم کورٹ سے جن قیدیوں کو ضمانت ملی ہے ان کے فیصلے کی کاپی پہلے ٹاڈا عدالت کو بھیجی جائے گی اور پھر وہ کاپی ان کے متعلقہ جیل حکام کو دی جائے گی۔اس لیے اس کارروائی میں وقت لگ سکتا ہے اور سنجے کو جیل سے منگل کے روز ہی رہائی مل سکے گی۔ سنجے کو اکتیس جولائی کے روز ٹاڈا عدالت نے غیر قانونی طور پر اسلحہ رکھنے کے جرم میں چھ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ سنجے اس وقت بالی وڈ میں مقبولیت کی اونچائیوں پر ہیں۔ان کی فلم ’لگے رہو منا بھائی‘ نے کامیابی کے کئی ریکارڈ توڑ دیے تھے۔’شوٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈوالا‘ بھی بہت کامیاب فلم رہی اور اس وقت بھی ان کی تقریباً چار فلمیں نامکمل ہیں۔ سنجے کی ضمانت کی خبر سے بالی وڈ میں ایک بار پھر خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سنجے کے دوست اور بزنس پارٹنر سنجے گپتا اس خبر سے بہت خوش ہیں۔ ان کے مطابق انہیں یقین تھا کہ سنجے کو ضمانت مل جائے گی۔’سنجے کو پہلے بھی سپریم کورٹ سے ضمانت ملی تھی اور ان برسوں میں سنجے نے کبھی بھی اس کا غلط فائدہ نہیں اٹھایا اس لیے انہیں یقین تھا کہ عدالت انہیں ضمانت دے گی‘۔ سنجے کو ضمانت ملنے پر سائرہ بانو بہت خوش تھیں۔’میں نے جب سنا تو میں خوشی سے اچھل پڑی تھی، اس بچے نے بہت کچھ جھیلا ہے۔ لوگ کیوں نہیں سمجھتے کہ جس وقت اس نے اسلحہ رکھنے کی بھول کی تھی وہ وقت بہت نازک وقت تھا، لوگ ان کے اور ہمارے گھر میں فون کر کے دھمکیاں دے رہے تھے۔ خیر میں اس وقت خوش ہوں اور اللہ سے کسی معجزہ کی امید کرتی ہوں کہ وہ کسی طرح سنجے کو ہمیشہ کے لیے جیل سے رہا کر دے‘۔
فلمی تجزیہ نگار امود مہرہ کے مطابق سنجے پر اس وقت پچاس سے ساٹھ کروڑ روپے لگے ہوئے ہیں اور اپنی اس رہائی کی مدت کے دوران اگر سنجے کچھ فلموں کی شوٹنگ کرتے ہیں تو یہ ممکنہ خسارہ کم ہو سکتا ہے۔ سنجے نے جیل جانے سے قبل اپنی فلم ’دھمال‘ مکمل کر لی تھی اور حال ہی میں فلمساز نے اس کی تشہیر کے لیے جو میوزک البم بنایا ہے اس میں سنجے کی کمی کافی محسوس کی گئی۔ اس وقت ’مسٹر فراڈ‘،’ کڈنیپ‘ اور ’علی باغ‘ سنجے کی تین نامکمل فلمیں ہیں۔ دادا صاحب پھالکے ایوارڈ یافتہ شیام بینیگل کا کہنا تھا کہ’سنجے کی ایک غلطی کی سزا اسے بہت مل چکی ہے۔ پہلی مرتبہ جب وہ جیل سے باہر آیا تھا تو ایک بہتر اور مضبوط انسان بن کر آیا تھا اور مجھے یقین ہے کہ اس بار بھی وہ اس سے بہتر اور مضبوط انسان بن کر آئے گا۔ حالات نے اسے توڑا نہیں بلکہ اسے مزید بہتر بنایا ہے اور یہ اچھی بات ہے‘۔ سنجے بطور منا بھائی اپنی گاندھی گیری کی وجہ سے کافی مقبول ہوئے ہیں اور اب ودھو ونود چوپڑہ کی اسی کڑی کی تیسری فلم ’منا بھائی چلے امریکہ‘ صرف اس لیے رکی ہوئی ہے کیونکہ سنجے عدالتی کارروائیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ |
اسی بارے میں سنجے دت: ضمانت پر رہائی کا حکم20 August, 2007 | فن فنکار سنجے کو پُونےمنتقل کر دیا گیا03 August, 2007 | فن فنکار سپریم کورٹ میں سنجے دت کی اپیل07 August, 2007 | فن فنکار سنجےسپریم کورٹ میں اپیل کرینگے01 August, 2007 | فن فنکار سنجے کو سزا، بالی وڈ کی پریشانی31 July, 2007 | فن فنکار سنجے دت کو چھ برس قید31 July, 2007 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||