سنجے دت، زندگی کے نشیب و فراز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سنجے دت بالی ووڈ کی تاریخ میں سب سے زیادہ متنازعہ اداکار رہے ہیں۔ مرحوم اداکار اور سیاستدان سنیل دت اور اداکارہ نرگس کے اڑتالیس سالہ بیٹے 1993 میں ہونے والے ممبئی دھماکوں میں ملوث ہونے کے الزام میں جیل بھی جا چکے ہیں۔ ان کو دھماکوں کے ایک ماہ بعد اپریل 1993 میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ انہوں نے اٹھارہ ماہ جیل میں گزارے جس کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ بعد میں انہیں دھماکوں میں ملوث ہونے کے تمام الزامات سے بری کر دیا گیا تھا۔ ان دھماکوں میں 257 لوگ ہلاک اور 713ّ زخمی ہوئے تھے۔ ان پر غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں بھی مقدمہ دائر کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں انہیں چھ سال کی قید سنائی گئی ہے۔ انہیں اس سزا کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ اپنی زندگی کے نو سال نشے کی عادت کا شکار رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے جیل میں بھی وقت گزارا۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود وہ سو سے زائد بالی ووڈ فلموں میں کام کر چکے ہیں۔ سنجے دت بائیس سال کی عمر میں پہلی مرتبہ 1981 میں فلم راکی میں منظر عام پر آئے۔ یہ فلم ایک ہٹ ثابت ہوئی۔ اس فلم کے ہدایت کار ان کے والد سنیل دت تھے جو بعد میں حسب اقتدار کانگریس پارٹی کی طرف سے کھیلوں کے وفاقی وزیر بھی رہے۔
ان کی والدہ نرگس جو اپنے دور کی کامیاب اداکارہ تھیں اسی برس کینسر کے باعث انتقال کر گئیں۔ کھل نایک‘ کا شمار ان کی کامیاب ترین فلموں میں ہوتا ہے۔ اس فلم میں انہوں نے ایک ولن کا کردار ادا کیا۔ اس فلم کی کہانی کو ان کی حقیقی زندگی میں ممبئی دھماکوں کے سلسلے میں گرفتاری سے جوڑا گیا اور یہ فلم بہت بڑی ہٹ ثابت ہوئی۔ انہوں نے ہدایت کار سنجے گپتا کے ساتھ مل کر ایک فلم پروڈکشن کمپنی بھی بنائی۔ 2001 میں وہ دوبارہ سرخیوں میں اس وقت آئے جب میڈیا میں ایک ایسی آووڈیو ٹیپ سامنے آئی جس میں انہیں مبینہ طور پر چھوٹا شکیل کے ساتھ بات چیت کرتے سنا گیا۔ تاہم اس مبینہ گفتگو کے کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے۔ گزشتہ سال سیمی گاریوال کے ساتھ ایک اٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ |
اسی بارے میں ممبئی کیس: سنجے دت کو چھ برس قید31 July, 2007 | فن فنکار منا بھائی امریکہ کے لیے تیار 14 June, 2007 | فن فنکار اب سنجے دت کی زندگی پر کتاب12 April, 2007 | فن فنکار ’لگے رہو منا بھائی‘ بھی آسکر میں 29 September, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||