BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 June, 2007, 20:27 GMT 01:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منا بھائی امریکہ کے لیے تیار

سنجے دت
منا بھائی کا تیسرا حصہ آئندہ برس بنے گا۔
’منا بھائی صدر جارج بش کو گاندھی گری سکھانے آئندہ برس امریکہ جائیں گے‘۔یہ بات ممبئی میں ٹاڈا کی خصوصی عدالت میں فلم سٹار سنجے دت نے جج پی ڈی کوڈے کے کمرہ سے جانے کے بعد وہاں موجود چند صحافیوں کوبتائی۔

سنجے بہت ہی خوشگوار موڈ میں نظر آ رہے تھے کیونکہ عدالت میں جج نے ان کی ’پروبیشن رپورٹ‘ پر بحث شروع کر دی تھی اور اب انہیں یقین ہو تا جارہا ہے کہ جو بھی فیصلہ ہو گا وہ ان کے حق میں بہتر ہی ہوگا۔

سنجے نے اپنی فلم ’منا بھائی‘ پر تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ منا بھائی‘ میری زندگی کی ایک اہم فلم ثابت ہوئی ہے یہ وہ پہلی فلم ہے جس میں ہنسی کے ساتھ ایک پیغام تھا۔

لیکن دوسری فلم میں گاندھی جی کے عدم تشدد کے فلسفہ نے پورے ملک میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھرمیں ایک بار پھر گاندھی جی کے فلسفہ کی یاد تازہ کر دی اور اسی کے ساتھ ان کی زندگی اور جینے کا ڈھنگ ہی بدل کر رکھ دیا‘۔

سنجے کے مطابق اب اس فلم کا تیسرا حصہ آئندہ برس بنے گا۔ اس سے پہلے ہدایت کار راج کمار ہیرانی دوسری فلم بنا رہے ہیں۔فلمساز ودھو ونود چوپڑہ فی الحال سنجے کے عدالتی فیصلہ کے منتظر ہیں۔

سنجے کوعدالت نے ٹاڈا جیسے سخت قانون سے بری کر دیا ہے اب صرف اسلحہ قانون کے مجرم ہیں لیکن اسی کے ساتھ انہوں نے اچھے برتاؤ کی بنیاد پر عدالت سے رہائی کی اپیل کی ہے۔ آئندہ چند دنوں میں ہی عدالت کا فیصلہ آئے گا۔

سنجے نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران بتایا کہ ’ فلم کی کہانی بہت مزیدار ہے۔ وہ اور سرکٹ دھوبی گھاٹ پر بیٹھ کر ٹی وی دیکھ رہے ہیں اور یکایک خبروں کے دوران صدر جارج بش دکھائی دیتے ہیں ، سرکٹ پوچھتا ہے یہ کون ہے اور میں بتاتا ہوں کہ یہ امریکہ کا وزیر اعظم ہے، اور پھر سرکٹ سے امریکہ کا دو ٹکٹ لانے کے لیے کہتا ہوں تاکہ ہم وہاں جا کر صدر بش کو گاندھی گری سکھائیں‘۔

جج نے حالانکہ آج ہی سنجے کو میڈیا سے دور رہنے کے لیے کہا تھا لیکن سنجے اپنی خوشی کو میڈیا سے باٹنا چاہتے تھے۔’ جج نے کہا تھا کہ کیس کے بارے میں کسی چینل کو انٹرویو نہیں دینا ہے ہم تو فلموں کی باتیں کر رہے ہیں‘۔

سنجے دت
 سنجے 1993 کے بم دھماکوں میں ایک ملزم تھے لیکن عدالت نے انہیں ٹاڈا جیسے سخت قانون سے بری کر دیا البتہ وہ اسلحہ قانون کے مجرم قرار دیے گئے ہیں

سنجے مانتے ہیں کہ اس کیس نے انہیں باشعور کر دیا انہوں نے کہا’ اب میں زندگی میں پھونک پھونک کر اور سنبھل سنبھل کر قدم رکھتا ہوں‘۔

سنجے نے ایک بار پھر اپنی فلموں کی شوٹنگ منسوخ کر دی ہے اور وہ آج کل فلاحی کاموں میں مصروف ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کئی غیر سرکاری تنظیموں سے وابستگی بنا لی ہے۔غریب بچوں کی تنظیم ’ کرائی‘ اور ’سیو دی چلڈرن‘ نامی تنظیموں کے لیے وقت نکال کر ان کے امدادی پروگراموں میں حصہ لے رہے ہیں ساتھ ہی وہ اپنے والد کے بنائے کینسر فاؤنڈیشن سے بھی منسلک ہیں۔

سنجے 1993 کے بم دھماکوں میں ایک ملزم تھے لیکن عدالت نے انہیں ٹاڈا جیسے سخت قانون سے بری کر دیا البتہ وہ اسلحہ قانون کے مجرم قرار دیے گئے ہیں۔

لیکن سنجے نے اچھے برتاؤ کے لیے عدالت سے رہائی کی اپیل کی ہے اور اسی لیے عدالت میں پروبیشن آف اوفینڈر ایکٹ کے تحت پروبیشن افسر نے ان کے برتاؤ کی ایک رپورٹ بھی عدالت کے سامنے پیش کر دی ہے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اسی لیے سنجے آج کل فلاحی کاموں میں مصروف ہیں۔

اسی بارے میں
دادا گیری سے گاندھی گیری تک
18 September, 2006 | فن فنکار
اب سنجے دت کی زندگی پر کتاب
12 April, 2007 | فن فنکار
بالی وڈ میں کامیڈی
06 July, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد