سنجےسپریم کورٹ میں اپیل کرینگے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلم سٹار سنجے دت کے وکیل ستیش مانے شندے نے کہا ہے کہ وہ سنجے دت کی ضمانت کے لیے آئندہ ہفتے سپریم کورٹ میں اپیل داخل کریں گے۔ شندے اپنے مؤکل سے ملاقات کے لیے آرتھر روڈ جیل گئے تھے۔ باہر آنے کے بعد انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سنجے ایک نارمل انسان کی طرح ہیں۔ رات انہوں نے کھانا نہیں کھایا لیکن ابھی دوپہر میں انہوں نے دال سبزی اور روٹی کھائی ہے۔‘ شندے کا کہنا ہے کہ انہیں جج کے فیصلہ کی ابھی مکمل کاپی نہیں ملی ہے لیکن اس کا ایک حصہ مل چکا ہے اور اسی کی بنیاد پر وہ آئندہ ہفتے عدالت عالیہ میں اپیل کر سکتے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت اتنی جلد ممکن نہیں ہو سکتی۔ ایڈوکیٹ سبھاش کانسے کے مطابق ’زیب النساء قاضی کو عدالت نے دو ماہ قبل سزا سنائی تھی اور وہ پہلی سزا یافتہ مجرم ہیں جن کی اپیل اب جا کر سپریم کورٹ نے منظور کی ہے۔‘ لہذا اس بات کا امکان نہیں ہے کہ سپریم کورٹ فوری طور پر سنجے دت کی اپیل پر سماعت کرے گی۔
قاضی کی اپیل پر عدالت نے استغاثہ کو تین ہفتوں کا وقت دیا ہے۔ تین ہفتوں کے بعد ہی قاضی کی ضمانت کی اپیل پر سماعت ممکن ہو سکے گی۔ مسٹر کانسے کے مطابق سپریم کورٹ میں ایک مرتبہ کیس منظور ہونے کے بعد بھی عدالت پہلے استغاثہ کو حلف نامہ داخل کرنے کے لیے مہلت دے گی۔ اس کے بعد ہی عدالت ضمانت پر کسی طرح کا فیصلہ سنانے کی پوزیشن میں ہو گی۔ سنجے دت کے لیے ضمانت ملنا اب اتنا جلدی ممکن نہیں ہوگا۔ سنجے کی وکیل فرحانہ شاہ کے مطابق سپریم کورٹ میں ایسے کئی مجرم ضمانت لینے کے لیے قطار میں ہیں جنہیں اسی ٹاڈا عدالت نے سزا سنائی ہے۔ اس دوران سنجے کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی رہنا ہو گا۔ دریں اثناء سنجے دت اس وقت آرتھر روڈ جیل میں ہیں جہاں زیر سماعت قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔ اس لیے بہت جلد سنجے دت کو بھی مہاراشٹر کی کسی اور جیل میں منتقل کرنے کا امکان ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سنجے کی بہن پریہ دت جو ممبر پارلمینٹ بھی ہیں، انہوں نے اپنے بھائی کی حفاظت کے پیش نظر انہیں ممبئی کی سینٹرل جیل میں رکھے جانے کی گزراش کی ہے۔ ممبئی بم دھماکوں کی خصوصی ٹاڈا عدالت نے سو مجرمین کو سزا سنائی ہے۔ کانسے کے مطابق انہیں سزا کی مکمل کاپی ملنے میں مہینوں لگ جائیں گے۔ جج کوڈے کے فیصلے چھ ہزار صفحات پر فیصلے لکھے گئے ہیں اور ان کی کاپیاں بنانا اتنی جلد ممکن نہیں ہے۔ فیصلے کی کاپیاں مجرم، ان کے وکیل، استغاثہ اور خود عدالت کے ریکارڈ میں رکھی جائی گے اس لیے کم سے کم ایک فیصلہ کی دس سے گیارہ کاپیاں بنائی جائیں گی۔ عدالت نے پہلے اٹھارہ مئی کو کسٹم افسران کو سزا سنائی تھی اور انہیں ان کے مکمل فیصلہ کی کاپی 27 اگست کو دی جائے گی۔ فیصلہ کی کاپی ملنے کے ایک مہینے کے اندر مجرم سپریم کورٹ میں اپیل داخل کر سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں سنجے دت: اسلحہ دینے والے کو سزا01 June, 2007 | انڈیا سنجے دت پر فیصلہ دیوالی کے بعد18 October, 2006 | انڈیا سنجے دت کیس کا فیصلہ متوقع16 October, 2006 | انڈیا ٹاڈا قانون کے تحت فیصلے چیلنج 19 June, 2007 | انڈیا 1993 دھماکے: ’میڈیاسےدور رہیں‘14 June, 2007 | انڈیا سنجے کواسلحہ دینے پر دس سال قید 06 June, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||