BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 August, 2007, 14:10 GMT 19:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سنجےسپریم کورٹ میں اپیل کرینگے

سنجے دت
اڑتالیس سالہ سنجے دت جو پہلے ہی سولہ ماہ کی قید کاٹ چکے ہیں
فلم سٹار سنجے دت کے وکیل ستیش مانے شندے نے کہا ہے کہ وہ سنجے دت کی ضمانت کے لیے آئندہ ہفتے سپریم کورٹ میں اپیل داخل کریں گے۔

شندے اپنے مؤکل سے ملاقات کے لیے آرتھر روڈ جیل گئے تھے۔ باہر آنے کے بعد انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سنجے ایک نارمل انسان کی طرح ہیں۔ رات انہوں نے کھانا نہیں کھایا لیکن ابھی دوپہر میں انہوں نے دال سبزی اور روٹی کھائی ہے۔‘

شندے کا کہنا ہے کہ انہیں جج کے فیصلہ کی ابھی مکمل کاپی نہیں ملی ہے لیکن اس کا ایک حصہ مل چکا ہے اور اسی کی بنیاد پر وہ آئندہ ہفتے عدالت عالیہ میں اپیل کر سکتے ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت اتنی جلد ممکن نہیں ہو سکتی۔ ایڈوکیٹ سبھاش کانسے کے مطابق ’زیب النساء قاضی کو عدالت نے دو ماہ قبل سزا سنائی تھی اور وہ پہلی سزا یافتہ مجرم ہیں جن کی اپیل اب جا کر سپریم کورٹ نے منظور کی ہے۔‘ لہذا اس بات کا امکان نہیں ہے کہ سپریم کورٹ فوری طور پر سنجے دت کی اپیل پر سماعت کرے گی۔

چھ ہزار صفحات پر فیصلے
 ممبئی بم دھماکوں کی خصوصی ٹاڈا عدالت نے سو مجرمین کو سزا سنائی ہے۔ کانسے کے مطابق انہیں سزا کی مکمل کاپی ملنے میں مہینوں لگ جائیں گے۔ جج کوڈے کے فیصلے چھ ہزار صفحات پر فیصلے لکھے گئے ہیں اور ان کی کاپیاں بنانا اتنی جلد ممکن نہیں ہے۔ فیصلے کی کاپیاں مجرم، ان کے وکیل، استغاثہ اور خود عدالت کے ریکارڈ میں رکھی جائی گے اس لیے کم سے کم ایک فیصلہ کی دس سے گیارہ کاپیاں بنائی جائیں گی۔
زیب النساء قاضی کو عدالت نے اپنے گھر میں اسلحہ رکھنے کا مجرم قرار دیا تھا۔ قاضی کے گھر میں وہی اسلحہ رکھا گیا تھا جسے سنجے دت نے واپس کر دیا تھا اور ابو سالم اسے سنجے کے گھر سے قاضی کے گھر لے گئے تھے۔

قاضی کی اپیل پر عدالت نے استغاثہ کو تین ہفتوں کا وقت دیا ہے۔ تین ہفتوں کے بعد ہی قاضی کی ضمانت کی اپیل پر سماعت ممکن ہو سکے گی۔

مسٹر کانسے کے مطابق سپریم کورٹ میں ایک مرتبہ کیس منظور ہونے کے بعد بھی عدالت پہلے استغاثہ کو حلف نامہ داخل کرنے کے لیے مہلت دے گی۔ اس کے بعد ہی عدالت ضمانت پر کسی طرح کا فیصلہ سنانے کی پوزیشن میں ہو گی۔

سنجے دت کے لیے ضمانت ملنا اب اتنا جلدی ممکن نہیں ہوگا۔ سنجے کی وکیل فرحانہ شاہ کے مطابق سپریم کورٹ میں ایسے کئی مجرم ضمانت لینے کے لیے قطار میں ہیں جنہیں اسی ٹاڈا عدالت نے سزا سنائی ہے۔ اس دوران سنجے کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی رہنا ہو گا۔

دریں اثناء سنجے دت اس وقت آرتھر روڈ جیل میں ہیں جہاں زیر سماعت قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔ اس لیے بہت جلد سنجے دت کو بھی مہاراشٹر کی کسی اور جیل میں منتقل کرنے کا امکان ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سنجے کی بہن پریہ دت جو ممبر پارلمینٹ بھی ہیں، انہوں نے اپنے بھائی کی حفاظت کے پیش نظر انہیں ممبئی کی سینٹرل جیل میں رکھے جانے کی گزراش کی ہے۔

ممبئی بم دھماکوں کی خصوصی ٹاڈا عدالت نے سو مجرمین کو سزا سنائی ہے۔ کانسے کے مطابق انہیں سزا کی مکمل کاپی ملنے میں مہینوں لگ جائیں گے۔ جج کوڈے کے فیصلے چھ ہزار صفحات پر فیصلے لکھے گئے ہیں اور ان کی کاپیاں بنانا اتنی جلد ممکن نہیں ہے۔ فیصلے کی کاپیاں مجرم، ان کے وکیل، استغاثہ اور خود عدالت کے ریکارڈ میں رکھی جائی گے اس لیے کم سے کم ایک فیصلہ کی دس سے گیارہ کاپیاں بنائی جائیں گی۔

عدالت نے پہلے اٹھارہ مئی کو کسٹم افسران کو سزا سنائی تھی اور انہیں ان کے مکمل فیصلہ کی کاپی 27 اگست کو دی جائے گی۔ فیصلہ کی کاپی ملنے کے ایک مہینے کے اندر مجرم سپریم کورٹ میں اپیل داخل کر سکتا ہے۔

اداکار سنجے دتسنجے دت پر کتاب
امیتابھ، شاہ رخ اور اب سنجے کی زندگی پر کتاب
سنجے دت فیصلے کا انتظار
امرتسر میں سنجے دت کے لیے دعائیں
اداکارسنجے دتممبئی دھماکے 93
سنجے دت پر مقدمے کا فیصلہ متوقع
سنجے دتملزم نمبر 117
بم دھماکہ کیس کے ملزم سنجے دت
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد