مدھوبالا کی یاد میں ڈاک ٹکٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو ساٹھ اور ستر کے عشرے کی انتہائی خوبصورت اور ہمہ جہت خوبیوں سے مالا مال اداکارہ مدھوبالا کی یاد میں محکمہ ڈاک نے ممبئی میں ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ ٹکٹ کے اجراء پر محکمہ ڈاک نے انہیں ’پردہ سیمیں کی وینس‘ یعنی حسن کی دیوی کا درجہ دیا۔ اس موقع پر اداکار منوج کمار، اداکارہ ششی کلا اور مدھو بالا کی بہن مدھر بھوشن بھی موجود تھیں۔ محکمہ ڈاک میں مرکزی سکریٹری آئی ایم جی خان نے ڈاک ٹکٹ کا اجراء کیا۔ مدھو بالا بالی وڈ کی ایسی دوسری اداکارہ ہیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔ اس سے پہلے اداکارہ نرگس دت کی تصویر والا ڈاک ٹکٹ جاری کیا جا چکا ہے۔ محکمہ ڈاک نے اب تک انتیس فلمی ہستیوں کے نام پر ڈاک ٹکٹ جاری کیے ہیں جن میں فلمساز، اداکار، ہدایت کار، گلوکار اور موسیقار شامل ہیں۔ پرتھوی راج کپور، راج کپور، کشور کمار، محمد رفیع مکیش اور ہیمنت کمار اان میں سے چند اہم نام ہیں۔ مدھو بالا کا شمار بالی وڈ کی انتہائی خوبصورت اداکاراؤں میں کیا جاتا ہے۔ ان میں بلا کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اداکاری کی زبردست صلاحیت تھی۔ محکمہ ڈاک نے ٹکٹ جاری کرتے ہوئے مدھو بالا کو ایک متنوع اداکار کی حیثیت سے یاد کیا اور کہا کہ وہ ہر کردار میں وہ بخوبی ڈھل جاتی تھیں۔انڈین سنیما میں نرگس، مینا کماری اور نوتن جیسی اداکاراؤں کے دور میں مدھوبالا نے اپنی ایک منفرد چھاپ چھوڑی تھی۔
مدھو بالا نے اپنی فلمی زندگی کا سفر نو سال کی عمر سے شروع کیا تھا۔ فلمساز اور ہدایت کار کیدار شرما نے انیس سو سینتالیس میں انہیں اپنی پہلی فلم ’ نیل کمل ‘ میں بطور ہیروئین سائن کیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر محض تیرہ سال تھی۔ پھر محل، ترانہ، مسٹر اینڈ مسز 55، ہاؤڑا برج، کالا پانی، چلتی کا نام گاڑی جیسی کئی کامیاب فلموں میں انہوں نے کام کیا۔ لیکن فلم مغل اعظم میں ان کی اداکاری اور ان کے لاجواب حسن کے بہت چرچے ہوئے۔ مدھو بالا کا فلمی سفر جتنا کامیاب رہا ان کی اپنی ذاتی زندگی اتنی ہی ناکام رہی۔انہوں نے اپنے دور کے کامیاب اداکار اور شہنشاہ جذبات دلیپ کمار سے محبت کی۔ چھ سال تک ان کے درمیان دوستی رہی لیکن مدھو بالا کے والد عطاء اللہ خان کو ان کی دوستی پسند نہیں آئی اور یہ حسین جوڑی ٹوٹ گئی۔اس کے بعد مدھو بالا نےگلوکار کشور کمار سے شادی کی لیکن کم عمری میں ہی 1969 میں ان کا انتقال ہو گیا۔ |
اسی بارے میں بالی وڈ میں ہیروئین کی اہمیت27 December, 2007 | فن فنکار ’مغل اعظم‘ کے بعد ’نیا دور‘ رنگین03 May, 2007 | فن فنکار مغل اعظم کا لاہور میں پریمئر شو23 April, 2006 | فن فنکار فلمی صنعت، پنچولی کے بعد 16 June, 2005 | فن فنکار مغلِ اعظم: درخواست زیر غور 11 May, 2005 | فن فنکار ’مغل اعظم‘ نئے رنگ میں 08 November, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||