بالی وڈ میں ہیروئین کی اہمیت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی وڈ میں آج کل ہیرو کو جہاں ایک فلم کے لیے پندرہ سے پچیس کروڑ روپے تک معاوضہ ملتا ہے وہیں ہیروئین کو دو سے ڈھائی کروڑ روپے سے زیادہ نہیں دیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اب فلموں میں ہیروئین کی وہ اہمیت بھی نہیں رہی جو ساٹھ سے اسی کی دہائی میں ہوا کرتی تھی۔ اکشے کمار ایک فلم کے لیے سترہ کروڑ روپے لے رہے ہیں لیکن ان کے ساتھ کام کرنے والی قطرینہ کیف کو ’نمستے لندن‘ میں کام کرنے کے لیے صرف ایک کروڑ دئیے گئے تھے۔ سلمان خان ایک فلم کے اب پینتیس کروڑ روپے تک لے رہے ہیں لیکن اس سے پہلے انہوں نے فلم ’مجھ سے شادی کرو گی‘ کے لیے سات کروڑ روپے لیے تھے جبکہ اسی فلم میں کام کرنے کے لیے پرینکا چوپڑہ کو محض دو کروڑ روپے پر اکتفا کرنا پڑا تھا۔
ایک طرف جہاں ہیروز کی قیمت بڑھی ہے وہیں ہیروئین کی فیس اور ان کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ ایشوریہ رائے جیسی ہیروئین کی فیس بالی وڈ میں اس وقت ڈھائی کروڑ روپے ہی ہے۔ کرینہ کپور نے یش راج کی فلم میں کام کرنے کے لیے ساڑے تین کروڑ روپے لیے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی فیس اپنے مقابل ہیروز سے تین سے چار گنا تک کم ہوتی ہے۔ ہالی وڈ میں البتہ ہیرو اور ہیروئین کی فیس میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے۔ وہاں فلموں میں ہیروئین کے کردار کی اہمیت بھی ہوتی ہے لیکن آج کل بالی وڈ میں ہیروئین محض شو پیس اور سجاوٹی دل بہلانے والی گڑیا کا کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں۔ فلم میں آئٹم رقص یا دو ایک گانے گائے جاتے ہیں اس کے بعد ہیروئین کا رول کچھ نہیں ہوتا۔ فلم تجزیہ کار امود مہرہ کے مطابق اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ’اب ہیروئین کے کردار پر مبنی فلمیں زیادہ نہیں چلتی ہیں۔ فلم ’امراؤ جان‘ میں ایشوریہ رائے کی موجودگی اور ان کا حسن بھی لوگوں کو اپنی جانب راغب نہیں کر پایا اور مادھوری دکشت کی واپسی بھی ’آجا نچ لے‘ کو باکس آفس پر پٹنے سے نہیں بچا سکی۔‘ فلم ’بلیک‘ میں رانی مکھرجی کی اداکاری کی بےانتہا تعریف ہوئی تھی۔ انہیں کئی ایوارڈز ملے لیکن ان کی اس سال ریلیز ہوئی فلم ’لاگا چنری میں داغ‘ فلاپ ثابت ہوئی ہے۔
ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان کے مطابق ’ہم یہاں تجارت کرنے بیٹھے ہیں اور ہیروئین پر مبنی فلموں کو کوئی ہاتھ بھی نہیں لگاتا کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ باکس آفس پر فلم روپے بٹورنے میں ناکام رہے گی۔‘ ڈسٹری بیوٹرز کے مطابق یہ صورتحال گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے پیدا ہوئی ہے۔ اس سے پہلے مینا کماری، نوتن، وحیدہ رحمن اور مدھوبالا کے دور میں فلمیں زیادہ تر گھریلو مسائل پر ہوتی تھیں اور ان میں ہیروئین کا نام ہی لوگوں کو سنیما گھروں تک کھینچ لاتا تھا۔ کہانی اور مکالمہ نویس جاوید صدیقی کے مطابق’یہ مردوں کا بنایا سماج ہے اور مردوں نے ہمیشہ سے عورتوں کو محکم بنا کر رکھا ہے اور اس کا عکس فلموں میں بھی نظر آتا ہے۔ البتہ فلموں میں ایسا دور بھی آیا تھا جب ہیروئین فلموں پر حاوی ہوتی تھیں۔ ان میں مینا کماری قابل ذکر ہیں، اپنے دور میں مینا کماری نے اپنے مقابل ہیرو سے زیادہ فیس لی ہے۔‘ بالی وڈ ہیروئینوں کے لیے حالات اسی اور نوے کی دہائی تک بھی ٹھیک ہی تھے۔ ہیما مالنی، ریکھا، سری دیوی اور بعد میں مادھوری دکشت جیسی ہیروئین کے لیے خصوصی طور پر کہانیاں لکھی جاتی تھیں۔ لیکن اب حالات اس کے بالکل برعکس ہیں۔ فلمساز کے لیے ہیروئین محض خانہ پری کے لیے ہوتی ہے۔ ایشوریہ رائے نے ایک فلم میں جب زیادہ فیس طلب کی تو فلمساز نے جلد ہی ہیروئین ہی بدل دی۔ اسی سال کی ایک فلم ’دھمال‘ بغیر ہیروئین کے بنی۔ اس کامیڈی فلم نے باکس آفس پر اچھا بزنس بھی کیا۔ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب شاید بغیر ہیروئین کے بھی فلمیں بننے لگیں۔ |
اسی بارے میں فلمی دنیا پر بنی ’کھویا کھویا چاند‘07 December, 2007 | فن فنکار ’دھرمندر پر کوئی بھی مر مِٹتی‘02 December, 2007 | فن فنکار عامر کے تارے اور مادھوری کا رقص 26 November, 2007 | فن فنکار ’بالی وڈ کی ایک سنجیدہ آواز‘18 November, 2007 | فن فنکار خان کا جادو اور عرفان کی چھلانگ12 November, 2007 | فن فنکار مقبولیت: سانوریا یا اوم شانتی اوم ؟08 November, 2007 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||