’بالی وڈ کی ایک سنجیدہ آواز‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی وڈ کے مشہور فلم ہدایت کار مدھر بھنڈارکر کا شمار ان فلم ہدایت کاروں میں ہوتا ہے جو اپنی ہر فلم میں سماج کے حسّاس اور سنجیدہ پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں۔ ’چاندنی بار‘ ’پیج تھری‘ اور ’ کارپوریٹ‘ جیسی فلموں کے خالق مدھر بھنڈارکر سے بی بی سی ہندی کے انڈیا ایڈیٹر سنجیو شریواستو نے ایک ملاقات کی اور ان کی زندگی کے نہاں پہلوؤں کو جانا۔۔۔ س: مدھر آپ رہنے والے کہاں کے ہیں؟ ج: میں ممبئی کے کھار علاقے کا رہنا والا ہوں۔ زندگي کی جدوجہد یہیں ممبئی میں شروع ہوئی۔ س: آپ نے شروعات کی ایک ویڈیو لائبریری سے اور اس کے بعد آپ سے کئی قومی فلم اعزاز پائے، کیسا رہا یہ سفر؟ ج: ویڈیو لائبریری تو بس یوں ہی کھل گئی تھی ۔ دراصل مجھے بچپن سے فلموں کا بہت شوق تھا۔ میرا تعلق ایک متوسط طبقے سے تھا اس لیے میں سنیماہال میں فلمیں نہیں دیکھ پاتا تھا۔ ان دنوں سڑکوں پر 16 ایم ایم کے پروجیکٹر پر فلمیں دکھائی جاتی تھیں اور وہاں میں نے بہت سے فلمیں دیکھیں۔ میں فلم شروع ہوتے ہی سبھی ناموں کو غور سے پڑھتا تھا اور سوچتا تھا کہ ہدایت کار بہت چھوٹا آدمی ہوتا ہوگا کیونکہ اس کا نام فلم کریڈٹس میں سب سے آخر میں آتا ہے۔ لیکن بعد میں کسی نے مجھے بتایا کہ ہدایت کار فلم بنانے والی ٹیم کا کپتان ہوتا ہے۔ اس لیے اس کا نام بعد میں آتا ہے۔ ویڈیو کیسٹ کے دور کی آمد نے مجھے فلموں کا عادی بنا دیا۔ میں نے دس بارہ کیسٹوں سے اپنا کام شروع کیا۔ میں گھروں پر بھی فلم کیسٹس پہنچایا کرتا تھا۔ میرے پاس چار سالوں کی مدت میں 1800 سے 1900 کیسٹ اکھٹے ہوگئے تھے۔
س: پھر آپ فلموں سے جڑے، معاون ہدایت کار بنے اور ہاں آپ نے رام گوپال ورما کے ساتھ بھی کام کیا ہے؟ ج: جی ہاں اگر بالی ووڈ میں آپ کا کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہے تو دقتیں آتی ہیں۔ مجھے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ میں کئی فلم والوں کو بھی کیسٹس پہنچایا کرتا تھا۔ متھن چکرورتی آج مجھے کہتے ہیں کہ مدھر مجھے یقین نہیں ہوتا کہ تو وہی لڑکا ہے جو مجھے کیسٹ پہنچایا کرتا تھا۔ میں نے فلم سیٹس پر بہت چھوٹے چھوٹے کام کیے ہیں۔ مجھے روزانہ تیس روپے ملتے تھے۔ پھر میں نے رام گوپال ورما کے ساتھ چار پانچ سال کام کیا اور ’رنگیلا‘ میں نے معاون ہدایت کار کا کام کیا۔ س: آپ کی فلم ’چاندنی بار‘ کو پروڈیوسرز نے کیسے لیا؟ ج: فلم ’تریشکتی‘ کے بعد مجھ پر فلاپ ہدایت کار کی مہر لگ گئی تھی۔میرے خیال سے فلم ناقدوں نے میری فلم کے ’ریویوز‘ تک نہیں لکھے تھے۔ میں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ میں بس اور آٹو رکشہ سے جایا کرتا تھا۔ جو لوگ مجھ سے کبھی کام مانگنے آتے تھے میں انہیں کے ساتھ بس میں سفر کرنے لگا تھا۔ مجھے یہ بات بہت بری بھی لگتی تھی۔ فلمی پارٹیوں میں کسی نہ کسی طرح گھس جاتا تھا۔ س: یہ بتائیں کہ کیا جدوجہد کے دور میں انسان کو موٹی کھال والا بھی بننا پڑتا ہے؟ ج: بالکل! مجھے یہ بات بتانے میں شرم بھی نہیں ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کو پتا چلے کہ یہاں تک کے سفر کے دوران مجھے کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایک ناکام ہدایت کار قرار دیے جانے کے بعد مجھ سے لوگ منہ پھیرتے تھے۔ اسی دوران میرا ایک دوست مجھے ایک لیڈیز بار میں شراب پلانے لے گیا۔ وہاں لڑکیوں کو رقص کرتے ہوئے دیکھ کر مجھے اچھا نہیں لگا اور وہاں سے واپس آ کر میں پوری رات نہیں سو سکا۔ اسی دوران میں ممبئی کے کئی خواتین بار میں گيا اور ان خواتین کی زندگی کا اندازہ لگاتا رہا۔ میں نے اپنے دوست کو بتایا کہ میں ان خواتین کی زندگي پر فلم بنانا چاہتا ہوں۔ میرے دوست نے کہا کہ فلاپ فلم بنانے کے بعد ایسی فلم بنانا چاہتا ہے لیکن میں ان اس موضوع پر چھ مہینے ریسرچ کی۔ میں فلم کی کہانی لے کر کئی پروڈیوسرز کے پاس گیا۔ انہوں نے کہا فلم بناؤ لیکن اس میں مسالا ضرور ڈالنا تاکہ فلم بک سکے لیکن میں ایک سنجیدہ فلم بنانا چاہتا تھا۔ س: اور ’چاندنی بار‘ کے بعد بالی ووڈ میں مدھر کا نام ہوگيا؟ ج: مجھے یقین تھا کہ میں ایک بہتر فلم بناؤں گا چاہے لوگ اسے پسند کریں یا نہیں۔ ٹی وی سیریل بنانے میں میری کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ یہ سچ ہے کہ چاندنی بار نے مجھے ایک ہی دن میں سٹار بنا دیا۔ س: چاندنی بار کے بعد آپ نے کون سے فلم بنائی؟ ج: ’چاندنی بار‘ کے بعد میں نے ’ستّا‘ بنائی۔ باکس آفس پر فلم کامیاب نہیں ہوئی لیکن فلم ناقدین نے اس کو ایک بہتر فلم قرار دیا اور بہت سے ناقدین نے روینا ٹنڈن کی اداکاری کو بھی خوب پسند کیا۔ اس فلم میں روینا ایک عام لڑکی ہونے کے باوجود ایک سیاستدان کےگھر بہو بن کر جاتی ہے اور جب سیاستدان سیاست میں ان کا استعمال کرتے ہیں تو ان پر پلٹ کر وار کرتی ہیں۔ س: آپ کی سبھی فلموں میں خواتین مرکزی کرداروں میں کیوں ہوتی ہیں؟ ج: مجھ سے اکثر خواتین یہ سوال کرتی ہیں کہ میں خواتین کے مسائل کو اتنی بخوبی کیسا سمجھتا ہوں۔ میرے خیال سے ہمارے ملک میں کئی ایسے مسائل ہیں جنہیں خواتین کو مرکزی کردار میں رکھ کر اچھی فلمیں بنائی جا سکتی ہیں۔ میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں میں کہ تجرباتی سنیما بنانے میں یقین رکھتا ہوں نہ کہ کمرشل۔ میری فلمیں بڑے بجٹ کی نہیں ہوتی ہیں نہ وہ اربوں روپے کماتی ہیں لیکن اپنی لاگت کے حساب سے اچھا بزنس کرتی ہیں جس سے پروڈیوسرز بھی خوش رہتے ہیں۔
س:’پیج تھری‘ فلم میں آپ نے شان و شوکت کی زندگی بسر کرنے والوں پر طنز کیا تھا؟ ج: اس کے پیچھے ایک کہانی ہے، جب میری فلم ’چاندنی بار‘ ہٹ ہوئی اور میں راتوں رات سٹار بن گیا تو مجھے بڑی بڑي پارٹیوں کی دعوتیں آنے لگيں، ان پارٹیوں میں میں ان بڑے سیاست دانوں، فلم ہدایت کاروں اور تاجروں سے ملا جن کے بارے میں ملنے کے بارے میں خیال بھی نہیں کر سکتا تھا، مجھے لگا کہ یہ الگ طرح کا نشہ ہے لیکن میں نے یہ نشہ اپنے سر چڑھنے نہیں دیا، ان پارٹیوں میں لوگ ایک دو شراب کے پیگز پینے کے بعد لوگ دوسری دنیا میں چلے جاتے ہیں، میں نے سوچا کہ اس موضوع پر فلم بنائی جا سکتی ہے۔ س: کہتے ہيں مدھر بھنڈارکر بڑي شخصیات کی زندگی کا خلاصہ کرنے میں زيادہ دلچسپی رکھتے ہيں؟ ج: میں اس بات سے اتفاق نہيں رکھتا۔ میری فلمیں سماجی طور پر قابل اعتبار ہوتی ہيں۔ میں اپنی فلموں میں کوئی فیصلہ کن پیغام نہيں دیتا بلکہ سماج کی کسی ایک پریشانی کو عوام کے سامنے پیش کرتا ہوں میں ان موضوعات پر فلمیں بناتا ہوں جن کا تعلق عام انسان سے ہوتاہے۔ س: آپ کی فلموں خاص موضوعات پر مبنی ہوتی اس سے آپ کا دائرہ محدود نہیں ہو رہا ہے؟ ج: ہاں بعض لوگ کے کہتے ہیں کہ میں ایک ہی طرح کی فلمیں بناتا ہوں۔ میں مزاحیہ اور تھرلر فلمیں بنانا چاہتا ہوں لیکن یہ بات ضرور ہے ان فلموں میں بھی مدھر بھنڈارکر کا اثر صاف دکھنا چاہیے۔ س: آج کے دور میں آپکا پسندیدہ ہدایت کار کون ہے؟ ج: مجھے راج کمار ہرانی بہت پسند ہیں۔ میں نے ان کی ’منا بھائی ایم بی بی ایس‘ اور ’لگے رہو منا بھائی‘ دیکھی ہیں۔ بہت شاندار فلمیں بناتے ہیں اور ان کی فلموں میں ایک پیغام بھی ہوتا ہے۔ س: اور اداکاروں میں کون پسند ہے؟ ج: پرانے زمانے کے اداکاروں میں دیوآنند، راجیش کھنا اور امیتابھ بچن جی پسند ہیں۔ کمل ہاسن اور نصیرالدین شاہ بھی اچھے لگتے ہیں۔ سنجیو کمار اور بلراج ساہنی کمال کے اداکار رہے ہیں۔ آج کے دور میں عامر خان اور ریتک روشن اچھے لگتے ہیں۔ س: دس سال بعد آپ اپنے آپ کو کہاں دیکھتے ہیں؟ | اسی بارے میں شاہ رخ سےمنوج کمار کی ناراضگي17 November, 2007 | انڈیا سلمان خان: فلمی ستاروں کا سفرِ جیل25 August, 2007 | انڈیا بوسے پہ شور پاگل پن ہے: شلپا03 May, 2007 | انڈیا ’اینڈ دیٹ از دی ہول لائف۔۔۔‘10 August, 2006 | انڈیا نوشاد علی: لافانی موسیقی کے خالق05 May, 2006 | انڈیا ٹینس کیلیے ثانیہ اور شاہ رخ کا ساتھ12 September, 2007 | انڈیا ’جو دل میں ہو بول دیتا ہوں‘21 January, 2007 | انڈیا ایک ملاقات عدنان سمیع کے ساتھ 13 November, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||