BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 May, 2006, 08:28 GMT 13:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نوشاد علی: لافانی موسیقی کے خالق

نوشاد نے چار عشروں تک موسیقی کی دنیا پر حکمرانی کی
چھ دہائیوں تک بھارتی فلم انڈسٹری پر اپنی موسیقی کے ذریعہ حکومت کرنے والے عظیم موسیقار نوشاد علی اب نہیں رہے۔ وہ پانچ مئی جمعہ کے روز ممبئی میں انتقال کرگئے۔ نوشاد علی کی پیدائش پچیس دسمبر 1919 کو ہوئی تھی۔

نوشاد نے ایک طرف اپنی موسیقی سے جاوداں نغمے پیش کیے وہیں انہوں نے کئی گلوکاروں کو فلمی دنیا سے روشناس کرایا اور پھر ان گلوکاروں نے ایسے نغمے پیش کیے جو ان کی اپنی زندگی کے لافانی گیت ثابت ہوئے۔

نوشاد کے بنائے گیت آج بھی لوگوں کی زبان پر ہیں۔ وہ تاریخ کا ایک حصہ بن چکے ہیں۔ کلاسیکی موسیقی اور لوک گیتوں کو ہلکے پھلکے انداز میں پیش کرنے کا فن وہ اچھی طرح جانتے تھے انیس سو سینتیس میں ممبئی میں انہوں نے قدم رکھا۔ ایک طویل جدوجہد کے بعد انہوں نے فلمی دنیا میں اپنا ایک مقام بنایا۔

انہوں نے اس دور میں ایسے کئی تجربات کیے جس کے بارے میں اس دور کے موسیقار سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ مغل اعظم، دل لگی، انمول گھڑی، بیجو باورا، آن امر اور داستان جیسی کئی فلموں میں لافانی موسیقی کے خالق کو فلم انڈسٹری کے فنکاروں نے اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کیا۔

ایک دور کا اختتام
 نوشاد صاحب اس دور سے تعلق رکھتے تھے جب ہندوستانی موسیقی میں کلاسیکی موسیقی کا زیادہ اثر تھا۔ ہمیشہ اپنے فن میں تجربات کرنے کے لیے مشہور نوشاد نے اس دور میں کلاسیکی موسیقی اور لوک سنگیت کو آسان انداز میں عوام کے سامنے پیش کیا۔
نغمہ نگار جاوید اختر

نامور نغمہ نگار اور اسکرپٹ رائٹر جاوید اختر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ نوشاد صاحب کے انتقال سے فلمی موسیقی کا ایک پورا دور اب ختم ہو گیا۔ نوشاد صاحب اس دور سے تعلق رکھتے تھے جب ہندوستانی موسیقی میں کلاسیکی موسیقی کا زیادہ اثر تھا۔ ہمیشہ اپنے فن میں تجربات کرنے کے لیے مشہور نوشاد نے اس دور میں کلاسیکی موسیقی اور لوک سنگیت کو آسان انداز میں عوام کے سامنے پیش کیا۔‘

جاوید اختر نے مزید کہا:’ان کی موسیقی میں نغمگی اور سر تال کا ایک حسین امتزاج تھا۔ اگر میں ان کی کسی گیت یا کسی فلم پر بولنے بیٹھوں تو گھنٹوں بول سکتا ہوں کیونکہ ان کے فن کی کئی پہلو تھے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ انہوں نے اس پرانے دور میں ایسے کئی سازوں کا استعمال کیا جنہیں اب جا کر آج کے موسیقار استعمال کرتے ہیں۔ وہ گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار تھے ۔ان کا نغمہ: 'من تڑپت ہری درشن کو آج' جسے رفیع صاحب نے گایا، انڈین ثقافت کی مثال پیش کرتا ہے۔‘

جاوید اختر کا کہنا تھا کہ انہیں اس کا افسوس ہے کہ جب انہوں نے لکھنا شروع کیا تب نوشاد صاحب نے تقریبا موسیقی کی دنیا سے ریٹائرمنٹ لے لیا تھا۔ جاوید اختر کے مطابق آج کی موسیقی میں ایک خلاء سا ہے کیونکہ ’ان میں زندگی نہیں ہوتی جو نوشاد صاحب کی موسیقی کی خاصیت تھی۔ ایسا لگتا تھا وہ دل سے کام کرتے تھے۔ میں مانتا ہوں کہ زمانہ بدل رہا ہے کلچر تبدیل ہو رہا ہے لیکن نئے کی تلاش میں پرانے نایاب گوہروں کو کھو دینا ہماری حماقت ہے۔‘

نئے دور کے کامیاب موسیقار انو ملک نے نوشاد کے بارے میں بتایا کہ ’میں اس نقصان کو لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا ان کی عظیم شخصیت کے سامنے میں بہت چھوٹا فنکار ہوں۔ میں نے ایسا فنکار نہیں دیکھا جو آرکسٹرا کے ہر ساز کو سمجھتا ہو، جو گیت کی سچویشن کو جانتا ہو، ہر گلوکار کی آواز کو پرکھ کر اسی انداز میں موسیقی دینا ایک عظیم فنکار کا ہی کمال ہو سکتا تھا۔‘

نوشاد صاحب کی وجہ سے میں نے نغمگی کو سمجھا، ان سے زبان اور تلفظ کی باریکیوں کو جانا: لتا منگیشکر
نوشاد صاحب نے اپنی علالت کے باوجود فلم تاج محل کی موسیقی دی۔انو نے اس پر کہا کہ ’ایسے فنکار کہاں ملیں گے جو بستر علالت سے کام کریں، دراصل ان کے جسم نے جواب دے دیا تھا لیکن ان کے اندر کا فنکار اسی طرح جوان تھا۔ میں اپنی زندگی میں اپنے والد سردار ملک کے ساتھ نوشاد صاحب سے ملا تھا اور ان سے اس ملاقات میں میں نے بہت کچھ سیکھ لیا۔‘

’ایسے لافانی موسیقی کے خالق کو میں دل کی گہرائیوں سے خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔‘

کوئل جیسی دلکش آواز کی ملکہ لتا منگیشکر نے نوشاد صاحب کے ساتھ اپنی زندگی کی زیادہ تر نایاب نغمے دیے۔ انہوں نے نوشاد کے انتقال کو ذاتی نقصان قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ ’نوشاد صاحب کی وجہ سے میں نے نغمگی کو سمجھا، ان سے زبان اور تلفظ کی باریکیوں کو جانا۔ ان کی موسیقی میں انفرادیت تھی، انہوں نے کئی فنکاروں کو یاد گار نغمے دیے جس کے بعد وہ گلوکار بلندیوں پر پہنچ گئے۔

’نوشاد صاحب نے غزل، ٹھمری، کجری سے فلمی گیت بنائے جو آج کے موسیقار نہیں کر سکتے اور یہی وجہ ہے کہ ان کا میوزک لافانی نہیں ہوتا۔‘

موسیقار خیام نوشاد صاحب کے قریبی ساتھی تھے۔ ممبئی میں جدوجہد کا دور دونوں نے ساتھ گزارا۔ انہوں نے نوشاد صاحب کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ گھر والوں کی مخالفت کے باوجود نوشاد نے ہارمونیم سیکھا اور فلم پریم نگر سے انہوں نے اپنا فلمی کرئیر شروع کیا۔ اس کے بعد اپنی لگن اور محنت کی وجہ سے انہوں نے ایک اعلی مقام بنا لیا۔

خیام کے مطابق نوشاد ’دن رات مشقت کرتے تب ایک گیت بناتے، یہی وجہ تھی کہ ان کی موسیقی سیدھے سننے والے کے دل تک پہنچتی تھی۔ 1949 میں انہوں نے بابل اور 1955 میں اڑن کھٹولا کی موسیقی دی۔ مغل اعظم، گنگا جمنا جیسی بے شمار فلموں کی موسیقی کی وجہ سے ان فلموں کے نغمے یادگار گیت بن چکے ہیں۔

’میں سمجھتا ہوں نوشاد کا دور اور ان کی موسیقی فلمی دنیا کی موسیقی کی تاریخ ہیں اور ان کا دور سنہرا باب ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد