نوشاد کی کہانی، انہی کی زبانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی فلمی صنعت کا درخشاں ستارہ اور موسیقی کی دنیا کے شہنشاہ کہلانے والے عظیم خالق نوشاد علی پچیس دسمبر کو اپنی زندگی کے چھیاسی برس پورے کرنے والے ہیں اور یہ ان کی ستاسیویں سالگرہ ہے۔ شاہجہاں ، دل لگی ، دلاری ، انمول گھڑی ، مغل اعظم ، بیجو باؤرا، انداز ، آن ، امر ، داستان ، جیسی فلموں کے دل کو چھو لینے والی موسیقی اور ان کے نغموں کو کون بھول سکا ہے باندرہ میں کارٹر روڈ پر واقع اپنے بنگلہ کی پہلی منزل پر کمرے میں پلنگ پر گاؤ تکیہ لگائے بیٹھے نوشاد علی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا’ آپ مختصر سوال کیجیےگا کیونکہ میں زیادہ بول نہیں سکتا‘۔ لیکن پھر باتوں باتوں میں وہ اپنی یادوں میں اتنا کھو گئے کہ گھنٹوں بولتے ہی چلے گئے اور وقت کا پتہ نہیں چلا۔ ان سے کی گئی گفتگو کے اقتباسات انہی کی زبانی سنیے۔ ’میں انیس سو سینتیس میں بمبئی (ممبئی) آیا۔ جیب خالی تھی، کام نہیں تھا، رہنے کا ٹھکانہ بھی نہیں تھا لیکن دل میں جذبہ ، لگن اور حوصلہ تھا۔ خدا سے دعا کرتا تھا کہ کچھ بننا چاہتا ہوں تو مدد کر۔ دادر علاقہ میں خداداد سرکل تھا۔ پہلے وہاں براڈوے سنیما تھا جو اب نہیں ہے۔ اسی کے فٹ پاتھ پر آ کر سو جاتا تھا۔ وہاں اس لیے سوتا تھا کیونکہ براڈوے تھیٹر کی روشنی فٹ پاتھ تک آتی تھی۔ اس روشنی میں اپنا مستقبل تلاش کرتے کرتے نیند آجاتی۔ پھر وہی صبح اور وہی کام کی تلاش۔ مشتاق حسین کے آرکسٹرا میں پیانو بجانے کا کام ملا اور پھر راہ کھلتی گئی۔ میوزک ڈائریکٹر کھیم چند پرکاش کے اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنا شروع کیا ۔ سولہ برس بعد میری فلم بیجو باؤرا بے حد کامیاب فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم کے نغموں کو لوگوں نے بہت پسند کیا۔ اسی براڈوے تھیٹر میں فلم کا پریمئیر تھا۔ فلمساز وجے بھٹ ساتھ میں تھے۔ میں نے تھیٹر سے سامنے کی فٹ پاتھ کو دیکھا جہاں میں سویا کرتا تھا۔ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وجے بھٹ نے حیرت ظاہر کی کہا’یہ خوشی کا موقع ہے اور تم رو رہے ہو ؟ میں نے کہا اس فٹ پاتھ کو پار کر کے یہاں تک پہنچنے میں مجھے سولہ سال لگ گئے‘۔ اس زمانے میں فلم انڈسٹری گجراتیوں کے ہاتھ میں تھی۔ اس وقت کے لوگ بہت شریف نیک اور ایماندار ہوا کرتے تھے جیسے فلمساز وجے بھٹ ، چندو لال شاہ ، ساگر مووی ٹون ، چنی بھائی شاہ۔ لوگ کہانیاں لکھتے تھے، سچی اور حقیقی کہانیاں۔ آج کی طرح فلموں کی نقل اور بے سر پیر کی مسالہ دار کہانیاں نہیں ہوتی تھیں۔
محبوب گجرات کے ایک شہر بلیموریا سے ممبئی آئے تھے۔ ساگر مووی ٹون میں ایکسٹرا کے طور پر کام کرتے تھے۔ فردون ایرانی سے اکثر کہتے کہ میں فلم ڈائریکٹر بننا چاہتا ہوں اور وہ بھی کہتے کہ’ ابے دستخط کرنی آتی ہے؟‘ ہمارے ساتھ یعقوب تھے انہوں نے محبوب کی ضد سے مجبور ہو کر کہا کہ راجستھان میں ولی خواجہ غریب نواز کا مزار مبارک ہے۔ سنا ہے وہاں دل سے مانگنے والوں کی مرادیں پوری ہوتی ہیں تو وہاں چلا جا اور جا کر ہوٹل میں قیام کرنے کے بجائے مزار کے صحن میں ہی سونا۔ یعقوب نے اسے اس وقت تیس روپے دیے۔ محبوب ایک ہفتہ بعد وہاں سے لوٹے تو اپنا قصہ سنایا کہ’رات کے قریباً ساڑھے تین بجے تھے۔ صحن میں ننگے فرش پر وہ سو رہے تھے کہ کسی نے ٹھوکر ماری کہ جا یہاں کیا ہے تیرا سب کچھ بمبئی میں ہے وہاں تجھے ملے گا۔میری آنکھ کھل گئی آس پاس کوئی نہیں تھا پھر خیال آیا یہ ضرور خواجہ صاحب ہوں گے سو میں بمبئی واپس آیا‘۔ ہم سب نے کہا کہ جلدی جا سیٹھ بہت ناراض ہے اور تجھے کام سے نہ نکال دے تو جا کر صرف معافی مانگ لے۔ محبوب جب وہاں پہنچے تو دیکھا سیٹھ ڈائریکٹر پر گرم ہو رہا تھا کہ ’تم اپنے کو کیا سمجھتا ہے میں ایک ایکسٹرا کو لے کر فلم بناؤں گا لیکن تجھ سے نہیں‘۔ اتنے میں محبوب وہاں پہنچے اور کہاں سیٹھ معاف کر دو میں اتنے روز غیر حاضر رہا۔ سیٹھ سمجھ نہیں پایا کہ یہ کون ہے اس نے پوچھا تو کون ہے ؟ محبوب نے بتایا وہ ایک ایکسٹرا ہے۔ سیٹھ نے اسی وقت ڈائریکٹر سے کہا کہ لو یہ ایکسٹرا مل گیا اور محبوب سے کہا’جا کوئی اسٹوری سوچ‘۔
محبوب نے اس کی فلم ’Judgment of Allah‘ بنائی جو کامیاب ہوئی۔ سیٹھ خوش ہوا اور محبوب کو دوسری فلم وطن ملی۔ وہ بھی کامیاب ہوئی جس کے بعد محبوب نے اپنی پروڈکشن کمپنی بنا لی پھر اس فلمساز نے فلم انڈسٹری کو وہ فلمیں دیں جو آج کا کوئی فلمساز نہیں بنا سکتا۔ انمول گھڑی ، اعلان، انوکھی ادا ، انداز اور مدر انڈیا جیسی فلمیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ پرانے وقتوں میں لوگ شریف اور ایماندار ہوا کرتے تھے ۔میں بار بار اس کا ذکر اس لیے کر رہا ہوں کہ یہ سب اب آپ کو اس فلم انڈسٹری میں نہیں ملے گا۔ لوگ اب دل سے نہیں دماغ سے اور روپیوں سے فلم بناتے ہیں ۔آپ نے فلمساز کاردار کا نام تو سنا ہو گا۔ میں نے ان کے ساتھ فلم انمول گھڑی میں کام کیا۔ انہیں فلم کی موسیقی بہت پسند آئی۔ فلم بہت کامیاب بھی ہوئی۔ انہوں نے خوش ہو کر سب کو دس ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا لیکن پھر فوراً ہی ملک کی تقسیم شروع ہو گئی۔ افراتفری کا ماحول پیدا ہوا اور کاردار پاکستان چلے گئے اور میں یہاں رہ گیا۔ عرصہ بعد کاردار پاکستان سے واپس بھارت آئے اور دوبارہ کام شروع کیا۔ فلم’انداز‘ بنانی شروع کی لیکن اپنا وعدہ نہیں بھولے اور وہ دس ہزار روپے دیے۔ آج کے دور میں نہ تو ایسے لوگ ہیں اور نہ ہی ایسے نغمے اور موسیقی۔ اس وقت کے نغموں میں آتما ( روح ) ہوتی تھی۔ ہم بھارتیہ سنگیت پر مبنی گیت بناتے تھے ، آج غیر ملکی سنگیت کی نقل ہوتی ہے، اس لیے آج صرف شریر ( جسم ) رہ گیا ہے۔ اس وقت کے شعراء دل سے لکھتے تھے، آج زیادہ تر تک بندی کرتے ہیں۔ آرزو لکھنوی، شکیل بدایونی، کیدار شرما، مجروح سلطان پوری، خمار بارہ بنکوی جیسے شاعروں کے نغموں میں احساس ہوتا تھا۔ اس لیے لوگ انہیں آج بھی یاد کرتے ہیں ۔ نورجہاں کے بارے میں کیا کہوں ؟ وہ اچھی فنکارہ کے ساتھ ایک بہت اچھی انسان تھیں۔ انہوں نے بہت سے یادگار نغمے گائے ہیں لیکن وہ اکثر اپنے پروگرام کا آغاز فلم انمول گھڑی کے میرے بنائے گیت’ آواز دے کہاں ہے؟‘ سے شروع کرتی تھیں۔ میں آج سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ میں نے ابھی تک اپنی زندگی کا سب سے اچھا گیت نہیں بنایا ۔وہ یادگار گیت جس کی مجھے خواہش ہے ۔ایک پیاس ابھی بھی باقی ہے، ایک بھوک جو ہمیشہ ایک فنکار کو ہوتی ہے۔ جس دن وہ مرگئی سمجھو فنکار مر گیا۔ | اسی بارے میں نوشاد کا نورجہان کو خراجِ تحسین20 December, 2005 | فن فنکار تاریخ ، ادب اور بالی وڈ25 July, 2005 | فن فنکار نورجہاں کی پوتی کی فلم تاج محل18 November, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||