BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 August, 2006, 07:40 GMT 12:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اینڈ دیٹ از دی ہول لائف۔۔۔‘

راج کپور
راج کپور اب نہیں ہیں۔ لیکن وہ یادوں کی شکل میں میری طرح آج بھی کئی ذہنوں میں زندہ ہیں
میرا ایک شعر ہے

ایک مسافر کے سفر جیسی ہے سب کی دنیا
کوئی جلدی میں کوئي دیر سے جانے والا

زندگی کی طرح موت بھی ایک حقیقت ہے۔ مہاتما بدھ سے ایک مرتبہ ایک ایسی ماں ملنے آئی جسکا بیٹا مر چکا تھا۔ اس نے مہاتما سے اپنے بیٹے کو زندہ کرنے کی درخواست کی ۔ بدھ نے کہا ’مائی یہ ناممکن چیز اسی وقت ممکن ہوسکتی ہے جب تو کسی ایسے گھر سے آگ لائے گی جہاں کبھی موت نہ ہوئی ہو‘۔


بدھ کی بات سننے کے بعد وہ عورت کئی گھروں میں گئی اور پھر تھک ہار کر بیٹھ گئی۔ اسے صبر آ گیا تھا۔ وہ عورت موت کی حقیقت کو تسلیم کر چکی تھی۔

جگر مرادآبادی نے اس حقیقت کو دوسری شکل میں تسلیم کیا تھا۔ ان کی غزل کا مطلع ہے

بنا بنا کے جو دنیا مٹائی جاتی ہے
ضروراس میں کمی کوئی پائی جاتی ہے

ہر انسان اس وقت تک اپنے ماضی کو جیتا ہے جب تک وہ خود ماضی نہ بن جائے۔ ماں کی گود سے قبر اور شمشان کی آگ تک کے چھوٹے سے سفر میں انسان کی یادوں سے بہت کچھ گزرتا ہے۔ لیکن ان تمام یادوں میں سے وہی یاد رہ پاتا ہے جو ان سب میں قدرے مختلف ہوتا ہے۔

فلم ہدایت کار اور اداکار راج کپور میری ایسی ہی یادوں میں سے ایک ہیں۔ ان سے میری پہلی ملاقات بمبئی کے کھار علاقے میں واقع میرے فلیٹ میں ٹیلیفون کے ذریعے ہوئی تھی۔

اس فون کال کی ایک چھوٹی سی داستان ہے۔ ایک دن دوپہر کے وقت میں لوکل ٹرین سے چرچ گیٹ میں ادیبوں کے ایک جلسے میں شرکت کرنے جا رہا تھا۔ ٹرین کے اس ڈبے میں دو ایک مزيد فلمی دنیا کے لوگ بیٹھے تھے۔

جو قدرے مختلف ہوتا ہے
 ماں کی گود سے قبر اور شمشان کی آگ تک کے چھوٹے سے سفر میں انسان کی یادوں سے بہت کچھ گزرتا ہے۔ لیکن ان تمام یادوں میں سے وہی یاد رہ پاتا ہے جو ان سب میں قدرے مختلف ہوتا ہے۔

مجھے دیکھ کر وہ لوگ میرے قریب آگئے۔ جب انہوں نے اپنا تعارف کرایا تو میں نے عادتاً مذاق کے طور پر اپنے پاس بیٹھے ہوئے شخص کے بارے میں بتایا کہ وہ پاکستان کے مشہور شاعر احمد فراز ہیں۔

ان میں سے ایک شخص نے ’احمد فراز‘ ميں کافی دلچسپی دکھائی کیونکہ انہیں شاعری میں تھوڑی بہت دلچسپی تھی۔ میرے ساتھ بیٹھے ہوئے ’احمد فراز‘ نے بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھا دیئے۔

وہ شخص ممبئی سینٹرل کے سٹیشن پر اتر گیا۔ ان دنوں ممبئی سینٹرل کے قریب تاڑدیو میں کئی فلمی دفتر ہوا کرتے تھے۔ لیکن روانگی سے قبل وہ شخص کافی احترام کے ساتھ میرے بنائے ہوئے ’فراز‘ سے مل کر گیا تھا۔

اپنے پسندیدہ شاعر سے ملنے کی خوشی کی خبر وہ کسی نئی خبر کی طرح جگہ جگہ پھیلاتا رہا۔ ایک منہ سے دوسرے منہ، دوسرے سے تیسرے منہ سے گزرتی ہوئی یہ خبر چیمبور میں واقع راجکپور کے سٹوڈیو تک پہنچی اور وہاں سے اس سٹوڈیو کے کاٹج میں پہنچ گئی جہاں راج صاحب آرام بھی کرتے تھے اور کام بھی کرتے تھے۔

ان سے ملنے جو بھی آتا تھا وہ اسی کاٹج میں آتا تھا۔ اسی کاٹج کے نزدیک ایک باورچی خانہ تھا جہاں سے تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد کھانے پینے کی چیزيں آتی رہتی تھيں۔

یہ بات دوسرے دن کی ہے کھار میں میں اپنے گھرپر تنہائی میں کسی کتاب سے دل بہلا رہا تھا کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی۔ اس وقت کوئی ڈھائی بجے ہوں گا۔ میرے ’ہلو‘ کہنے کے ساتھ ہی کئی فلموں میں سنی ایک آواز میرے کانوں ميں گونجی۔ یہ آواز بڑی تہذیب سے بات کر رہی تھی۔

کیا میں ندا فاضلی صاحب سے بات کر سکتا ہوں؟

میں بول رہا ہوں ۔ کون بول رہا ہے ؟ میں نے جواب دیا۔

جی خاک سار کا نام راج کپور ہے۔ دوسری طرف سے کہا گیا۔

آپ تو’کامیڈی‘ میں بھی ماہرہیں
 دیر تک ٹیلیفون کا رسیور انکے قہقہوں سے گونجتا رہا۔ قہقہوں کے بعد ان کے الفاظ تھے، ندا صاحب میں تو آپ کو سنجیدہ شاعر سمجھتا تھا لیکن آپ تو ’کامیڈی‘ میں بھی ماہر ہیں

میں نے جیسے ہی راج صاحب کا نام سنا مجھے لگا کہ شاید وہ اپنی نئی فلم میں نغمے لکھوانے کا آفر دینے والے ہیں لیکن پتہ چلا کہ انہوں نے کسی دوسری وجہ سے فون کیا ہے ۔ دوسروں کی طرح انہیں بھی معلوم ہوا کہ پاکستان کے شاعر ندا فاضلی کے مہمان ہیں۔

میں نے جب انہیں اس خبر کی اصلیت سے بتائی تو بڑی دیر تک ٹیلیفون کا رسیور انکے قہقہوں سے گونجتا رہا۔ قہقہوں کے بعد ان کے الفاظ تھے، ندا صاحب میں تو آپ کو سنجیدہ شاعر سمجھتا تھا لیکن آپ تو ’کامیڈی‘ میں بھی ماہر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں آپ کی اس خوبی کو ضرور استعمال کروں گا اور جب انہوں نے اپنے بینر پر ’بیوی او بیوی‘ کا اعلان کیا تو اپنے وعدے کو نبھایا بھی۔ اسی فلم کے سلسلے میں جب ان سے ملاقات ہوئی تو ٹیلیفون پر سنی ہوئی آواز چہرہ اور جسم بن چکی تھی۔

یہ چہرا اور جسم اس راج کپور سے بالکل مختلف تھا جو ’آوارہ‘، ’سنگم‘، ’میرا نام جوکر‘ اور ’جاگتے رہو‘ جیسی فلموں میں اداکار کے طور پر نظر آیا تھا کیونکہ بھرے ہوئے چہرے اور بھاری جسم کے سبب وہ راج کپور کم اور پرتھوی راج کپور زيادہ نظر آ رہے تھے۔

فلم ’بیوی او بیوی‘ میں سنجیو کپور اور رندھیر کپور نے اہم کردار ادا کیا تھا اور آر ڈی برمن فلم کے موسیقار تھے۔ اس فلم کے پہلے نغمے کی ریکارڈنگ تھی۔ گیت میں لکھ چکا تھا اور موسیقی بھی تیار تھی اور آر ڈی برمن کے میوزک روم میں آخری ریہرسل پوری تیاری میں تھی۔ فلم کے ہدایت کار رویل اور رندھیر کپور بیٹھے تھے۔ گیت کی دھن اور بول سب پسند کرچکے تھے۔

پنچم کا میوزک روم ان دنوں سانتاکروز کی دوسری منزل پر تھا۔ ساز کھنکھنا رہے تھے۔ پنچم گیت گا رہے تھے۔ رندھیر تعریف میں سر ہلا رہے تھے کہ اچانک لفٹ کھلنے کی آواز آئی۔ سب نے دیکھا ایک ہاتھ میں بھیل پوری تھامے راج صاحب آرہے ہیں۔ انھیں دیکھ کر سب لوگ کھڑے ہو گئے۔ مسکراتے ہوئے ، جہاں میں بیٹھا تھا، اسکے سامنے بیٹھ گئے ۔ ریہرسل پھر شروع ہوگئی۔

راج صاحب کی آنکھوں اور گردن کے اشارے سے لگتا تھا کہ انہیں موسیقی پسند ہے۔ سازوں کی آواز بند ہونے کے بعد انہوں نے کہا بھی ’گیت بہت اچھا ہے، دھُن بھی خوب ہے۔ پھر مجھے اپنے پاس بلاکر پوچھا، آپکو گانے کی ’سچویشن‘ کس نے سمجھائی تھی۔ میں نے رندھیر کپور کی طرف اشارہ کیا۔ انھوں نے سر ہلایا اور کہا اگر کل آپ کو فرصت ہو تو چیمبر میں ہماری کٹیا میں آکر ہم سے سچویشن سن لیجیۓ۔

پنچم سمجھ چکے تھے کہ کل گیت رکارڈ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے مجھے اکیلے میں بتایا کہ اگر تم کل راج صاحب کے کاٹج جاکر ان سے گیت کا موضوع سن کر وہیں اسی دھن پر گیت لکھ دو گے تو ریکارڈنگ ہوگی نہیں تو نہیں ہوگی۔

اینڈ دیٹ از دی
 دوسرے دن راج صاحب اچانک بولے ’دیر از آ گرل، دیر از آ بوائے۔ دیر واز آ گرل، دیر واز آ بوائے۔ دیر ول بی آ بوائے، اینڈ دیٹ از دی ہول لائف۔۔۔‘
میں دوسرے دن راج صاحب کے سامنے تھا۔ پہلے اپنے ماضی اور چھوڑے ہوئے پشاور کی باتیں کرتے رہے پھر اچانک بولے ’دیر از آ گرل، دیر از آ بواے۔ دیر واز آ گرل، دیر واز آ بوائے۔ دیر ول بی آ بوائے، اینڈ دیٹ از دی ہول لائف۔۔۔‘

انگریزی کے ان جملوں کے بعد بولے ’جی بس اسی خیال کو ہی نغمہ بنانا ہے‘۔ دھن میرے ذہن میں تھی۔ دماغ بھی تھوڑا کام کررہا تھا۔ میں نے فورا انہیں مکھڑا بنا کر سنایا۔ :

صدیوں سے دنیا میں یہی تو قصہ ہے
ایک ہی تو لڑکا ہے اور ایک ہی تو لڑکی ہے
جب بھی یہ مل گئے پیار ہوگیا

بول انہیں پسند آئے اور اسے آر ڈی برمن نے ریکارڈ کیا۔

راج کپور اب نہیں ہیں۔ لیکن وہ یادوں کی شکل میں میری طرح آج بھی کئی ذہنوں میں زندہ ہیں۔

میری ان سے آخری ملاقات چیمبور میں انہی کے بنگلے میں ہوئی تھی۔ وہ اس وقت تک شوگر کے مریض ہو چکے تھے۔ ان کی بیوی کرشنا جی ان کی شراب پر کنٹرول لگانے کے لیئے ان پر پہرا دیتی رہتی تھیں لیکن جیسے ہی وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہوتی وہ ایک پیگ چڑھا لیتے۔

’نشہ نشے کے لیئے ہے عذاب میں شامل
کسی کی یاد کو کیجے شراب میں شامل

مرزا اسد اللہ خان غالبغالب اور ازاربند
غالب، ازاربند اور شاعر وادیب ندافاضلی کابیان
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد