BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 June, 2006, 12:37 GMT 17:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بالی وڈ فلم ڈائریکٹر رشی کیش علیل

رشی کیش نے سماجی مسائل کو فلم کے ذریعہ دنیا کے سامنے پیش کیا
انڈین فلم انڈسٹری میں کئی یادگار اور کامیاب فلموں کے خالق رشی کیش مکھرجی کو منگل کی صبح علالت کے باعث ممبئی کے لیلا وتی ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ ان کی عمر چوراسی سال ہے۔

رشی کیش تیس ستمبر انیس سو بائیس میں مغربی بنگال کے شہر کلکتہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انیس سو اکیاون میں انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز نامور فلمساز بمل رائے کے ساتھ کیا۔ رشی کیش کو فلمی دنیا رشی دا کے نام سے جانتی ہے۔

رشی دا نے بمل رائے کے معاون ڈائریکٹر کی حیثیت سے فلم مسافر میں کام کیا۔ فلم کو کامیابی نہیں ملی لیکن راج کپور ان کے کام سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے انیس سو انسٹھ میں انہیں اپنی فلم ’اناڑی‘ کی ہدایات دینے کے لیئے کہا۔ اس فلم میں راج کپور کے ساتھ اس وقت کی مشہور اداکارہ نوتن تھیں اور فلم انتہائی کامیاب رہی ۔اس کے بعد رشی دا نے مڑ کر نہیں دیکھا۔

انہوں نے 46 فلموں کی ہدایت دی پندرہ فلموں کی کہانیاں لکھیں اور وہ چودہ فلموں کے ایڈیٹر تھے۔

نوتن
فلم ’اناڑی‘ میں راج کپور کے ساتھ اس وقت کی مشہور اداکارہ نوتن تھیں

رشی دا کی فلمیں سیدھی سادی گھریلو فلمیں ہوتی تھیں۔ فلموں میں وہ جس طرح انسانی فطرت اور جذبات کی عکاسی کرتے تھے وہ کسی اور ڈائریکٹر کے بس کی بات نہیں تھی۔ ان کی فلمیں دیکھ کر لوگ روتے تھے اور قہقہے بھی لگاتے تھے۔ ان کی فلموں میں نغمگی کو ایک خاص اہمیت حاصل تھی۔ اس لیئے ان کی فلموں کے نغمے بہت مقبول ہوتے تھے۔ ان کی زیادہ تر فلموں میں سچن دیو برمن کی موسیقی ہوتی تھی جو کلاسیکی موسیقی میں ایک اعلٰی مقام کے حامل تھے ۔

فلم اصلی نقلی، اناڑی، آشیرواد، ابھیمان، گڈی، خوبصورت اور نمک حرام جیسی فلموں کے خالق رشی دا نے کبھی اپنی فلموں میں تشدد یا عریانیت کا سہارا نہیں لیا۔

رشی دا ہر فن مولا تھے۔ ایک طرف وہ انسانی فطرت اور گھریلو زندگی کو پردے پر اتارنے کے ماہر سمجھے جاتے تھے تو دوسری طرف متوسط طبقہ اور ان کے مسائل کو دنیا کے سامنے لانے میں انہوں نے ایک اہم کردار نبھایا ہے۔ سماجی مسائل کو فلم کے ذریعہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اس سے ایسا لگتا تھا کہ وہ فلم کو ایک میڈیا کے طور پر اچھی طرح استعمال کرتے تھے اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے ۔

رشی دا
رشی دا کی فلمیں سیدھی سادی گھریلو فلمیں ہوتی تھیں

دوسری جانب ہلکی پھلکی کامیڈی کے میدان میں بھی انہوں نے طبع آزمائی کی۔ ان کی فلم چپکے چپکے، نرم گرم، خوبصورت، جھوٹ بولے کوا کاٹے
اور آنند ایسی ہی فلمیں ہیں ۔لوگوں کو ہنساتے ہنساتے رلانے کا ہنر بھی انہیں معلوم تھا۔

ان کی یادگار فلموں میں ایک فلم ’ آنند‘ کا راجیش کھنہ کینسر جیسے مرض کی آخری اسٹیج پر ہے اور وہ اپنے ساتھیوں کو ہنسانے کی کوشش کرتا ہے۔ ناظرین اس منظر کو شاید کبھی بھول نہیں پائیں ۔

فلم ابھیمان میں انہوں نے میاں بیوی کے نازک رشتہ کو بہت خوبصورتی کے ساتھ پردے پر اتارا وہیں اس فلم سے انہوں نے بالی وڈ کی ویمپ کا امیج بھی بدل کر رکھ دیا ۔اس میں ان کا کردار مثبت تھا۔

رشی دا کو انیس سو ننانوے میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ سن دو ہزار ایک میں رشی دا کو فلموں میں ان کی خدمات کے عوض پدم وبھوشن کا خطاب بھی مل چکا ہے۔ انیس سو ساٹھ میں ان کی فلم انورادھا پر انہیں صدر جمہوریہ میڈل سے نوازا گیا۔

رشی دا کی فلمیں ایوارڈ کی محتاج نہیں ہو سکتیں۔ ان کی فلموں سے آئندہ نسل کے ہدایت کار اور کہانی کاروں نے سبق حاصل کیا ہے اور وہ ان کے لئے سنگ میل ثابت ہوئے ہیں ۔

اسی بارے میں
نعیم ہاشمی کی یاد میں
25 April, 2006 | فن فنکار
حق بہ حق دار رسید
11 May, 2006 | فن فنکار
تیری نگریا سے دور
26 May, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد