BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 June, 2006, 12:15 GMT 17:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شاعری کی ’ان فراموش ایبل شام‘

پشاور میں شاعری
صوبائی دارالحکومت پشاور کے باسیوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس قسم کے ’ان بیان ایبل‘ مواقع کم ہی ملتے ہیں
عالمی شہرت کے اردو کے دو شعراء کے ساتھ اڑھائی گھنٹے کی واہ واہ، تالیوں اور قہقہوں سے لبریز نشست نے اس شام کو یقینا بقول انور مسعود ’ان فراموش ایبل’ بنا دیا۔


صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے باسیوں کو اس قسم کے ’ان بیان ایبل‘ مواقع کم ہی ملتے ہیں۔ ملک کا ایک قدیم ترین شہر ہونے اور اپنی ہی ایک انفرادی ثقافت رکھنے والے پشاور کو ہمیشہ ادبی و تفریحی مواقع کی کمی کی شکایت رہی ہے۔ یہ گلا یقیناً کوئی اتنا بےجا بھی نہیں۔ متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے تین چار سال دور حکومت میں اس پیاس کی شدت میں اضافہ ہی ہوا ہے۔

تاہم بین الاقوامی شہرت کے حامل شعرا امجد اسلام امجد اور انور مسعود کے ساتھ اس شام کا اہتمام محکمہ ثقافت، صوبہ سرحد اور اباسین آرٹس کونسل نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔

اس قسم کی تقاریب کا انتظار پشاور کے لوگوں کو ہر وقت رہتا ہے۔ اس ’ظالم‘ انتظار میں مزید ڈیڑھ گھنٹے کا اضافہ اس شام کے طویل تاخیر سے آغاز سے ہوا۔ تاہم ان شعرا کو سننے کی لگن پر نشتر ہال کے غیرموثر ائرکنڈیشنگ سسٹم نے بھی کوئی خاص اثر نہیں ڈالا۔ کوئی چار سو کے قریب شائقین اپنی نشستوں سے ہلے بھی نہیں۔

سٹیج سیکرٹری کےفرائض ناصر علی سید خوب ہی انجام دیتے ہیں لیکن اس تقریب کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس شاعر کے ساتھ شام وہ مناتے ہیں تو اُس شاعر کو وہ اس شام کا دولہا بھی کہتے ہیں۔ لیکن یہ شام قدرے مختلف تھی کیونکہ اس میں دو دو دولہا تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کی تقریب سے کسی اجتماعی شادی کا گماں ہونے لگا ہے۔

امجد اسلام امجد کی سیلف میڈ
 ڈرامہ نگار اور شاعر امجد اسلام امجد نے ’سیلف میڈ لوگوں کا المیہ‘ اور حاضرین کے ذوق و شوق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند ’آف بیٹ‘ نظمیں بھی سنائیں اور داد وصول کی

سجاد بابر، پروفیسر نذیر تبسم اور پروفیسر طٰہ خان نے دونوں شعرا کی صلاحیتوں پر مختصر روشنی ڈالی اور پھر وہ شعر خوانی شروع ہوئی جسے سننے کے لیئے لوگ آئے تھے۔

ڈرامہ نگار اور شاعر امجد اسلام امجد نے ’سیلف میڈ لوگوں کا المیہ‘ اور حاضرین کے ذوق و شوق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند ’آف بیٹ‘ نظمیں بھی سنائیں اور داد وصول کی۔ اس دوران انہیں حاضرین کی جانب سے جن میں بڑی تعداد خواتین کی بھی تھی پرچیوں پر فرمائشیں بھی آنا شروع ہوگئیں۔

ان کے بعد ’مزاح کے شہنشاہ‘ کہلوانے والے انور مسعود کا نمبر آیا تو انہوں نے اس عمر میں انہیں دولہا قرار دینے پر ناصر علی سید کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بھی اپنے چند معروف فن پارے پیش کرکے حاضرین سے زبردست داد وصول کی۔

انور مسعود کسی محفل میں بذات خود موجود ہوں اور ان کی مشہور مزاحیہ نظمیں ’بنیان‘ اور ’کوفتہ‘ نہ سنی جائیں یہ کیسے ممکن ہے۔ سو انہوں نے وہ بھی سنائیں۔

اس تقریب میں صوبہ سرحد کے انسپکٹر جنرل پولیس رفعت پاشا بھی سٹیج پر موجود تھے۔ ویسے تو وہ غیرمتوقع طور پر اچھے موڈ میں دکھائی دیتے تھے اور انور مسعود کی نظم ’لیلی کی ماں کی دہائی‘ میں مجنوں کے پولیس مقابلے میں مارے جانے کے شعر پر وہ بھی دل کھول کر ہنسے۔

انور مسعود ’بنیان‘ اور ’کوفتہ‘
 انور مسعود کسی محفل میں بذات خود موجود ہوں اور ان کی مشہور مزاحیہ نظمیں ’بنیان‘ اور ’کوفتہ‘ نہ سنی جائیں یہ کیسے ممکن ہے۔ سو انہوں نے وہ بھی سنائیں

اس تقریب میں کسی صوبائی وزیر کی شرکت کا تو امکان نہیں تھا تاہم بڑی تعداد میں ایسے افراد بھی موجود تھے جو ان کے ووٹر ضرور ہوں گے۔ لمبی لمبی داڑھیوں اور سفید ٹوپیوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔

نشتر ہال میں یہ رونق اور زندگی کی رمق دیکھ کر اچھا لگا۔ اس ’ان فراموش ایبل‘ شام میں شرکت کے بعد یہی دعا دل سے نکلی کہ ’کاش اس ہال کی چہل پہل اسی طرح قائم رہے‘۔

اردو کانفرنسلندن اردو کانفرنس
اردو کے مسائل، امکانات، امیدیں اور اندیشے
قرآنبےحرمتی ہوتی ہے
عربی کے بجائے اردو ترجمے کی سفارش
اسی بارے میں
بی بی سی اردو آپ کی دہلیز پر
24 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد