BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 June, 2006, 15:18 GMT 20:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اردو:امکان، مسائل امیدیں اور اندیشے

اردو کانفرنس
تیسری اردو عالمی کانفرنس لندن میں 23جون سے 25جون تک ہوئی
تیسری عالمی اردو کانفرنس: 2006 لندن میں 23جون سے 25جون تک جاری رہی۔ اردو ٹائمز کے جانب سے 2004 میں شروع کیئے جانے والے اس سلسلے کی پہلی کانفرنس نیویارک میں اور دوسری کانفرنس - 2005 کنیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ہو چکی ہے۔


تین روز کے دوران کانفرنس کے نو اجلاس ہوئے جن میں افتتاحی اجلاس کے بعد پہلا اجلاس ’جدید ٹیکنالوجی اور اردو زبان‘ کے موضوع پر، دوسرا ’بیرون ملک اردو بولنے والوں کی نئی نسل اور اردو زبان کا تحفظ‘ کے موضوع پر، تیسرا ’اردو ادب میں ایشیائی خواتین کا حصہ‘ کے موضوع پر، چوتھا ’کثیر الاشاعت مطبوعات اور قارئین کا ادبی ذوق‘ کے موضوع پر، پانچواں ’اردو کی تعلیم و تدریس کے مسائل‘ کے موضوع پر، چھٹا ’اردو رسم الخط میں تبدیلیوں کے مطالبات‘ کے موضوع پر، ساتواں ’اردو ذرائع ابلاغ کی ذمہ داریاں‘ کے موضوع پر اور آٹھواں اجلاس ’ادب میں حمد، نعت، منقبت اور مرثیے کا مقام‘ کے موضوع پر ہوئے۔ اس کے علاوہ ایک کتاب کی تقریبِ رونمائی محفلِ موسیقی اور فیصلوں و قرار دادوں کی منظوری پر مشتمل اختتامی اجلاس کے بعد مشاعرے کی طویل نشست ہوئی۔
 ظفر اقبال
ظفر اقبال کو اردو عزل کا سب سے بڑا شاعر تصور کیا جاتا ہے

تیسری عالمی اردو کانفرنس میں پاکستان، انڈیا، برطانیہ، امریکہ، جنوبی افریقہ، ماریشس، متحدہ عرب امارات، سویڈن، ناروے اور ازبکستان سمیت بارہ ملکوں سے اردو کے ادیب، دانشور، ماہرینِ لسانیات، ناشرین اور کتب فروخت کرنے والے شریک ہوئے۔ ادیبوں اور شعراء میں سرِ فہرست ظفر اقبال، پروفیسر گوپی چند نارنگ، ازبکستان سے تاش مرزا، افتخار عارف، اصغر ندیم سید، جامعہ کراچی وائس چانسلر قاسم پیرزادہ، ابوکلام اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر عبدالجلیل پٹھان، پرفیسر فتح محمد ملک، ابوالکلام قاسمی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی، ڈیوڈ میتھیوز شعبہ اردو لندن یونیورسٹی، مظفر ممتاز، قمر علی عباسی، نیلوفرعباسی، رضا علی عابدی، ماہ طلعت، منیر پرویزسامی، شمیم علیم، شکیلہ رفیق، سید ذوالفقار حسین، ڈاکٹر طارق محمود، صغیر جعفری، نگار مرزا، وکیل انصاری، رفیق احمد، سید نسیم اختر، ضیاء الدین شکیب، رخسانہ رخشی اور دیگر شامل تھے۔

افتتاحی اجلاس گوپی چند نارنگ کی صدارت میں ہوا۔ رضا علی عابدی نے اس کی نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ اس اجلاس میں مندوبین کا ایک دوسرے سے تعارف کرایا گیا اور تمام مندوبین نے عالمی اردو کانفرنسوں کا سلسلہ شروع کرے پر اردو ٹائمز کے ایڈیٹر خلیل الرحمٰن کی کوششوں کو سراہا۔

کانفرنس کا پہلا اجلاس جدید ٹیکنالوجی اور اردو زبان کے موضوع پر تھا۔ اس اجلاس کی صدارت فتح محمد ملک نے کی اور نظامت ڈاکٹر جاوید شیخ نے۔ اس کے مقررین میں سید اختر درانی، سید ذوالفقار صفی صدیقی اور پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود شامل تھے۔

صدرِ اجلاس فتح محمد ملک نے کہا کہ پاکستان کے حالیہ بجٹ میں اردو کے لیئے وافر مالی وسائل فراہم کیئے گئے ہیں۔ تراجم پر کام ہو رہا ہے لیکن سماجیات سائنسدانوں کو بھی زبان کی یہ ذمہ داری محسوس کرنی چاہیئے۔

گوپی چند نارنگ
ساہتیہ اکیڈمی کے سربراہ اور نقاد و دانشور گوپی چند نارنگ

نئی نسلیں اور اردو کا تحفظ کے موضوع پر ہونے والے اجلاس کی صدارت ضیاء الدین شکیب نے کی جب کہ اس کی نظامت کے فرائض نیلوفر عباسی نے انجام دیئے۔ اس اجلاس کے دیگر شرکاء صفی صدیقی اور شمیم علیم تھے۔

مقررین نے کہا کہ ہمیں اس سچائی کا سامنا کرنا چاہیئے کہ بیرونی ممالک میں اردو دم توڑ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اردو کی ترقی کے لیئے انٹر نیٹ کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جانا چاہیئے۔

اردو ادب میں ایشیائی خواتین کا حصہ: بغیر صدارت کے ہونے والے اس اجلاس کی نظامت کے فرائض ماہ طلعت عابدی نے انجام دیئے اور مقررین میں فرحت جہاں اور پروین لاشاری اور دیگر مقررین شامل تھے۔

مقررین نے کہا کہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ’یہ بات کس حد تک درست ہے لوگوں نے کتابیں پڑھنا چھوڑ دی ہیں‘۔ بحران کے ادوار میں بھی قراۃ العین حیدر، ادا جعفری، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، بانو قدسیہ، خدیجہ مستور اور اس کے بعد کی نسل کی بہت سے خواتین لکھتی رہیں اور انہوں نے نہ تو اپنے انداز اور اسلوب تبدیل کیے اور نہ اپنے ناموں پر کوئی حرف آنے دیا۔

افتخار عارف
اکادمی ادبیات کے سربراہ شاعر افتخار عارف

کثیرالاشاعت مطبوعات اور قارئین کا ادبی ذوق کے موضوع پر ہونے والے اجلاس کے صدر رضا علی عابدی تھے اور اس میں شکیلہ رفیق، افتخار قریشی، قیصر زیدی اور عذرا رسول نے بطور مقرر شرکت کی۔

صدرِ نشست رضا علی عابدی کا کہنا تھا کہ کثیر الاشاعت جرائد اور ڈائجسٹوں نے ادب کو فروغ دیا ہو یا نہ دیا ہو لیکن انہوں نے زبان کو یقینی طور پر فروغ دیا ہے اور ان کی تعدادِ اشاعت سے ظاہر ہے کہ انہوں نے ہر دور میں نئے اور زیادہ سے زیادہ پڑھنے والے پیدا کیئے ہیں۔

دوسرے دن کے ان اجلاسوں کے بعد سلطان قابوس پر لکھی گئی ایک انتہائی دیدہ زیب کتاب کی تقریب کی رونمائی ہوئی۔ اس رونمائی کی صدارت پروفیسر گوپی چند نارنگ نے کی اور نظامت کے فرائض رضا علی عابدی نے انجام دیئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کتاب روسی میں لکھی گئی تھی۔ جس کا ترجمہ پہلے عربی میں اور اب اردو میں کیا گیا ہے۔

فتح محمد ملک
مقتدرہ اردو زبان پاکستان کے سربراہ اور نقاد فتح محمد ملک

اردو کی تعلیم و تدریس کے مسائل کے موضوع پر ہونے والے اجلاس کی صدارت جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پیر زادہ قاسم نے کی۔ اس اجلاس کے مہمانِ خصوصی ابوالکلام قاسمی تھے اور مقررین میں نجمہ عثمان، تاس مرزا اور قاسم دلوی شامل تھے۔

اس اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ برطانیہ میں اردو زبان کی تدریس کا معیار اچھا نہیں ہے اور تدریس دینے والے ہی نہیں امتحانی بورڈ میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جنہیں نہ تو اردو آتی ہے اور نہ ہی انہوں نے اردو کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر اردو رسم الخط کے مسئلے پر ہونے والے اجلاس کی صدارت گوپی چند نارنگ نے کی جب کہ اس کے مقررین میں اصغر ندیم سید، ابوالکلا قاسمی اور منیر پرویز سامی شامل تھے اور اس نظامت کے فرائض نجمہ عثمان نے انجام دیئے۔

تمام مقرین اور صدرِ اجلاس اس بات پر متفق تھے کہ کسی بھی زبان کا رسم الخط تبدیل کرنا اس کے لیئے فائدہ مند نہیں ہو سکتا۔ اس سلسلے میں ترکی اور انڈونیشیا کا حوالہ دیا گیا جہاں رومن رسم الخط اختیار کیا گیا ہے اور اب یہ حال ہے کہ ان کے تمام ادبی ورثے کا بڑا حصہ ناقابلِ استعمال ثابت ہو رہا ہے۔ جب کے زبان میں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔

پروفیسر گوپی چند نارنگ کا کہنا تھا کہ رسم الخط زبان کا لباس نہیں اس کی کھال ہوتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے کسی انسان کے جسم پر اس کی کھال ہوتی ہے۔ لباس تو تبدیل کیا جاتا ہے مسلسل تبدیل کیا جاتا ہے لیکن کسی کے جسم سے کھال اتار لی جائے یہ ناقابلِ تصور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سیدھا سیدھا فاشزم ہے اور جو اردو کے لیئے دیو ناگری رسم الخط کی تجاویز پیش کرتے ہیں وہ کسی بھی طرح اردو کے خیر خواہ نہیں ہیں۔

خلیل الرحمٰن
کانفرنس کے آرگنائزر اور اردو ٹائمز کے ایڈیٹر خلیل الرحمٰن

منیر پرویز سامی کہا کہ رسم الخط کو زبان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دینے والے اس بات کو فراموش نہ کریں کہ اردو کے سب سے کثیر الاشاعت اخبار جنگ نے انٹرنیٹ ایڈیشن کو رومن خط میں بھی جاری کیا لیکن وہ اتنا مقبول نہیں ہو سکا۔ اس کے برخلاف بی بی سی اردو نے اپنی ویب سائٹ کے لیے اردو کا نسخ خط منتخب کیا اور شاید وہ انٹرنیٹ پر اردو کی سب سے مقبول سائٹ ہے۔

تیسرے دن کے تیسرے اجلاس کے دوران اردو ذرائع ابلاغ کی ذمہ داریوں کے حوالے سے ہونے والے اس اجلاس کی صدارت فتح محمد ملک نے کی۔ جب کہ اس اجلاس کے مقررین میں قمر علی عباسی، پیرزادہ قاسم اور ارمان نجمی شامل تھے۔ اس اجلاس کی نظامت کے فرائض سید حسن نے انجام دیئے۔

اس کے بعد کے اجلاس کا موضوع ’حمد، نعت اور مرثیے کا ادب میں مقام‘ تھا اس اجلاس کی صدارت افتخار عارف نے کی۔ جب کہ اس کے مقررین میں ظفر اقبال، منیر پرویز سامی، رضا علی عابدی اور سید نسیم اختر شامل تھے۔ اجلاس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر احسن زیدی نے انجام دیئے۔

تمام تر بحث کے بعد صدرِ اجلاس نے نعت، حمد، قصیدے اور مرثیے کی تاریخ کا انتہائی ’مختصر ترین‘ تحریری خلاصہ پیش کیا۔

ایک طرف تو انہوں نے ہومر سے زُہیر ابی سلمیٰ اعشٰی تک کی یاد دلائی اور دوسرے طرف تلسی سے اقبال تک رسائی کا قضیہ اٹھایا۔ اور پھر نعت کو جام بدایونی تک اور مرثیے کو ضمیر اختر نقوی تک لائے۔ مرثیہ گو خواتین میں ان کا آخری حوالہ تصویر فاطمہ کی کتاب ہے۔ اس کے باوجود اس اجلاس میں موضوع کے تقاضے پورے نہیں ہو سکے۔

محفلِ موسیقی
محفلِ موسیقی شوبھنا رانی اور شیلا رانی نے اپنے فن اور مہارت کا مظاہرہ کیا

کانفرنس کا آخری اجلاس فیصلوں اور قرار دادوں کے حوالے سے تھا۔ جس میں چودہ نکات کی منظوری دی گئی۔ اس کے بعد وقفہ ہوا اور وقفے کے بعد کانفرنس کی آخری تقریب مشاعرہ تھا جس کی صدارت ظفر اقبال نے کی اور جس میں ہندوستان، پاکستان، امریکہ، برطانیہ اور ناروے سمیت چھ ملکوں کے 27 شعراء نے شرکت کی۔ ان میں فاروق سالک، باسط کانپوری، سید صغیر جعفری، اقبال مرزا، آدم چغتائی، مصطفٰی شہاب، سعید اختر درانی، فاروق ساغر، محمد عثمان، سوہن راہی، پروین لاشاری، عقیل دانش، ترغیب بلند، جمیل احسن، مظفر ممتاز، صفی صدیقی، منیر پرویز سامی، ڈیوڈ میتھیوز، ظفر زیدی، ارمان نجمی، ف س اعجاز، اصغر ندیم سید، سید نسیم اختر، اکبر حیدر آبادی، پیرزادہ قاسم اور افتخار عارف نے بالترتیب اپنا کلام سنایا جس کے بعد آخر میں صدر مشاعرہ ظفر اقبال دیر تک فرمائشی کلام سناتے رہے۔
بھارت کی اردو یونیورسٹیمولانا آزاد یونیورسٹی
بھارت کی اردو جامعہ، پاک بھارت رابطے کی کڑی
کتاب100 سال بعد
اردو قواعد کی مفصل کتاب منظر عام پر
بالی وڈ اور اردوممبئی مذاکرے کا حال
بالی وڈ اور اردو کا رشتہ ہمیشہ رہے گا
’اردو اور نیو میڈیا‘
اردوڈاٹ کام کے زیرانتظام حیدر آباد میں سیمینار
اسی بارے میں
آس پاس
ایک طرح کے لفظ، دو طرح کےمطلب
11 November, 2005 | قلم اور کالم
لفظوں کی لفاظی
02 November, 2005 | Learning English
سو برس بعد، اُردو کی گرامر
11 May, 2006 | قلم اور کالم
دِلّی میں اردو کا جشن
20 November, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد