عربی کے بجائے اردو ترجمے کی سفارش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب قرآن بورڈ نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ قرآن پاک اور احادیث نبوی کو بےحرمتی سے بچانے کے لیے دعوت ناموں، شادی کارڈوں اور میت و مزاروں پر چڑھائی جانے والی چادروں پر عربی متن کے بجائے اردو ترجمہ شائع کیا جائے۔ پنجاب قرآن بورڈ نے یہ سفارش گزشتہ روز ایوان اوقاف میں ہونے والے ایک ایسے اجلاس میں کی ہے جس میں مذہبی رہنماؤں کے علاوہ پولیس، کسٹمز اور محکمۂ اوقاف سے تعلق رکھنے والے سرکاری افسران نے بھی شرکت کی۔ مسلمانوں کے ایک مذہبی رہنما مولانا مجیب الرحمٰن انقلابی نے کہا ہے کہ ’احادیث اور قرآن کی آیتیں لکھے یہ دعوت نامے، شادی کارڈ یا چادریں زمین پر بھی گرتی ہیں اور اس کے علاوہ مذہبی نکتہ نظر سے بھی صحیح معنوں میں ان کی دیکھ بھال نہیں ہو پاتی جس کے باعث ان کی بےادبی ہوتی ہے۔‘ بورڈ کے رکن مولانا عبدالرؤف فاروقی نے کہا کہ ’ان کے عقیدے کے مطابق عربی الفاظ، خدا تعالی کے ہیں اور ان کا جو بھی ترجمہ ہوگا وہ انسان کے الفاظ ہوں گے اس لیے اگر عربی کے بجائے اردو، پنجابی یا کسی بھی زبان میں ترجمہ ہو تو اس کے تقدس کی سطح میں کمی آ جاتی ہے اور اس لحاظ سے کم بےادبی ہوتی ہے۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ترجمے کا احترام بھی بہرحال ضروری ہے اور یہ مستند بھی ہونا چاہیے۔‘ یہ سفارش حکومت کو بھجوا دی گئی ہے لیکن مولانا عبدالرؤف کا کہنا ہے کہ اس پر عمل درآمد اور اس کا طریقہ کار طے کرنا حکومت کا کام ہے۔ اجلاس میں قرآن پاک کی غیر معیاری طباعت روکنے پر غور و خوص کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ قرآن پاک کو ایک خاص معیار پر چھاپنے کے فیصلے کو قانونی شکل دینے کے لیے ایک بل قانون سازی کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن پاک کی بےحرمتی کرنا پاکستان میں فوجداری جرم ہے اور اس کی سزا قید اور جرمانہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||