| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور میں ہندکو نعتیہ مشاعرہ
پاکستان میں رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہوچکا ہے۔ رحمتوں کے اس مہینے کے ان دس دنوں میں مسلمانوں کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ برکتیں اکٹھی کر یں۔ مساجد اور گھروں میں ختم قرآن اور اعتکاف کے علاوہ نعتیہ محافل کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔ اسی سلسلے میں صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کی ایک پرانی روایت کو تازہ کرنے کی کوشش میں ہفتے کی رات شہر کے قدیم حصے میں بیچ چوراہے پر مقامی زبان ہندکو کے ایک نعتیہ مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔ اس مشاعرے کے میزبان گندھارا ہندکو بورڈ پاکستان کے جنرل سیکرٹری ضیاءالدین کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش تھی کہ اس طرح کی روح پرور محفل کا انعقاد کسی محدود چاردیواری کی بجائے کھلے مقام پر کیا جائے تاکہ ہر خاص و عام اس میں شریک ہوسکے۔ منتظمین کم از کم اس حد تک ضرور کامیاب رہے۔ محسن احسان جیسے معروف شعراء کے علاوہ سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی اس میں شرکت کی۔ لوگوں کی بھی ایک بڑی تعداد نے مشاعرے میں شرکت کی۔ رات گئے شروع ہونے والا یہ مشاعرہ سحری تک جاری رہا جس میں پشاور کے علاوہ صوبہ کے دیگر علاقوں سے بھی پچاس کے قریب شعراء نے شان رسول میں اپنا کلام پیش کیا۔ اس طرح کے مشاعرے پشاور کی ایک قدیم روایت رہے ہیں۔ پچاس کی دہائی میں لوگ یکہ توت چوک جیسے مقامات پر اکٹھے ہوکر مختلف موضوعات پر اشعار سنایا کرتے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||