مرزا اسد اللہ خان غالب اور ازار بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تاریخ صرف راجاؤں اور بادشاہوں کی شکست یا فتح سے نہیں بنتی ہے۔ تاریخ اُن چھوٹی بڑی چیزوں سے بھی بنتی ہے جو اپنے وقت سے جڑی ہوئی ہوتی ہیں اور وقت گزرنے کے بعد خود بھی ایک تاریخ بن جاتی ہیں۔ یہ بظاہر معمولی چیزیں بہت غیر معمولی ہوتی ہیں۔ اس کا احساس مجھے اس وقت ہوا جب ہندوستان کے سابق صدر مرحوم فخرالدین علی احمد نے مرزا غالب کی یاد میں غالب میوزیم کی تعمیر کروائی۔ دلی میں ماتا سندری کالج کے سامنے یہ خوبصورت عمارت ہے جسے ایون غالب یا غالب انسٹی ٹیوٹ کہا جا تا ہے۔ ایسی ہی چھوٹی چیزیں غالب کے دور کی یاد تازہ کرتی ہیں۔ یہ عمارت مغل فنِ تعمیر کا نمونہ ہے جس میں آخری مغل بادشاہ کے دور کے شاعر مرزا غالب کے دور کو اس وقت کے ملبوسات، برتنوں، ٹوپیوں، پاندانوں، جوتوں اور چھوٹے بڑے زیورات کے ذریعے ایک ایسی اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو اس تاریخ سے بالکل مختلف ہے جو موجودہ دور میں اسکولوں اور کالجوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ موجودہ تاریخ ميں تلواروں، بندوقوں اور توپوں کا زیادہ ذکر ہے جس میں ہندو اور مسلم کے نام پر آدمی کو آدمی سے لڑایا جاتا ہے اور اپنا اپنا ووٹ بینک بنایا جاتا ہے۔ غالب میوزیم میں اور بہت سی چیزوں کے ساتھ کسی دستکار کے ہاتھ سے تیار کیا گیا ایک ازاربند بھی ہے۔ وقت کبھی رکتا نہیں یہ ایک سچائی ہے لیکن میوزیم میں رکھی ہوئی پرانی چیزوں میں وقت کا ٹھہراؤ دکھائی دیتا ہے۔ نظر پڑتے ہی یہاں رکھی ہر چیز دیکھنے والے کو اپنے زمانے میں لے جاتی ہے اور پھر دیر تک نئے نئے منظر دکھاتی ہے۔
غالب کے اس لمبے، ریشمی ازاربند نے میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی برتاو کیا۔ میں اچانک دو ہزار چھ سے نکل کر پرانی دلی کی تنگ گلیوں سے گزر کر بلّی ماران میں سہمی سمٹی اس حویلی میں پہنچ گیا جہاں غالب آتے ہوئے بڑھاپے میں گزری ہوئی جوانی کا ماتم کر رہے تھے۔ اس حویلی کے باہر انگریز دلی کے گلی کوچوں میں 1857 کا خونی رنگ بھر رہے تھے۔ غالب کا شعر تھا: ہم کہاں کے دانا تھےکس ہنرمیں یکتاتھے حویلی کے باہر کے دروازے پر لگی لوہے کی بڑی سی کنجی کھڑکھڑاتی ہے۔ غالب اندر سے باہر آتے ہیں تو سامنے انگریز سپاہیوں کی ایک ٹولی نظر آتی ہے۔ غالب کے سر پر انوکھی سی ٹوپی، بدن پر چغہ اور اس میں جھولتا ہواخوبصورت ازار بند دیکھ کر ٹولی کے سربراہ نے ٹوٹی پھوٹی ہندوستانی میں پوچھا: تمکا نام کیا ہوتا؟ غالب: مرزا اسداللہ خاں غالب عرف نوشہ غالب کی مذاح کی عادت نے انہیں بچا لیا۔ میں نے دیکھا اس رات سونے سے پہلے انہوں نے اپنے ازار بند میں کئی گرہیں لگائیں۔ غالب کی عادت تھی جب رات کو شعر سوچتے تھے تو لکھتے نہیں تھے۔ جب شعر مکمل ہو جاتا تو ازاربند میں ایک گرہ لگا دیتے تھے۔ صبح جاگ کر ان گرہوں کو کھولتے اور ایک ایک شعر یاد کر کر اپنی ڈائری میں لکھتے جاتے تھے۔ ہوئی مدت کی غالب مر گیا پر یاد آتا ہے ازاربند سے غالب کا رشتہ عجیب شاعرانہ تھا۔ ازاربند دو فارسی الفاظ کا مرکب ہے۔ اس میں ازار کا مطلب پائجامہ اور بند یعنی باندھنے والی رسی۔ ہندوستانی میں اسے کمربند بھی کہتے ہیں۔ یہ ازار بند مشین کے بجائے ہاتھوں سے بنائے جاتے تھے۔
عورتوں کے ازاربند مردوں سے مختلف ہوتے تھے۔ عورتوں کے لیئے ان میں چاندی کے چھوٹے چھوٹے گھنگرو بھی ہوتے تھے اور اس میں اصل موتی بھی ٹانکے جاتے تھے۔ لکھنؤ کی چکن کڑھائی علی گڑھ کی شیروانی، بھوپال کے بٹوؤں اور راجستھان کے دوپٹّوں کی طرح یہ ازاربند بھی ہنر کا ایک نمونہ ہوتے تھے۔ یہ ازاربند آج کل کی طرح گرہ لگانے کے بعد پائجامے کے اندر ڈال کر چھپائے نہیں جاتے تھے کیوں کہ یہ چھپانے کے لیئے نہیں ہوتے تھے بلکہ مردوں کے کرتوں اور عورتوں کے غراروں سے باہر لٹکا کر دکھانے کے لیئے ہوتے تھے۔ پرانی شاعری میں خاص طور پر نوابی لکھنؤ میں محبوباؤں کی لال چوڑیاں، پازیب، نتھ اور بندوّں کی طرح ازاربند بھی خوبصورتی کے بیان میں شامل ہوتا تھا۔ اس ایک لفظ سے ’کلاسک پیریڈ‘ میں کئی محاورے بھی تراشے گئے تھے جو اس زمانے میں استمعال ہوتے تھے۔ ان میں کچھ یوں ہیں: ’ازاربند کی ڈھیلی‘ اس عورت کے لیئے استمعال ہوتا ہے جو کردار کی صحیح نہ ہو۔ میں نے اس محاورے کو نغمگی بخشی۔ جفاہے خون میں شامل تووہ کریگی جفا ازار بند کی سچی سے مراد وہ عورت ہے جو نیک اور وفادار ہو۔ اس محاورے کا شعر اسطرح ہے: اپنی تو یہ دعا ہے یوں دل کی کلی کھلے ازاربندی رشتوں کے معنی ہوتے ہیں، سسرالی رشتے، بیوی کے میکے کی طرف کا رشتہ: گھروں میں دوریاں پیدا جناب مت کیجیے ازار سے باہر ہونے کا مطلب ہوتا ہے غصہ میں ہوش کھونا: پرانی دوستی ایسے نہ کھویۓ صاحب ازار بند میں گرہ لگانے کا مطلب ہوتا ہے کسی بات کو یاد کرنے کا عمل: نکل کے غیب سے اشعار جب بھی آتے ہیں غالب تو رات کے سوچے ہوئے شعروں کو دوسرے دن یاد کرنے کے لیئے ازاربند میں گرہیں لگاتے تھے اور انہیں کے وقت میں ایک نامی شاعر نظیر اکبرآبادی اسی ازاربند کی خوبصورتی کو شاعری کا موضوع بناتے ہیں۔
نظیر میلے ٹھیلوں میں گھومتے تھے۔ زندگی کے تمام رنگ دیکھ کر جھومتے تھے۔ ازار بند پر ان کی شاعری ان کی زبان دانی کی بہترین مثال ہے۔ انکی نظم کے چند اشعار: چھوٹا بڑا، نہ کم نہ مجھولا ازار بند |
اسی بارے میں ’۔۔۔اردو کہ بے رنگِ من است‘29 August, 2005 | فن فنکار کراچی کے کُتب خانے کیا ہوئے؟ 24 March, 2004 | پاکستان غالب چاۓ پلاؤگے؟26.05.2003 | صفحۂ اول دہلی میں’قلم برائے امن‘ 25 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||