شاہ رخ سےمنوج کمار کی ناراضگي | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی وڈ کے اداکار شاہ رخ خان نے اپنی فلم اوم شانتی اوم کے ایک سین میں منوج کمار کی اداکاری کی نقل پیش کی ہے جس سے منوج کمار کافی ناراض ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی بے عزتی ہوئی ہے۔ کمار اپنے دور میں حب الوطنی پر مبنی فلمیں بنانے کے لیے مشہور تھےاسی لیے انہیں بھارت کمار کا خطاب بھی ملا تھا۔ ایک مخصوص سین میں منوج کمار کو پولیس سے پیٹتے ہوئے دکھایا گيا ہے اور منوج اسی بات سے ناراض ہیں۔ شاہ رخ خان نے ذرائع ابلاغ کے سامنے کمار سے معافی مانگ لی ہے لیکن اس تنازع نے ایک بحث کو جنم دے دیا کہ کیا سینئر اداکاروں کی نقل انہیں خراج عقیدت پیش کرنا ہے یا ان کا مذاق اڑانا ہے ؟ فلم اوم شانتی اوم میں ستر کی دہائی کا سنیما دکھایا گیا ہے اور اس میں صرف منوج کمار ہی نہیں راجیش کھنہ، دھرمیندر، امیتابھ بچن، اکشے کمار ، ابھیشیک بچن کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ فلم میں ان کے کردار کو بھی مزاحیہ انداز میں پیش کیاگیا ہے۔
راجیش کھنہ فلم اوم شانتی اوم میں اپنے اوپر کیے گئے مذاق کا برا نہیں مانتے۔’یہ مجھے ایک طرح سے خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے، اگر ستر کی دہائی کا سنیما ہے تو پھر میرا ذکر ضروری تھا اور میں اسے فن کا ایک نمونہ سمجھتا ہوں، مجھ میں مِزاح کی حِس ہے اور یہ ایک طرح کا فن ہے مجھے کسی بات کا برا نہیں لگا۔‘ کسی اداکار کی نقل کر کے اس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے یا اسے خراج عقیدت پیش کرنے کی کوشش ہے، اس میں تمیز کرنا بہت مشکل ہے۔ اداکار اور ٹی وی شوز کے میزبان انو کپور کا ماننا ہے’ اگر کسی فنکار کی اداکاری کی نقل کی گئی ہے تو یہ سوچ کر نہیں کہ وہ ان کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن اوم شانتی اوم میں منوج کمار کی اداکاری کی صرف نقل پیش نہیں کی گئی ہے بلکہ انہیں ڈنڈے مارتے پولیس کو دکھایا گیا ہے جو قطعی غلط ہےاور شاید منوج جی کو بھی اسی بات پر افسوس ہے۔‘ بالی وڈ میں سینئر اداکاروں یا ہم عصر اداکاروں کی نقل کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔اس طرح کے کئی واقعات ہیں جب فلموں میں نہ صرف یہ کہ کسی اداکار کی نقل پیش کی گئی ہو بلکہ گلوکاروں کا بھی مذاق بنایا گیا ہو حتی کہ ایسی کئی فلمیں بنی ہیں جو اپنے دور کی مشہور شخصیات کی زندگی پر مبنی ہوں۔ میرا نام جوکر، میں اپنے دور کے شو مین کہلانے والے فلمساز اور اداکار راجکپور نے خود اپنا مذاق اُڑایا تھا۔ کامیڈین محمود نے فلم گرم مسالہ میں راج کپور خاندان کی تین نسلوں کی نقل پیش کی تھی جس میں پرتھوی راج کپور، راج کپور اور رشی کپور کو سامنے رکھ کر ان کی آواز اور اداکاری کی نقل کی تھی۔ سدا بہار ہیرو دیو آنند شاید ایسے واحد اداکار ہیں جن کے منفرد انداز کی نقل پر سب سے زیادہ کامیڈی کی جاتی ہے۔ لیکن آج تک انہوں نے کبھی اس پر اعتراض نہیں کیا۔ممکری اور کامیڈی کرنے والے فنکار اکثر شہنشاہ جذبات دلیپ کمار، پرتھوی راج کپور، اشوک کمار، راج کمار ، راجیش کھنہ شتروگھن سنہا، کی نقل کرتے ہیں۔ |
اسی بارے میں شاہ رخ کی فلم، خریداروں کی قطار25 April, 2007 | فن فنکار بھنسالی کا داؤ اور عدنان کی تیاری06 November, 2007 | فن فنکار چھوٹے نواب، بےبُو کی آنکھ مچولی24 September, 2007 | فن فنکار مقبولیت: سانوریا یا اوم شانتی اوم ؟08 November, 2007 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||