ریحانہ بستی والا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی |  |
 | | | فلم ’اوم سانتی اوم‘ مکمل بھی نہیں ہوئی ہے لیکن بولی 55 کروڑ روپے لگائی گئی ہے |
بالی وڈ کنگ شاہ رخ خان کی ہوم پروڈکشن فلم ’اوم شانتی اوم ‘ ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی ہے لیکن اس کے لیے بالی وڈ انڈسٹری کی تین بڑی کمپنیاں اسے منہ مانگی قیمت پر خریدنے کے لیے اپنی قسمت آزمائی کر رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کی بولی 55 کروڑ روپے لگائی گئی ہے۔ خان کی اس فلم کی یہ قیمت اب تک کی بالی وڈ کی کسی بھی فلم سے زیادہ ہے۔ گزشتہ برس ساجد نڈیاڈ والا کی فلم ’سلام عشق‘ بیالیس کروڑ روپے میں فروخت ہوئی تھی۔ یہ گزشتہ سال کی سب سے مہنگی فلم ثابت ہوئی تھی اور یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اب اس طرح کی روایت بن جائے گی جو صحیح ثابت ہوا۔ انڈین فلمی صنعت کے تجارتی تجزیہ کار امود مہرہ کا کہنا ہے کہ سٹوڈیو 18، سونی اور ایڈلیب فلمی کمپنیوں میں خان کی فلم خریدنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور جو زیادہ قیمت دے گا اس فلم کے حقوق اسی کمپنی کو دیے جائیں گے۔ مہرہ کے مطابق فلم ’اوم شانتی‘ اوم کی انڈیا اور غیر ممالک میں نمائش کے حقوق کے ساتھ سٹیلائیٹ، آڈیو اور ہوم ویڈیو حقوق بھی دس سال کے لیے فروخت ہوں گے۔
 |  فلموں کے تجزیہ نگار ترن آدرش مانتے ہیں کہ خان کی فلمیں انڈیا کے علاوہ امریکہ اور لندن میں اچھا کاروبار کرتی ہیں اور صرف ایک ماہ میں فلم کی قیمت وصول ہو جاتی ہے  |
مہرہ نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ فلم کے لیے کتنے کی بولی لگی ہے لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک یہ بولی پچپن کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ فلم کی اتنی قیمت پر انڈسٹری کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خان کی بالی وڈ میں بہت اہمیت ہے۔ یہ وہ نام ہے جن کے نام سے فلمیں بِکتی ہیں۔ شاہ رخ کی فلم کی اتنی قیمت کس لیے؟ اس کے جواب میں مہرہ کا کہنا تھا کہ خان آج اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ اپنی پسند کی پروڈکشن کمپنیوں میں ہی کام کریں اور وہ صرف یش راج فلمز یا کرن جوہر کی کمپنی دھرما پروڈکشن جیسے بڑے بینر کی کمپنی کے ساتھ ہی کام کرتے ہیں۔اس لیے کسی اور پروڈکشن کمپنی کے لیے ان کی فلم میں خان کا کام کرنا ایک خواب کے مانند ہے اس لیے اگر ان کی کمپنی ایک تیار فلم حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ان کے لیے یہ منافع کا سودا ہے۔ فلموں کے تجزیہ نگار ترن آدرش مانتے ہیں کہ خان کی فلمیں انڈیا کے علاوہ امریکہ اور لندن میں اچھا کاروبار کرتی ہیں اور صرف ایک ماہ میں فلم کی قیمت وصول ہو جاتی ہے۔ اس لیے کسی بھی کمپنی کے لیے پچپن کروڑ یا اس سے بھی زیادہ قیمت دے کر خان کی فلم خریدنا کسی طرح بھی خسارہ کا سودا نہیں ہے۔
 | | | فلم ’’کبھی الوداع نہ کہنا‘ انڈیا میں کامیاب نہ رہی لیکن بیرون ملک میں ہٹ ہوئی |
تجزیہ نگار ونود میرانی کے مطابق اگر شاہ رخ نے فلم پندرہ کروڑ میں بھی بنائی ہو گی تو انہیں چالیس کروڑ کا فائدہ ہو گا۔ میرانی کہتے ہیں کہ اب بالی وڈ فلمیں زیادہ تر غیر ممالک میں اچھی تجارت کرتی ہیں اس لیے اب ہر بڑا چھوٹا فلمساز اپنی فلم کی شوٹنگ انہی ممالک میں کرنا پسند کرتے ہیں جس کی وجہ سے فلموں میں سرمایہ زیادہ لگتا ہے اور اسی لیے اس کے حقوق کے لیے بولی بھی اتنی ہی زیادہ لگتی ہے۔ |  بالی وڈ میں اب اتنی مہنگی فلمیں بنانے اور اتنی ہی زیادہ قیمت میں فلموں کے حقوق فروخت کرنے کی ایک نئی روایت بن گئی ہے  |
لیکن سلمان خان یا شاہ رخ کی طرح دوسرے ہیروز کی فلموں کو اتنی قیمت نہیں مل پاتی۔اکثر فلمساز بڑی سٹار کاسٹ کے ساتھ فلمیں بناتے ہیں لیکن وہ اکثر فلاپ ہو جاتی ہیں۔ اس سال کئی بڑی فلمیں بنیں لیکن کسی نے بھی باکس آفس پر اچھا بزنس نہیں کیا۔ میرانی کہتے ہیں کہ کرن جوہر کی فلم ’کبھی الوداع نہ کہنا‘ جس میں شاہ رخ کے علاوہ ابھیشیک بچن، رانی مکھرجی اور پریتی زنٹا جیسے اداکار تھے کے بیباک موضوع کی وجہ سے فلم نے انڈیا میں اچھا بزنس نہیں کیا لیکن اس نے امریکہ اور لندن میں ریکارڈ توڑ بزنس کیا جس کی وجہ سے تمام خسارہ بھی پورا ہو گیا۔
|