BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 September, 2007, 08:26 GMT 13:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دیو آنند کی خود نوشت کی اشاعت

دیو آنند
میں نے زندگی میں کبھی خود کو اتنا خوش محسوس نہیں کیا: دیو آنند
انڈین فلم انڈسٹری کے سدا بہار ہیرو اور فلمساز دیو آنند نے اپنی سوانح حیات مکمل کر لی ہے جس کی رونمائی چھبیس ستمبر کو ملک کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے ہاتھوں ہو گی۔

رونمائی کے دن دیوآنند چوراسی برس کے ہو جائیں گے اور انیس سو پچاس، ساٹھ اور ستر کی دہائی میں بالی وڈ کے مقبول اور کامیاب ہیرو دیوآنند عمر کی اس حصے میں بھی بہت چاق و چوبند ہیں۔

’رومینسنگ ود لائف‘ (Romancing with Life) کے عنوان سے یہ خود نوشت ڈھائی سال کے عرصہ میں مکمل ہوئی اور اب دیو آنند ملک کی مختلف ریاستوں کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک کا دورہ کر کے اس کی تشہیر کریں گے۔

ان کا کہنا تھا: ’میں نے زندگی میں کبھی خود کو اتنا خوش محسوس نہیں کیا جتنا کہ آج کر رہا ہوں۔ کتاب لکھتے وقت میں نے اپنی پوری زندگی جی لی۔‘

دیوآنند کہتے ہیں کہ وہ انیس سو پیتالیس میں لاہور سے صرف تیس روپے جیب میں لے کر بمبئی ( ممبئی ) آئے تھے۔

’میں نے لاہور کے مشہور کالج سے بی اے آنرز کی ڈگری حاصل کی اور پھر پورے اعتماد کے ساتھ فلموں میں ہیرو بننے کا خواب لے کر قسمت آزمائی کے لیے یہاں آیا۔‘

دیوآنند کے مطابق انہوں نے ڈھائی سال تک جدوجہد کی اور پھر انہیں ان کی پہلی فلم ملی۔اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

سچائی کے ساتھ
 اپنے تقریبا ساٹھ برسوں کے اس سفر کو میں نے بہت ہی سچائی کے ساتھ بیان کیا ہے اس میں میری فلمی زندگی کے ساتھ ساتھ میری نجی زندگی بھی شامل ہے
دیوآنند

دیوآنند نے اپنی ابتدائی زندگی سے اب تک کے سفر کی کہانی اپنے الفاظ میں اس کتاب میں بیان کی ہے۔ ’میں نے کمپیوٹر نہیں بلکہ قلم کے ذریعہ اپنی کہانی بیان کی ہے۔ اپنے تقریبا ساٹھ برسوں کے اس سفر کو میں نے بہت ہی سچائی کے ساتھ بیان کیا ہے اس میں میری فلمی زندگی کے ساتھ ساتھ میری نجی زندگی بھی شامل ہے۔‘

کتاب لکھنے کا خیال کیسے آیاً اس پر دیوآنند کا کہنا تھا کہ ’عمر ہو رہی ہے۔ بہت کچھ کہنے کے لیے تھا اور بہت کچھ ابھی اور کہنے کے لیے ہے۔ امریکہ میں ایک روز کچھ لکھا اور کسی کو بتایا۔انہوں نے اسے دیکھنے کے بعد کہا کہ آپ لکھ سکتے ہیں۔دنیا کوآپ کے تجربات اور احساسات اور آپ کی زندگی کے سفر کی روداد سننے میں دلچسپی ہے۔‘

دیوآنند کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے کتاب میں جو کچھ لکھا ہے اس میں سے بہت کچھ دنیا کو نہیں معلوم ہے۔ ’ ہر انسان کی اپنی نجی زندگی ہوتی ہے جو وہ دنیا سے چھپا کر رکھتا ہے۔میں نے اپنی کتاب میں ایسے ہی کئی رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ اس میں زندگی کے وہ تمام پل ہیں جو ایک انسان کی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔جیسے خوشی اور غم، سکھ اور دکھ، زندگی کے اتار چڑھاؤ۔ لیکن میں نے غم کو اکثر فورا‘ بھلانے کی کوشش کی لیکن خواب دیکھنا نہیں چھوڑا کیونکہ جس دن میں خواب دیکھنا چھوڑ دوں گا اس دن میری موت ہو جائے گا۔‘

دیوآنند جب عروج پر تھے اس وقت اداکارہ ثریا کے ساتھ ان کے رومانس کے کافی چرچے تھے۔دیوآنند کا کہنا ہے کہ اس کتاب میں انہوں نے اس ثریا کو پیش کیا ہے جس سے دنیا پوری طرح واقف نہیں ہے۔’میری پوری زندگی رومانس سے بھری ہوئی ہے۔میں نے ہمیشہ جوان دل کی طرح بھر پور زندگی گزاری۔آپ نے جتنا ثریا کے بارے میں پڑھا ہے یا انہیں جانتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ اس کتاب میں آپ پڑھ سکیں گے۔‘

ان کی آخری فلم ’پرائم منسٹر‘ فلاپ ہو گئی تھی لیکن فلمیں بنانے کا جنون ان میں کم نہیں ہوا ہے

دیوآنند اس عمر میں بھی فلمین بنا رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی آخری فلم ’پرائم منسٹر‘ فلاپ ہو گئی تھی لیکن فلمیں بنانے کا جنون ان میں کم نہیں ہوا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ اس عمر میں بھی فلم میں مرکزی کردار کرنا چاہتے ہیں۔

وہ اپنی فلموں کے ذریعہ نئی نئی اداکاراؤں کو متعارف کراتے رہے جن میں زینت امان اور ٹینا امبانی کے نام قابل ذکر ہیں۔ دیوآنند اس کتاب کے بعد ایک بار پھر نئی فلم ’چارج شیٹ‘ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کے مطابق جب وہ امریکہ میں اپنی کتاب کا اجراء کرنے جائیں گے اس وقت وہیں کسی ہیروئین کا بھی انتخاب کریں گے۔

دیو آنند کی کتاب نامور اشاعتی دارے پینگوئن نے شائع کی ہے۔ چار سو پینسٹھ صفحات پر مشتمل اس کتاب میں دیو صاحب کے مطابق انہوں نے اپنی زندگی کے لمحات اور تجربات کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے اور ان کا ارادہ ہے کہ اگر اسے لوگوں نے پسند کیا تو وہ اس کتاب کا دوسرا حصہ بھی لکھیں گے۔

کتاب میں دیوآنند کی زندگی کی پچاس نایاب تصاویر بھی شامل ہیں اور اس کے علاوہ کتاب کے ساتھ ان کی مشہور فلموں کے اٹھارہ نغموں کی کیسٹ بھی ہوگی۔

بالی وڈ میں فلمی اداکاروں پر کتاب لکھنے یا خود نوشت لکھنے کا ایک رواج بنتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں اداکارہ وجینتی مالا نے اپنی سوانح حیات لکھی۔ دلیپ کمار، شاہ رخ خان، امیتابھ بچن پر لوگوں نے کتابیں لکھیں اور دستاویزی فلمیں بنائی۔اب دیوآنند کے بعد سنجے دت پر ان کے دوست سنجے گپتا کتاب لکھ رہے ہیں۔

اپنی زندگی کے ہر پل ہر لمحے سے لطف اندوز ہونے کا دعویٰ کرنے والےسدا بہار ہیرو کی یہ کتاب قارئین بھی اتنا ہی انجوائے کرتے ہیں یا پھر وجینتی مالا کی کتاب کی طرح یہ بھی تنازعہ کا شکار ہوتی ہے اس کا اندازہ پڑھنے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔

دیوآنند’رومانسنگ ود لائف‘
دیو آنند کی کی سوانح عمری کی رونمائی
ایشوریہ ابھیشیکبے جان امراؤجان؟
امراؤجان لوگوں میں شاید ہی اپنا اثر چھوڑے
شمی کپور پرجوش ہیرو
’چاہے کوئی مجھے جنگلی کہے۔۔۔۔ یاہو‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد