رومانسنگ ود لائف: دِیو آنند کی کہانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی ووڈ کے’سدابہار اداکار‘ دیوآنند نے ہندوستان کی فلم نگری ممبئی میں حال ہی میں اپنی سوانح عمری کی رونمائی کی ہے جس کا نام ’رومانسنگ ود لائف‘ رکھا گیا ہے ۔ منفرد انداز کے مالک دیوآنند سے جب کتاب کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ’دیکھیے بہتر یہ ہوگا کہ آپ اسے خود پڑھيں یا کسی ایسے شخص سے پوچھيں جو اس کتاب کو پڑھ چکے ہوں‘۔ انہوں نےمسکراتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں وہ سب کچھ موجود ہے جو ان کی طویل اور رنگین زندگی کا حصہ رہا ہے۔ دیو صاحب کا کہنا ہے ’ کوئی بھی بات خواہ وہ غم سے جڑی ہو یہ پھر خوشی سے جو کچھ بھی مجھے یاد رہا وہ اس کتاب ميں موجود ہے‘۔ جب ان سے یہ پوچھاگیا کہ کیا اس کتاب کو لکھنے کے دوران انہوں نے اپنی اہلیہ اور بیٹے سے مدد بھی لی تو ان کا کہنا تھا’جی نہیں، بالکل نہیں، میں نے جو تحریر کیا ہے وہ میرا اپنا تجربہ ہے‘۔ کتاب کے اجراء کے وقت دیو صاحب کافی خوش نظر آ رہے تھے۔ اس عمر میں جو جوش و خروش دیو صاحب میں نظر آیا اس کا نظارہ بہت کم ہی ملتا ہے۔ زندگی کے تراسی برس پورے کرنے والے دیو صاحب سے جب یہ پوچھا گیا کہ اس عمر میں اس قدر جوش کیسے برقرار ہے ؟ تو وہ فلسفیانہ انداز میں بولے’ آدمی دل سے بڈھا ہو تا ہے اور میں ابھی نہیں ہوا ہوں اور آج بھی کام کر رہا ہوں‘۔
دیو صاحب نے سوانح عمری میں فلمی زندگی کے علاوہ اپنی ذاتی زندگی سے جڑی ہوئی کئی باتوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے اس کتاب میں ان باتوں کا بھی ذکر کیا ہے جو اس دور میں ’گاسپ‘ کے طور پر اخبارات ميں شائع ہوتی تھیں، تو ان کا کہنا تھا ’جو بھی بات یاد رہی اور مجھے لگا کہ اس کا ذکر ضروری ہے وہ میں نے اس میں شامل کی ہے‘۔ دیوآنند 1923 میں پنجاب کے ضلع گروداس پور میں پیدا ہوئے تھے لیکن فلموں کا شوق انہیں ممبئی لے آیا۔ کافی جدوجہد کے بعد 1946 میں پربھات ٹاکیز کی فلم ’ہم ایک ہیں‘ کے ذریعے وہ پردے پر نظر آئے۔ بعد میں ان کی دوستی مشہور فلم ساز اور اداکار گرودت سے ہوئی اور پھر مشہور گلوکارہ ثریّا کے ساتھ بھی کئی فلموں میں انہوں نے کام کیا۔گلوکارہ ثریّا کے ساتھ دوستی کے رشتے کافی پروان چڑھے تاہم یہ دوستی شادی میں تبدیل نہ ہو سکی۔ لیکن ثریّا نے پھر پوری زندگی شادی نہیں کی۔ دیو صاحب گزشتہ چھ عشروں سے فلم میں کام کر رہے ہیں اور اس دوران فلموں میں اداکاری کے ساتھ ساتھ ہدایت کاری بھی کی۔ دیو صاحب آج کل ایک انگریزی فلم کی شوٹنگ میں مصروف ہیں جس کے لیے وہ کروئشیا جا رہے ہیں۔ | اسی بارے میں گولڈن ایج پر ایک نظر، ایک بار پھر28 July, 2006 | فن فنکار کیسے حاصل ہوتی ہے رہنمائی؟ 07 October, 2006 | فن فنکار بولتی فلموں کی پلاٹینم جوبلی 14 March, 2006 | فن فنکار دیو آنند کی نئی فلم مسٹر پرائم منسٹر28 November, 2004 | فن فنکار دیو آنند کی طویل حکمرانی28 September, 2004 | فن فنکار ثریا زندگی کی دوڑ ہار گئیں 31 January, 2004 | فن فنکار دیو آنند: دادا جی پھالکے ایوارڈ09 December, 2003 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||