BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 October, 2006, 15:32 GMT 20:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیسے حاصل ہوتی ہے رہنمائی؟

دیو آنند
میں تو اب خود سے ہی رہنمائی حاصل کرتا ہوں
راج کپور نے ’میرا نام جوکر‘ بنائی۔ فلم چلی نہیں۔ راج کپور اداس ہو گئے۔
اسی طرح گرودت نے’ کاغذ کے پھول‘ بنائی۔ کوئی سمجھ ہی نہیں سکا۔ گرودت اس کے بعد کوئی فلم نہیں بنا سکے۔

آج لوگ ’کاغذ کے پھول‘ دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کیا فلم تھی۔ اب لوگ کہتے ہیں گرودت عظیم پروڈیوسر تھے۔ لوگ اب ’میرا نام جوکر‘ کی بھی تعریف کرتے ہیں۔

لوگوں کو بات بعد میں سمجھ آئی۔

کئی بار کوئی شخص جو کر رہا ہوتا ہے وہ لوگوں کو سمجھ نہیں آتا۔ بعد میں پتا چلتا ہے کہ جو وہ کر گزرا وہ ایک عظیم کارنامہ تھا۔وہ لوگ دنیا سے آگے چل رہے ہوتے ہیں اور دنیا پیچھے پیچھے چل رہی ہوتی ہے۔

یہ ایک رہنمائی کی بات ہے۔

تخلیقی ذہن کا ہر شخص رہنمائی کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ اس کا نام یا اس کا عمل جو بھی ہو، مجھے لگتا ہے ہر آدمی دنیا سے ہی رہنمائی حاصل کرتا ہے۔ میں کسی شخص یا کسی حادثے کی بات کرنا چاہتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے دنیا میں ہی کسی شخص سے رہنمائی حاصل کی ہے۔

لوگ کسی بھی طرح کے ہو سکتے ہیں۔ ناخواندہ یا پھر پڑھے لکھے عالم، غریب یا مشہور۔ کئی بار قدرت کے نظاروں سے رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ سمندر، باغ، پھول اور پتیاں یا پھر خوشبو یا شبنم کی بوندیں۔

کبھی کبھی رہنمائی کا ذریغہ تو خود آدمی کے اندر ہوتا ہے۔ تبھی تو آپ کو کچھ نہیں دکھائی پڑتا اور پھر ایک دن آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں ایک آئیڈیا آجاتا ہے۔ کوئی بات شیشے کی طرح آپ کے سامنے کھڑی ہوجاتی ہے۔
دیو آنند

آدمی نہیں جانتا کہ کون سی چیز اس کے لیئے رہنمائی کا ذریعہ بن جائے۔ کبھی کبھی رہنمائی کا ذریعہ تو خود آدمی کے اندر ہوتا ہے۔ تبھی تو آپ کو کچھ نہیں دکھائی پڑتا اور پھر ایک دن آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں ایک آئیڈیا آجاتا ہے۔ کوئی بات شیشے کی طرح آپ کے سامنے کھڑی ہوجاتی ہے۔

دراصل انسان کا دماغ کافی گہرا ہوتا ہے۔ کسی سمند سے بھی گہرا۔ وہ سچائی کے ساتھ تخیل کو ملاتا ہے اور ایک ناممکن سے عمل کو ممکن کر دیتا ہے۔
اسی کو روحانیت کہتے ہیں۔

مجھ سے اگر آپ پوچھیں کہ میں کس سے رہنمائی حاصل کرتا ہوں تو میں کہوں گا کہ میں تو اب عمر کےاس مقام پر ہوں جہاں سے میں خود سے ہی رہنمائی حاصل کرتا ہوں۔ جو کچھ میں کرتا ہوں اسے دنیا سے لیتا ہوں اور پھر تخیل کی چاشنی ملا کر ایک نئی تخلیق کرتا ہوں۔

اسی بارے میں
ثریا زندگی کی دوڑ ہار گئیں
31 January, 2004 | فن فنکار
دیو آنند کی طویل حکمرانی
28 September, 2004 | فن فنکار
گولڈن ایج پر ایک نظر
25 July, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد