BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 December, 2006, 19:26 GMT 00:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمی کپور: بالی ووڈ کا پرجوش ہیرو

شمی کپور
شمی کپور کا تعلق بالی وڈ کے مشہور ترین خاندان سے ہے
میرے بچپن کے ہیرو شمی کپور کو کئی خطات سے نوازا جا سکتا ہے ۔ کئی لوگوں کے رائے میں وہ انڈیا کے پہلے انٹرنیٹ گورو ہیں اور وہ ان ہندوستانیوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اپنی ویب سائٹ بنائی۔

انہوں نے اس زمانے میں لندن کی ایک دکان سے سوفٹ ویئر خریدا تھا جب زیادہ تر ہندوستانیوں نے کمپیوٹر کے بارے میں سنا بھی نہیں تھا۔

کچھ سال پہلے جب ’یاہو‘ نے اپنا دفتر ممبئی میں کھولا تھا تو انہیں جیری یانگ (یاہو کے ایک بانی) کے طرف سے اس تقریب میں شرکت کی دعوت ملی تھی۔

لانچ کی تقریبات کے دوران کپور کی مشہور فلم ’جنگلی‘ کا گانا ’یاہو‘ بجایا گیا تھا جسے انہوں نے انٹرنیٹ کے آغاز سے کئی سال پہلے اپنی انوکھی پکار ’یاہو‘ کے ساتھ مشہور کیا تھا۔

یانگ نے کپور کو بتایا تھا کہ اس گانے نے ان کو کتنا جوش دلایا۔ انہوں نے ان کو بتایا تھا کہ وہ شمی کپور کی اس لفظ کی نا قابل تقلید استعمال سے بھی بہت متاثر ہوئے تھے۔

’مجھے یہ بات بہت مسرت انگیز لگی تھی۔ میرے رشتہ دار آج بھی مجھے فون کر کے پوچھتے ہیں اگر میں یاہو کا مالک ہوں یا نہیں‘۔

لیکن ان کے لیے یاہو کا لفظ کیا معنی رکھتا تھا؟ انہوں نے اس لفظ کو اتنے جوش کے ساتھ اور اتنی زیادہ فلموں میں کیوں استعمال کیا؟

شمی کپور کہتے ہیں ’یہ لڑکی کا دل جیتنے کے بعد ایک فرحت کے احساس کا اظہار ہے‘۔شمی کپور کی بطور ہندوستان کے پہلے ناچتےگاتے اداکار کی پہچان ایسے ہی بنی تھی۔ اور شاید وہ انڈیا کے سب سے پہلے اداکار ہیں جنہوں نے اپنا انوکھا انداز قائم کیا تھا۔ اور فلموں کے مداحوں کپور کے یکتا کارنامے دیکھنے کے لیے سینما بڑی تعداد میں جاتے تھے۔

 سچ کی بات یہ ہے کہ میں کبھی رقص سیکھ نہیں پایا ہوں۔ میں نے تربیتی کلاسز بھی لیں تھی لیکن میں سیکھنے میں ناکام رہا۔ لیکن مجھے ہمیشہ موسیقی اور تال کا اندازہ تھا۔ اس سے مجھے فائدہ ہوا۔ اگر اپ توجہ دیں گے تو آپ کو نظر آئےگا کہ ہیلن (انڈیا کی پہلی کیبرے رقاص) کے ساتھ میرے مشہور رقص میں انہوں نے مشکل سٹیپس کیے تھے اور آپ کواس بات کا اندازہ ہو گا کہ میں ان کے رقص کا جواب چہرے کے تاثرات اور جسمانی حرکتوں سے کرتا تھا۔
شمی کپور

اس وقت ان سے بہتر اداکار موجود تھے لیکن کوئی بھی ان کے جوش اور ذاتی خوبیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ اور انہی خوبیوں نے انہیں بالی وڈ کا پہلا اصل فلم سٹار بنایا۔آشا پارکھ، کلپنا اور شرمیلا ٹیگور جیسی اداکاراؤں نے فلمی دنیا میں اپنے سفر کا آغاز ان کے ساتھ کام کر کے کیا۔

’ان میں سے ہر اداکارہ بہت خوبصورت اور محنتی تھی۔ مجھے ان کے ساتھ کام کرنے سے بہت خوشی ہوئی‘۔ لیکن شمی کپور ایک منکسر المزاج ادمی نہیں ہیں۔

’میں نے اِن نئے اداکاروں کی صلاح اپنے پروڈیوسر کو صرف اس لیے دی تھی کیو نکہ مجھے احساس تھا کہ میری فلمیں صرف میرے ہی نام پر مشہور ہوتی تھیں۔ میں چاہتا تھا کہ یہ کام میری بناء پر ہو اور یہ صرف نئے اداکاروں کے ساتھ ممکن تھا‘۔

لیکن عروج پر پہنچنے سے پہلے انہیں ناکامیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ اِتنی ناکامیاں کہ انہوں نے فلمی دنیا کو چھوڑ کر چائے کا کاروبار کرنے کے بارے میں بھی سوچا تھا۔

’کسی نہ کسی وجہ سے میری فلمیں نا کام ہوتی گیں۔ میری ہر فلم فلاپ ہوتی گئی اور ’تم سا نہیں دیکھا‘ کی آفر ملنے سے پہلے میں سوچ رہا تھا کے شاید فلم سٹار بننا میری تقدیر میں نہیں ہے۔ میں نے ایک چائے کے کاروبار میں مینیجر بننے کا بھی سوچا تھا۔ لیکن اس سب سے پہلے میں نے فیصلہ کیا تھا کہ میں اس فلم کے لیے اپنا امیج مکمل طور پر تبدیل کروں گا۔ میں نے اپنی موچھ منڈوالی اور میں نے طے کر لیا تھا کہ میں اور جارحانہ اور اور مردانہ انداز کو اپناؤں گا۔ اور میں ایک بے خوف ناچتےگاتے محبوب کے طرح سامنے آؤں گا جو ہر طرف بھاگتا اور کودتا ہے اور جو لڑکی کا دل جیتنے کے بعد یاہو پکارتا ہے‘۔یہ طریقہ کامیاب ثابت ہوا۔

 میں نے اِن نئے اداکاروں کی صلاح اپنے پروڈیوسر کو صرف اس لیے دی تھی کیو نکہ مجھے احساس تھا کہ میری فلمیں صرف میرے ہی نام پر مشہور ہوتی تھیں۔ میں چاہتا تھا کہ یہ کام میری بناء پر ہو اور یہ صرف نئے اداکاروں کے ساتھ ممکن تھا۔

تم سا نہیں دیکھا ،جو 1950 کے آخری سالوں میں نمائش کے لیے پیش ہوئی تھی، ہِٹ ثابت ہوئی اور اگلے چند سالوں میں شمی کپور کی سب فلمیں کامیاب ہویں اور ان کی مقبولیت تیزی سے بڑھتی گئی۔ لیکن انہوں نے اپنی جدو جہد کے دنوں کو بھولا نہیں ہے وہ دن جب انہیں کئی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

شمی کپور کا تعلق بالی وڈ کی مشہور ترین خاندانوں سے تھا جس کی وجہ سے ان کو اس نام کا بھی بوجھ اٹھانا پڑا۔ ان کے والد پرتھوی راج کپور، تھیٹر کے سب سے مشہور اداکار تھے جنہوں نے تھیٹر کے بعد فلموں میں بھی اپنا نام روشن کیا۔ اپنی پہلی فلم سائن کرنے سے پہلے ان کے بھائی راج کپور بھی ایک جانے پہچانے اداکار اور فلم میکر تھے۔

ان کے ابتدائی سالوں میں شمی کپور کی بیوی گیتا بالی بھی ان سے بڑی فلم سٹار تھیں۔ ’یہ ایک آسان وقت نہیں تھا۔ تنقید نگار اور مداحوں بھی میرا مقابلہ ہمیشہ میرے ارد گرد عظیم شخصیات سے کرتے تھے اور مجھ سے مایوس ہوتے تھے۔ یہ بہت مشکل وقت تھا۔ لیکن خوش قسمتی سے میرے قریبی رشتے متاثر نہیں ہوئے تھے اور آخر کار میں بھی کامیاب ہو گیا‘۔

کپور نے بہت خوبصورت اداکاراؤں کے ساتھ کام کیا ہے لیکن ان کی پسندیدہ اداکارہ مدھوبالا رہی ہیں۔ ’وہ اتنی خوبصورت تھی کہ میں اپنی لائنز بھول جاتا تھا۔ اور وہ جانتی تھیں کہ وہ میرے اوپر کیسا اثر رکھتی تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہم اچھے دوست بن گئے۔ ان کا انتقال اتنی کم عمر میں ہوا۔ ان سے زیادہ خوبصورت کوئی بھی نہیں ہو سکتا ہے‘۔

کپور کے مطابق، ان کا پہلا اور آخری پیار ان کی مرحوم بیوی گیتا بالی ہیں۔

’میں ان سے اتنا پیار کرتا تھا کہ ان کے گانے ریڈیو پر سننے کے بعد مجھے رونا آتا تھا۔ میں ہر صبح ان کو فون کر کے ایک ہی درخواست کرتا تھا کہ وہ مجھ سے شادی کریں۔ ایک دن انہوں نے میری بات مان لی لیکن ایک شرط پر۔ انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ میں ان سے اسی دن شادی کروں ورنہ شادی نہیں ہوگی۔ شادی ایک پیچیدہ اور الجھا ہوا معاملہ تھا لیکن ہم نے چوبیس گھنٹے کے اندر ایک مندر میں شادی کر لی‘۔

 اس وقت ان سے بہتر اداکار موجود تھے لیکن کوئی بھی ان کے جوش اور ذاتی خوبیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ اور انہی خوبیوں نے انہیں بالی وڈ کا پہلا اصل فلم سٹار بنایا۔آشا پارکھ، کلپنا اور شرمیلا ٹیگور جیسی اداکاراؤں نے فلمی دنیا میں اپنے سفر کا آغاز ان کے ساتھ کام کر کے کیا۔

ان کے گٹار بجاتے اور ناچتےگاتے امیج کے باعث انہیں انڈیا کا ایلوس پریسلی کہا جاتا ہے۔ لیکن شمی کپور مجھے ایک راز بتاتے ہیں جسے میں ابھی تک مان نہیں پائی ہوں۔

وہ کہتے ہیں: ’سچ کی بات یہ ہے کہ میں کبھی رقص سیکھ نہیں پایا ہوں۔ میں نے تربیتی کلاسز بھی لیں تھی لیکن میں سیکھنے میں ناکام رہا‘۔

لیکن پھر وہ ایک قدرتی رقاصی کیوں نظر آتے تھے۔

’مجھے ہمیشہ موسیقی اور تال کا اندازہ تھا۔ اس سے مجھے فائدہ ہوا۔ اگر اپ توجہ دیں گے تو آپ کو نظر آئےگا کہ ہیلن (انڈیا کی پہلی کیبرے رقاص) کے ساتھ میرے مشہور رقص میں انہوں نے مشکل سٹیپس کیے تھے اور آپ کواس بات کا اندازہ ہو گا کہ میں ان کے رقص کا جواب چہرے کے تاثرات اور جسمانی حرکتوں سے کرتا تھا‘۔

ایک دن باکس آفس پر کامیابی کے باوجود شمی کپور نے فلمی دنیا چھوڑ دی۔ مگر کیوں؟ انہوں نے کہا: ’میرا وزن بہت بڑھ گیا تھا اور میں اسے کم نہیں کر پا رہا تھا۔ میں نے اپنی کرئیر کے دوران اوپر نیچے کودنے سے اتنی ہڈیاں توڑی تھیں کہ میرے پاس اتنی طاقت اور توانائی نہیں تھی کہ میں اپنے وزن کو کم کروں۔ اس وقت سے انٹرنیٹ میری زندگی بن گئی تھی۔ میں اس کی مدد سے پوری دنیا کو دیکھ سکتا ہوں اور اس سے میں مصروف رہتا ہوں‘۔

اسی بارے میں
امریش پوری کا رول ختم
12 January, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد