وجینتی مالا کی سوانح عمری کی رونمائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزرے زمانے کی مشہور بالی ووڈ اداکارہ وجینتی مالانے اپنی سوانح عمری ’بونڈنگ‘ کے نام سے تحریر کی ہے جس میں انہوں نے اپنے بچپن سے اب تک کی زندگی کا سفری خاکہ پیش کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں ’یہ سوانح عمری ان کے دل کی بات ہے کیونکہ اسے دل سے لکھا گیا ہے‘۔انہوں نے اپنی کتاب میں بتایا ہے کہ کیسے ان کے اندر رقص کی دیوانگی پیدا ہوئی اور وہ پھر فلم انڈسٹری میں کیسے آئیں۔ ان کی سوانح حیات ’بونڈنگ‘ کی رونمائی جمعرات کو دلی میں مرکزی وزير پی چدمبرم نے کی۔ اپنی سوانح حیات میں انہوں نے چمن لال بالی سے اپنی شادی، سیاست میں قدم رکھنا، اور پھر اپنے شوہر کے انتقال کے بعد اپنی زندگي کے مختلف پہلوؤں کا بھی ذکر کیا ہے۔ وجینتی مالا جنوبی ہندوستان کی پہلی ایسی اداکارہ تھیں جنہوں نے بالی ووڈ میں بڑی بلندیوں کو چھوا اور انھیں ایک بڑی فلم اداکارہ کے طور پر جانا گیا۔ معروف فلم اداکار دلیپ کمار کے ساتھ ان کی جوڑی کافی مقبول رہی۔ وجینتی مالا اپنی کامیابی کا سہرا اپنی نانی یدوگری دیوی کے سر باندھتی ہیں جنہوں نے ان کی پرورش کی اور انہیں رقص کی تعلیم دلائی جو بعد میں ان کے کیرئر کے لیے سب سے اہم ثابت ہوا۔ وہ بتاتی ہیں ’اس زمانے ميں آج کی طرح دوسروں سے مقابلہ نہيں ہوا کرتا تھا لیکن مقابلہ خود سے ہوا کرتا تھا۔ اس لیے جو کام ملا اسے پوری محنت اور لگن سے کیا۔ پھر کبھی کامیابی ملی تو کبھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا لیکن میں اپنا کام ایمانداری سے کرتی رہی۔‘ انہوں نے بتایا کہ ان کے دوست اور ان کے خیر خواہ ہمیشہ ان سے سوانح عمری لکھنے کے لیے کہتے تھے لیکن انہوں نے کبھی اس بارے میں منصوبہ نہیں بنایا تھا۔ وجینتی مالا کہتی ہیں کہ پچھلے چار پانچ برسوں میں انہوں نے اپنی زندگی کے تجربات کو ایک ڈائری میں لکھنا شروع کیا۔ اس دوران وہ اپنے ساتھ ہمیشہ قلم اور کاغذ رکھتی تھیں تاکہ جب بھی کوئی اہم بات یاد آئے تو لکھ لی جائے ۔ گزشتہ مہینے انہوں نے بھارت ناٹیم رقص کی ڈی وی ڈی بھی جاری کی تھی ۔انہوں نے بتایا کہ وہ اس رقص پر تحقیق کرتی رہی ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ قدیم زمانے میں مندروں میں کیے جانے والے رقص کے بارے میں جانکاری حاصل کر کے نوجوانوں کو اس سے روشناس کروایا جائے۔ وجینتی مالا کا کہنا ہے کہ آج فلموں ميں رقص کا معیار گر گیا ہے جو باعث تشویش ہے۔ پہلے فلموں میں رقص کو فنی حیثیت حاصل تھی لیکن آج اس طرف دھیان نہيں دیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ حال ميں انہوں نے نئی ’دیوداس‘ دیکھی جو انہیں کافی بہتر لگی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’نیا دور‘ اور ’مغل اعظم‘ جیسی بلیک انڈ وائٹ فلموں کو رنگين پردے پر دیکھنا کافی اچھا لگا جو قابل تعریف بھی ہے۔ | اسی بارے میں دلیپ کمار و وجنتی کی رنگین نیا دور10 July, 2007 | فن فنکار دلیپ کمار کو پھالکےایوارڈ 28 April, 2007 | فن فنکار مغلِ اعظم کا اصل المیہ21 October, 2006 | فن فنکار دلیپ کمار اور فنِ اداکاری25 April, 2004 | فن فنکار مغلِ اعظم کے بعد دل اپنا پریت پرائی31 March, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||