دلیپ کمار کو پھالکےایوارڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی فلمی دنیا کے لیجنڈ اور شہنشاہ جذبات دلیپ کمار کو سنیما کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں اس برس دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا جائےگا۔ دلیپ کمار کو بہ بحیثیت اداکار یہ ایوارڈ 1994میں دیا جا چکا ہے۔ انڈین سنیما کے خالق دادا صاحب پھالکے کے نام سے منسوب اس ایوارڈ کی شروعات ان کے صد سالہ یوم پیدائش کے موقع پر 1969 میں ہوئی تھی۔ ملک اور انڈین سنیما میں اس ایوارڈ کوخاص اہمیت حاصل ہے اور یہ سب سے بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ انڈین سنیما کو بہترین فلمیں اور اداکاری کے صحیح معنی فراہم والے اداکار دلیپ کمار نے انیس سو اٹھانوے میں فلم ' قلعہ ' میں کام کرنے کے بعد فلمی دنیا سے کنارہ کشی کر لی تھی ۔ان کی اداکار بیوی سائرہ بانو نے حال ہی میں بھوجپوری فلم ’اب تو بن جا سجنوا ہمار‘ بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ فلمی دنیا سے ان کا ناطہ نہیں ٹوٹا ہے۔ دلیپ کمار آج کل صرف فلمی پارٹیوں میں اپنی بیوی سائرہ بانو کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ پارٹی میں آنے والے اداکار آج بھی ان کے پیر چھونا نہیں بھولتے۔ دلیپ کمار انڈین سنیما کے ایسے اداکار ہیں جن کی اداکاری کی نقل آج بھی کی جاتی ہے۔ موجودہ دور کے مشہور اداکار شاہ رخ خان اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ شاہ رخ کا کہنا ہے کہ دلیپ صاحب شروع سے ان کے آئڈیل رہے ہیں لیکن جو کام دلیپ صاحب نے کر دیا اسے دیکھ کر آپ صرف تعریف کر سکتے ہیں، ان جیسا کرنا ان کی نقل بھی کر پانا بہت مشکل ہے۔ ’ میں ان سے اپنامقابلہ کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا، وہ ایک بہترین اداکار اور انتہائی نیک انسان ہیں جو غریبوں کی مدد کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں‘۔
دلیپ کمار کو اب تک نو فلم فیئر ایوارڈ مل چکے ہیں۔ انیس سو اٹھانوے میں حکومت پاکستان نے اپنے سب سے بڑے شہری اعزاز ’ نشان امتیاز ‘ سے انہیں نوازا تھا۔اس سے پہلے یہ ایوارڈ صرف مرار جی ڈیسائی کو دیا گیا تھا۔ دلیپ کمار نے انڈین سنیما کو بے شمار بہترین فلمیں دیں۔ ان کا سٹائل لوگوں میں بہت مقبول تھا۔جذباتی اداکاری کو انہوں نے ایک نئی بلندی دی۔ سنگ دل، امر، اڑن کھٹولہ، آن، انداز، نیا دور، مدھومتی، یہودی اور مغل اعظم ایسی چند فلمیں ہیں جن میں کام کرنے کے دوران انہیں شہنشاہ جذبات کا خطاب دیا گیا۔ لیکن انہوں نے فلم کوہ نور، آزاد، گنگا جمنا اور رام اور شیام میں ایک کامیڈین کی اداکاری کر کے یہ ثابت کیا کہ وہ لوگوں کو ہنسا نے کا فن بھی جانتے ہیں۔ دلیپ کمار کی اداکاری میں ایک ہمہ جہت فنکار دیکھا جاسکتا ہے جو کبھی جذباتی بن جاتا ہے تو کبھی سنجیدہ اور روتے روتے آپ کو ہنسانے کا گر بھی جانتا ہو۔انڈین فلم انڈسٹری انہیں آج بھی بہترین اداکار مانتی ہے اور اس کا لوگ اعتراف بھی کرتے ہیں۔ دلیپ کمار اپنے دور کے فلم انڈسٹری کے ایسے اداکار تھے جن کے سٹائل کی نقل لڑکے کرتے تھے اور ان کی ساتھی ہیروئینوں کے ساتھ ساتھ عام لڑکیاں ان پر مرتی تھیں۔
ہیروئین مدھوبالا سے ان کے عشق کے چرچے رہے لیکن کسی وجہ سے ان کی یہ محبت دم توڑ گئی اور زندگی میں ہی دونوں علیحدہ ہوگئے۔ ان کی وجیہہ شخصیت کو دیکھ کر برطانوی اداکار ڈیوڈ لین نے انہیں فلم ’لارنس آف عریبیہ ‘ میں ایک رول کی پیشکش کی لیکن دلیپ کمار نے اسے ٹھکرا دیا۔ انیس سو بائیس میں پاکستان کے شہر پشاور میں پیدا ہوئے دلیپ کمار کا نام یوسف خان ہے۔ انہیں فلمی نام اس دور کی نامور ہیروئین دیویکا رانی نے دیا، جنہوں نے دلیپ کمار کو پہلی فلم ’جوار بھاٹا‘ میں بطور ہیرو متعارف کیاتھا۔ یہ فلم کامیاب نہیں ہو سکی لیکن پھر اس کے بعد انہوں نے فلم ’جگنو‘ میں کام کیا اور دنیا نے ان میں ایک ایسے اداکار کو دیکھا جو انڈین فلم انڈسٹری کے روشن مستقبل کی تعبیر بن گیا۔ | اسی بارے میں دلیپ کمار اور فنِ اداکاری25 April, 2004 | فن فنکار بالی وڈ: پرانی فلمیں رنگین ہونگی06 August, 2004 | فن فنکار مغلِ اعظم کا اصل المیہ21 October, 2006 | فن فنکار مغل اعظم کا لاہور میں پریمئر شو23 April, 2006 | فن فنکار مغل اعظم کی نمائش دو جون سے31 March, 2006 | فن فنکار محبوب خان: ہندوستانی سنیما کا پہلا شومین22 August, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||