عبد الواحد آزاد بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی |  |
 | | | سلمان کی فلموں کی ریلیز متاثر ہوسکتی ہیں |
بالی ووڈ کے معروف اداکار سلمان خان اور تنازعہ ایک دوسرے کے لازم و ملزم رہے ہیں۔ کالے ہرن کے شکار کا معاملہ، میڈیا کے ساتھ بد سلوکی، ممبئی کے فٹ پاتھ پر سوئے افراد کو کچلنے کا معاملہ یا ایشوریہ رائے سمیت کئی دوسری اداکاراؤں کے ساتھ عشق، پیار و تکرار اور انڈر ورلڈ سے رشتہ کا معاملہ ہو، تنازعات ہر وقت ان کے ساتھ رہے ہیں۔ لیکن کالے ہرن کے شکار کے معاملے میں ذیلی عدالت کی پانچ سال کی قید کی سزا پر جودھپور کی ایک عدالت کی مہر کے بعد ان کی قسمت ایک بار پھر گردش میں ہے اور ان کے مداح اور فلم انڈسٹری سکتے کی حالت میں ہیں۔ انہیں سنیچر کو ایک بار پھر جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا ہے۔  | میڈیا کی تفریق؟  جس طرح ہندوستانی میڈیا ان فلمی اداکاروں کی کوریج کرتا ہے تو اس سے لگتا ہے کہ ملک میں ’سلیبرٹی جسٹس ڈلیوری سسٹم‘ کام کر رہا ہے اور ملک کے عام عوام کے لیے عدالتوں کا رو یہ بھی دہرا ہے اور اس کی مثال سنجے دت مقدمہ سے صاف جھلکتی ہے، جب سنجے دت کی رہائی کے لیے سیاست کی گلیاروں میں بھی باز گشت سنی گئی تھی اور ایسامحسوس بھی کیا گیا تھا کہ سیاست ان کی ہمدردی میں ان کے ساتھ ہے  |
ایک سوال سلمان کے مداحوں اور فلم انڈسٹری میں زروں سے کیا جارہا ہے کہ ان کے جیل میں قید رہنے سے فلم انڈسٹری اور خود ان کے کریئر کا کتنا نقصان ہوگا۔ تو دوسری جانب سوال یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ کیا معروف لوگوں کے لیے بھی قانون کی گرفت مضبوط ہوتی ہے؟اس بات سے قطع نظر کے سلمان کی غیرحاضری یقینًا بالی وڈ کے لیے بھاری نقصان دہ ثابت ہوگی اور ایک اندازے کے مطابق سلمان خان کے جیل جانے سے فلم انڈسٹری کے 200 کروڑ روپے داؤ پر ہیں۔ تاہم بالی وڈ کی تاریخ پرنظر ڈالنے سے ایسا لگتا ہے کہ سلمان کے فلمی کرئر کو کوئی خاص نقصان نہیں ہوگا۔ کیونکہ بالی وڈ میں فلمی اداکاروں کے جیل جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ بالی وڈ اس طرح کے واقعات سے واقف ہے۔ انیس سو چورانوے میں سنجے دت کی گرفتاری اور اس کے بعد خود انیس سو چھیانوے میں سلمان خان جیل جانے والوں میں رہے ہیں اور جودھپور کی سینٹرل جیل ان کے لیے نیا مقام نہیں ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ جب انیس سو چورانوے میں سنجے دت گرفتار ہوئے تو ان کی گرفتاری سے ’باک آفس‘ پر منفی اثر نہیں ہوا اور اسی برس ان کی ریلیز ہونے والی فلم ’ کھلنائک‘ سپر ہٹ رہی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب سنجے دت کو قید سے رہائی ملی تو بالی وڈ میں ان کے تئیں گرم جوشی نہیں دیکھی گئی اور ہدایت کاروں نے ان پر توجہ نہیں دی۔اس لیے انہیں کم بجٹ والی فلموں میں کام کرنا پڑا تھا۔انیس سو ننانوے میں ’واستو‘ کی بہتر کارکردگی کے بعد ہی ہدایت کار ان کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔ ایسی ہی کچھ ملتی جلتی کہانی دو ہزار ایک میں جیل جانے والے فردین خان کی ہے جن کی گزشتہ برس ریلیز ہونےوالی فلم ’نوانٹری‘ کامیاب رہی اور فلمی کریئر پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔  | | | بالی وڈ کے 200 کروڑ روپے داؤ پر ہیں |
خود سلمان کے جیل جانے کا سفر بھی اس کا ثبوت ہے۔ جب سلمان خان دو ہزار دو میں ممبئی میں مبینہ طور پر اپنی کار سے ایک شخص کو ہلاک اور چار کو زخمی کرنے کے سلسلے میں جیل گئے اور سترہ دن جیل میں رہنے کے بعد باہر آئے تو ان کی آنے والی فلم ’تیرے نام‘ باکس آف پر ہٹ ثابت ہوئی تھی۔دو سال قبل ان کی آنے والی فلم ’نو انٹری‘ اور ’میں نے پیار کیوں کیا‘ بھی ہٹ رہی تھیں اور اس سے ایسا لگتا ہے کہ مداحوں کی آنکھیں اپنے ہیرو کے کالے کارناموں پر غور کرنے کے لیے شاید بند ہوتی ہیں اور ان کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ہیرو کو قانون پر بالادستی حاصل ہونی چاہیے اور اس کی تازہ مثال سلمان خان کے جودھپور میں گرفتاری کے بعد کئی مقامات پر ان کے مداحوں کے ذریعہ ہنگامہ برپا کرنا ہے۔ یہ بات صاف ہے کہ سلمان خان ایک ایسا ستارہ ہے جن کے چاہنے والوں نے نہ تو ان کا اور نہ ہی ان کی فلموں کا ساتھ چھوڑا ہے۔ان کے خلاف میڈ یا کے ذریعہ کالے ورق رنگنے کے باوجود ان کا کچھ بھی نہیں بگڑ پایا ہے۔ لیکن جس طرح ہندوستانی میڈیا ان فلمی اداکاروں کی کوریج کرتا ہے تو اس سے لگتا ہے کہ ملک میں ’سلیبرٹی جسٹس ڈلیوری سسٹم‘ کام کر رہا ہے اور ملک کے عام عوام کے لیے عدالتوں کا رو یہ بھی دہرا ہے اور اس کی مثال سنجے دت مقدمہ سے صاف جھلکتی ہے، جب سنجے دت کی رہائی کے لیے سیاست کی گلیاروں میں بھی باز گشت سنی گئی تھی اور ایسامحسوس بھی کیا گیا تھا کہ سیاست ان کی ہمدردی میں ان کے ساتھ ہے۔ شاید سلمان خان سنجے دت جیسے قسمت والے نہیں ہیں، ان کے معاملے میں میڈیا اور سیاست میں ایسی کوئی سرگرمی نہیں ہے بلکہ راجستھا ن کی ایک خاص برادری ان کے خلاف منظم ہے۔ پتہ نہیں کیوں ملکی میڈیا بھی ایک ہی صنعت کے دو اداکاروں کے ساتھ تفریق کیوں برت رہی ہے۔ جبکہ دونوں کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدما ت چل رہے ہیں۔تاہم ابھی دیکھنا باقی ہے کہ سلمان کی رہائی کب ہوتی ہے اور ان کے رہائی کے بعد فلم انڈسٹری کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔ |