BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 July, 2005, 06:44 GMT 11:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سلمان خان کیس، تفتیش جاری

فائل فوٹو
پولیس پہلے یہ جاننے کی کوشش کرے گی آیا ٹیپ پر آواز سلمان خان کی ہی ہے(فائل فوٹو)
سلمان خان کی ایشوریا رائے سے گفتگو کا ٹیپ اصلی ہے یا نہیں اور اگر ہے تو اسے کس نے ٹیپ کیا ؟ اگر پولیس نے کیا تو چار برسوں تک اس پر کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ ان تمام پہلوؤں پر ممبئی کرائم برانچ کی ٹیم گزشتہ چار روز سے تفتیش کر رہی ہے۔

اسسٹنٹ پولیس کمشنر اینگلے نے اس وقت کے ڈپٹی پولیس کمشنر (کرائم ) پردیپ ساونت کو طلب کیا اور ایک گھنٹہ تک طویل تفتیش ہوئی۔ مافیا کے بالی وڈ سے رشتوں کے بے نقاب ہونے کے بعد فلم ’چوری چوری چپکے چپکے‘ کے فائنانسر بھرت شاہ ،ناظم رضوی ،اسسٹنٹ اللہ بخش اور ان کی تفتیش ڈی سی پی ساونت کی نگرانی میں ہوئی تھی۔

 پولیس ہیڈ کوارٹر نے منگل کو ’ہندوستان ٹائمز‘ کے رپورٹر جے ۔ڈے کو طلب کیا اور اس سے تفتیش کی کہ آخر اسے یہ ٹیپ کس نے دیا تھا اور اس نے اپنے اخبار میں چار سال پرانے ٹیپ کے بارے میں کیوں لکھا ؟

پولیس ہیڈ کوارٹر نے منگل کو ’ہندوستان ٹائمز‘ کے رپورٹر جے ۔ڈے کو طلب کیا اور اس سے تفتیش کی کہ آخر اسے یہ ٹیپ کس نے دیا تھا اور اس نے اپنے اخبار میں چار سال پرانے ٹیپ کے بارے میں کیوں لکھا ؟

صحافی جے ڈے نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے اس کا بیان ریکارڈ کیا جس میں اس نے یہ قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ اس کے پاس اس گفتگو کا ٹیپ موجود ہے۔ اس سے یہ بھی سوال کیا گیا کہ آخر چار برسوں بعد اس ٹیپ کو منظر عام پر لانے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی اور کئی اعلیٰ افسران سے اس سلسلے میں تفتیش ہو سکتی ہے۔ ایک آئی پی ایس افسر کا کہنا ہے کہ اگست میں ہی سلمان کے کئی فون ٹیپ کیے گئے تھے لیکن ہر کسی میں اس کی اپنی گرل فرینڈز کے ساتھ صرف گفتگو موجود ہے ۔اس دوران سلمان کی کسی بھی مافیا سرغنہ سے بات نہیں ہوئی تھی اس لیے وہ قانون کے دائرے میں نہیں آسکتا تھا۔

پولیس کمشنر اے این رائے نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس سلمان کا کسی بھی مافیا سے بات چیت کا کوئی ٹیپ نہیں ہے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے ان ٹیپوں کے بعد سلمان سے تفتیش بھی کی تھی اور ایشوریا پر دباؤ بھی ڈالا تھا کہ وہ اگر سلمان کے خلاف جان سے مارنے کی دھمکی کا کیس درج کریں تو سلمان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے لیکن ایشوریا نے ایسا کرنے سے منع کر دیا تھا۔

 سلمان سے باندرہ کرائم برانچ کے بجائے اندھیری کرائم یونٹ آٹھ میں طلب کر کے ان کی آواز ریکارڈ کی گئی اور ایشوریہ کے گھر جا کر ان کی آواز کا نمونہ لیا گیا۔ پولیس کمشنر رائے نے ان تمام باتوں سے انکار کیا کہ ان دونوں اداکاروں سے پولیس نے گھنٹوں تفتیش کی کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ پہلے یہ تو ثابت ہو جائے کہ آواز دونوں اداکاروں کی ہی ہے۔

میڈیا اور ٹی وی چینل کی نظروں سے سلمان خان کو دور رکھنے کے لیے سلمان سے باندرہ کرائم برانچ کے بجائے اندھیری کرائم یونٹ آٹھ میں طلب کر کے ان کی آواز ریکارڈ کی گئی اور ایشوریا کے گھر جا کر ان کی آواز کا نمونہ لیا گیا۔ پولیس کمشنر رائے نے ان تمام باتوں سے انکار کیا کہ ان دونوں اداکاروں سے پولیس نے گھنٹوں تفتیش کی کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ پہلے یہ تو ثابت ہو جائے کہ آواز دونوں اداکاروں کی ہی ہے۔ آواز کے ان نمونوں کو اب جانچ کے لیے ممبئی اورحیدرآباد کی لیباریٹری میں بھیجا جائے گا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جانچ اتنی جلدی ممکن نہیں ہے اور بدھ کے روز اسمبلی میں وزیر اعلیٰ اس کیس میں تفتیش کی رپورٹ پیش کر سکتے ہیں۔

انیس سو ترانوے بم دھماکہ کیس کی وکیل فرحانہ شاہ کا خیال ہے کہ ’محض کسی سے فون پر بات کر کے بلند بانگ دعوے کرنے سے کیس نہیں بنتا ہے اور اگر پولیس نے چار سال قبل ریکارڈ کیے گئے ٹیپ پر (اگر وہ پولیس نے ہی ٹیپ کیا ہو تو) کارروائی اسی لیے نہیں کی ہو گی کیونکہ یہ ثبوت عدالت میں کسی کو سزا دلانے میں بالکل کارآمد نہیں ہو سکتا کیونکہ یہی حال پہلے بھرت شاہ کیس میں ہو چکا ہے ۔‘

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے کسی بھی طرح کی لاپرواہی سلمان خان کیس میں نہیں برتی تھی ۔ بھرت شاہ نے مافیا سرغنہ چھوٹا شکیل سے صرف ایک منٹ سولہ سکینڈ بات کی تھی اور پولیس نے اتنے بڑے ہیروں کے تاجر کو نہیں چھوڑا تھا تو سلمان کو کیسے چھوڑ دیتے لیکن سلمان کی کسی بھی مافیا سرغنہ سے گفتگو کا کوئی ٹیپ ہی نہیں ہے حالانکہ پولیس نے مہینوں اس کا فون ٹیپ کیا تھا ۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح کی گفتگو کے کئی اور اداکاروں اور فلم پروڈیوسرز کی مافیا سرغنہ سے گفتگو کے ٹیپ پولیس کے پاس موجود ہیں لیکن صرف گفتگو کی بنیاد پر کسی کو بھی عدالت کے کٹہرے میں نہیں کھڑا کیا جا سکتا ہے۔

ایڈوکیٹ سبھانش کانسے کا کہنا ہے کہ جب تک کہ دونوں جانب سے کوئی سازش نہ کی جا رہی ہو یا کسی کو نقصان پہنچانے یا ہفتہ وصولی کا کوئی معاملہ بنتا ہو، تو کوئی مقدمہ درج نہیں ہو سکتا۔

66ایک نیا ٹیپ
اداکار سلمان خان کے انڈر ورلڈ سے تعلقات؟
66سلمان، ٹیپ تنازعہ
فلم کی ریلیز پر کئی شہروں میں مظاہرے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد