BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 November, 2007, 17:09 GMT 22:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک ملاقات عدنان سمیع کے ساتھ

عدنان سمیع
عدنان سمیع نے گائیکی کی دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے
مشہور گلوکار اور موسیقار عدنان سمیع کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ان کے چاہنے والوں میں بالی وڈ کی خوبصورت اداکاراؤں سے لے کر ٹاپ ماڈلز شامل ہیں۔ بی بی سی ہندی کے ایڈیٹر سنجیو شری واستو نے ایک انٹرویو میں عدنان سمیع سے پوچھا کہ آخر یہ کھیل کیا ہے۔ پیش ہے کہ عدنان سمیع سے کیے گئے انٹرویو کا متن۔

سنجیو شری واستو: عدنان سمیع صاحب بی بی سی سے ایک ملاقات میں آپ شامل ہو رہے ہیں۔ ہم لوگ بیٹھے ہوئے ہيں آپ کے ڈرائنگ روم میں، جہاں میری نظر اس تصویر پر ہے جس میں آپ یعنی بچپن کے عدنان، امیتابھ بچن کے ساتھ نظر آ رہے ہیں ، جس پر لکھا ہوا ہے ’ود لاٹس آف لو اینڈ ایڈمیریشن‘ اور بچن صاحب کے دستخط ہیں۔ قصّہ کیا ہے اس تصویر کے پیچھے؟

عدنان سمیع: اس تصویر کے پیچھے بہت دلچسپ کہانی ہے۔ یہ تصویر میں نے دبئی میں اتاری تھی، جب میں تقریباً گيارہ سال کا تھا۔اس تصویر پر آٹوگراف وغیرہ کچھ نہيں تھا۔ چند برس قبل میری جب بچّن جی سے ملاقات ہوئی تو باتوں باتوں میں میں نے کہا ہے کہ آپ جانتے ہيں کہ آپ کے اور میرے درمیان ایک بزنس ادھورا رہ گيا ہے، وہ تعجب میں پڑ گئے اور بولے کیوں ایسی کیا بات ہے؟

سنجیو شری واستو: ’یہ گوڈ فادر کی طرح کا ڈائیلاگ بول رہے ہيں۔۔۔‘

عدنان : میں نے اچانک یہ تصویر دیکھائی اور کہا کہ اس پر آپ نے ابھی تک آٹوگراف نہيں دیا ہے، وہ مسکرا دیے، انہوں نے کہا کہ میں آٹو گراف اس شرط پر دوں گا کہ اس کی ایک کاپی مجھے بھی چاہیے، میرے پاس اس فوٹو کی ایک کاپی تھی میں نے ان کو دے دیا، اس کے بعد انہوں نے اس پر آٹوگراف دیا جسے دیکھ کر لوگ اکثر حیران رہتے ہيں۔

سنجیو: آپ بچپن سے ہی غیرمعولی صلاحیت کے مالک رہے ہيں، میں نے کسی سے سنا ہے کہ بی بی سی نے بھی آپ کو تلاش کرنے میں اپنا کردار نبھایا ہے۔

عدنان: یہ چائلڈ پروڈجی کا جو الزام ہے یہ الزام میں بی بی سی کو دیتا ہوں، کیوں کہ جب میں بہت چھوٹا تھا تو بی بی سی نے میرے اوپر ایک پروگرام کیا تھا۔ ان کے اس پروگرام سے میرے والدین کو یہ احساس ہوا کہ اگر بی بی سی کہہ رہا ہے کہ یہ بچّہ باصلاحیت ہوگا تو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے، ورنہ کبھی کبھی گھر کی مرغی دال برابر ہوتی ہے جس کے لیے میں بی بی سی کا میں بہت شکر گزار ہوں۔

سنجیو: بہت بہت شکریہ اس حوصلہ افزائي کے لیے، میں پورے بی بی سی کی جانب سے شکریہ ادا کرتا ہوں، اچھا یہ بتائے کہ کیا آپ اس وقت صرف پیانو ہی بجایا کرتے تھے؟

عدنان: جی ہاں، میں صرف پیانو ہی بجایا کرتا تھا اور اس وقت میرا خیال گانے بجانے کی جانب نہیں تھا۔ میں گانے کمپوز کرتا تھا، میں نے گیارہ برس کی عمر میں گانے کمپوز کرنا شروع کردیے تھے، انڈين کلاسکل میوزک کی طرف میرا دھیان بعد میں گيا۔

سنجیو: آپ مشہور گلوکار ہيں لیکن بہت کم لوگ جانتے ہيں کہ آپ کا پہلا شوق پیانو بجانا تھا، کمپوزر بھی ہیں، آپ کو کھبی ملال رہا کہ آپ کی اس بے پناہ صلاحیت کو آپ کے مداح جانے اور تعریف کریں؟

عدنان: نہیں، کیوں کہ مجھے معلوم ہے کہ موسیقی سب سے پہلے آتی ہے، وہ کئي چیزوں کو ڈھک لیتی ہے، لوگ گلوکار کے بارے میں جانتے ہيں کمپوزر کے بارے میں جاننا نہيں چاہتے۔

 جب میں بہت چھوٹا تھا تو بی بی سی نے میرے اوپر ایک پروگرام کیا تھا، ان کے اس پروگرام سے میرے والدین کو یہ احساس ہوا کہ اگر بی بی سی کہہ رہا ہے کہ یہ بچّہ باصلاحیت ہوگا تو اسے سنجیدگی سے ہی لینا چاہیے،
عدنان سمیع

سنجیو: کیا یہ صحیح ہے کہ برطانیہ میں کسی کنسرٹ میں آشا بھوسلے نے آپ کو دیکھا تھا، کچھ قصہ ہوا تھا؟

عدنان: جی ہاں، ہم لندن میں ملے تھے، وہ گرمیوں میں وہاں آئی تھیں، ہمارے بعض دوستوں نے ان سے میری ملاقات کرائي تھی، میرے پاس ایک کیسٹ تھا میں نے ان کو سنایا اور انہوں نے سننے کے بعد بہت پیار کیا۔میرے خیال میں شاید میں گیارہویں جماعت میں تھا، میں نےآشا جی کو پہلی بار سنا تو میرے رونگھٹے کھڑے ہوگئے تھے، جب انہوں نے چرا لیا ہے تم نے ۔۔۔ گانا گایا۔ وہ میرے لیے بہت بڑا موقع تھا، جب آشا جی نے کہا تھا کہ میں ایک دن تمہارے ساتھ گانا پسند کروں گی۔

سنجیو: دبئی میں رہنے والے ، برطانیہ کی بورڈنگ میں پڑھے ہوئے اور ہندوستان میں جب سے آئے ہیں بہت کامیاب ہیں۔ آخر کامیابی کے اس فارمولے کا راز کیا ہے؟

عدنان: میرا سب سے بڑا ہتھیار میری ماں کی دعائیں ہیں۔ کیوں کہ ماں کی دعا سے بڑی کوئی چیز ہو ہی نہیں سکتی۔ میرا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس کا موسیقی اور تفریح کے شعبے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ برطانیہ میں ميں وکالت کی تعلیم حاصل کر رہا تھا ، میں نے صحافت کی بھی تعلیم حاصل کی ہے۔شروعات میں ماں نے موسیقی میں میری دلچسپی کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ لیکن جب میں نے وکالت کی پڑھائی پوری کر لی تو میں نے ماں سے کہا کہ اب میں وہ کرنا چاہتا ہوں جو میری خواہش ہے۔ جب میں موسیقی کی دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا تو اس وقت میں نے ماں سے کہا کہ آپ نے میرے لیے کچھ نہیں کیا تب انہوں نے کہا تم جو بھی کرو میں تمہارے لیے دعا کروں گی۔

سنجیو: اچھا یہ بتائیں جو امیتابھ بچن کے ساتھ تصویر لگی ہوئی ہے اس کے ساتھ ایک تصویر میں آپ کے ساتھ مادھوری دکشت بھی ہيں ، امیشا پٹیل بھی ہیں، نرمتا شروڈکر ہیں۔ اتنی ساری خوبصورت اداکاراؤں نے آپ کے میوزک وڈیوز میں کام کیا ہے۔ امیتابھ بچن اور گوندا نے بھی کام کیا ہے۔ اس کے بعد بھی آپ کہتے ہيں کہ یہ سب ماں کی دعاؤں کا کھیل ہے ، کچھ تو خود کا بھی کھیل ہے باس؟

عدنان: جب بھی میرے کسی آئیڈیا یا کردار میں مجھے یہ محسوس ہوا کہ اس میں کتنے بڑے اداکار یا اداکارہ کو کام کرنا چاہیے تو میں نے ان سے گزارش کی۔ مجھے یقین ہے کہ اگر آپ کوئی شاٹ کرنا چاہتے ہيں تو زیادہ سے زیادہ سے یہی ہوگا کہ وہ نہ ہو۔ لیکن اگر وہ آپکی قسمت میں ہے تو وہ ضرور ہو جائے گا۔ امیت جی والے نغمے کے لیے کوئی خاص منصوبہ نہیں بنایا تھا۔ بس میں ان کے ساتھ کام کرنا چاہتا تھا اس لیے میں ان کے ساتھ نغمہ بنایا۔

سنجیو: اتنی زبردست امیج ہے آپ کی خاص طور پر لڑکیوں کے درمیان ۔ لیکن آج کل تو آپ کافی دبلے ہو گئے ہیں۔ آپ تو خوشی سے پھول کر کپّا ہو جاتے ہوں گے؟

عدنان: نہيں میں اپنا بہترین لوگوں کو دینا چاہتا ہوں۔ میرے والد نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر لوگ تم سے محبت کر رہے ہیں تو وہ اس لیے کر رہے ہيں کیوں کہ تم محنت کر رہے ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف وہ لوگ دنیا میں ایک جگہ پر ٹکے رہے ہيں جو اپنے کام اور محنت کو کبھی نہیں بھولتے۔ کبھی کبھی جب لوگ کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ محنت کرنا بھول جاتے ہیں۔ جب وہ اصلی بات کو بھول جاتے ہیں تو لوگ بھی انہیں بھول جاتے ہيں۔ یہ بات میرے دل و دماغ میں بیٹھی ہوئی ہے۔

فائل فوٹو
وظن کم کرنے سے پہلے گلوکار عدنان سمیع

سنجیو: عدنان سمیع جن کی انگلیاں پانچ برس سے ہی پیانو پر تھرکنے لگیں، انہيں عشق کس عمر میں ہوا؟

عدنان: مجھے یاد ہی نہیں ہے کیوں کہ میں نے عشق بہت کم عمر سے شروع کر دیا تھا۔

سنجیو: اگر محبت اور موسیقی میں سے کسی ایک کو چننا ہو تو؟

عدنان: موسیقی ، اور زندگی بھر محبت کے بارے میں گاتا رہوں گا۔ آخر میں محبت بھی کر لوں گا۔

سنجیو: آپ نے کئی سٹیڈیم میں، کنسرٹ میں، پبلک کے سامنے اور اس کے علاوہ صدر سمیت کئی بڑے لوگوں کے سامنے گایا ہے۔ کچھ الگ تجربہ ہوتا ہے جب کوئی سامعین وی آئی پی ہوتا ہے یا سب کچھ معمول ہوتا ہے؟

عدنان: ہر ایک کا حوصلہ افزائی کا اپنا طریقہ ہوتا ہے۔ جب سٹیڈیم میں گا رہے ہوتے ہيں تو بعض مرتبہ لوگ سیٹیاں بجا رہے ہوتے ہيں۔ یہ سب محبت کا اظہار ہے۔ اور جب آپ ایک بادشاہ کے سامنے گا رہے ہوتے ہیں تو آپ کہ امید نہيں کرتے کہ وہ اپنی سیٹ پر سے اٹھ کر سیٹی بجانا شروع کر دے۔ جہاں تک میرا سوال ہے ایک فنکار کے طور پر میرے آگے جو بھی سامعین ہو گا وہ میرے لیے ایک بادشاہ ہی رہے گا۔

سنجیو: ‎ آپ کا وزن کم دکھ رہا ہے؟

عدنان: ہاں میں نے اپنا ایک سو سترہ کلو وزن کم کیاہے، میری ماں کہتی ہیں کہ تم نے ایک پورا انسان اپنے جسم سے نکال دیا ہے۔

سنجیو: عدنان سمیع، بی بی سی سے ایک ملاقات ميں دل کھول کر بات کرنے کے لیے بہت بہت شکریہ۔

اسی بارے میں
’رفیع کی یاد آتی ہے‘
31 July, 2006 | فن فنکار
عاطف بالی وڈ سنگر کے ساتھ
17 June, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد