’دھرمندر پر کوئی بھی مر مِٹتی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ستر کے عشرے میں بالی وڈ کو اپنی خوبصورتی کا دیوانہ بنانے والی ڈریم گرل ہیما مالنی نے’ شولے‘ ، ’چرس‘، ’ترشول‘، ’سیتا اور گیتا‘ جسی فلموں میں اپنے ہنر کا جوہر دکھایا۔ فلموں میں ہیروئن کے طور پر اپنے ہنر کا لوہا منوانے والی ہیما مالنی آج بھی بالی وڈ کے اہم ترین اداکاروں میں شمار کی جاتی ہیں۔ بی بی سی ہندی سروس کے سنجیو شریواستو نے ہیما مالنی سے ایک خصوصی ملاقات کی اور ان سے پوچھا کہ کیا ڈریم گرل ڈریم وومن بن گئی ہے؟ جواب: ڈریم گرل تو میرے نام کےساتھ جڑ گیا ہے اور یہ سننا میری عادت سی بن گئي ہے۔ میری ماں نے میرے اوپر’ ڈریم گرل‘ نام سے ایک فلم بھی بنائی تھی لیکن میں اب ڈریم گرل نہیں ہوں۔ ہاں آپ مجھے ڈریم وومن کہہ سکتے ہیں۔ س: آپ کو فلم ’سپنوں کا سوداگر‘سے شو مین راج کپور نے ہندی سنیما میں بریک دیا؟
جواب: نہیں! راج کپور جی نے مجھے بریک نہیں دیا تھا۔ وہ اس فلم میں صرف ہیرو تھے۔ اس فلم کے پروڈیوسر اننت سوامی نے مجھ جیسی جنوبی ہندوستان کی لڑکی کو ہندی فلموں میں بریک دینے کا خطرہ مول لیا تھا۔ س: بہت لوگوں کو فلموں میں کام کے لیے کافی جدوجہد کرنی پڑتی ہے لیکن آپ کے فلمی سفر کی شروعات آسان رہی اور آپ کو کامیابی بھی جلدی ملی؟ جواب:میں فخر کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ بہت کم لوگ میرے جیسے قسمت والے ہوتے ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ فلموں میں کام پانے کے لیے لڑکیوں کو بہت جدو جہد کرنی پڑتی ہے میرے ساتھ ایسا نہيں ہوا۔ مجھے شروع میں صرف یہ دقت ہوئی تھی کہ میں بہت’ سلم‘ تھی اور جنوبی ہندوستان کی فلموں میں موٹی ہیروئن چاہیے ہوتی ہے۔ اس لیے مجھے وہاں کام نہيں ملا جس سے میں تھوڑی مایوس ہوئی تھی۔
سوال: فلموں ميں اکثر اداکاروں کے ساتھ کا’سٹنگ کاؤچ‘ یعنی کام ملنے سے پہلے استحصال کے واقعات سامنے آتا ہے۔ کیا آپ کا ساتھ کبھی ایسا ہوا؟ جواب: کوئی میرے نزدیک بھی نہیں آسکتا۔ جب آپ کامیاب ہوتے ہیں تو لوگ آپ کے پاس آنے سے ڈرتے ہیں۔ اور جب کچھ نہیں ہوتے تو لوگ آپ کا استحصال کرتے ہیں۔ ایسے وقت میں تھوڑی عقلمندی سے کام لینا چاہیے۔ اکثر نئی لڑکیاں ایسے حالات میں دھوکہ کھا جاتی ہیں۔ سوال: آپ نے بہت سارے ہیرو کے ساتھ کام کیا ہے جن میں دھرمندر کے علاوہ راجیش کھنا، امیتابھ بچن، سنجیوکمار وغیرہ شامل ہیں۔ سب سے زیادہ کام کرنا کس کے ساتھ پسند تھا؟
جواب: مجھے سب کے ساتھ کام کرنا اچھا لگتا تھا۔ جتندر ہم عمر تھے ان کے ساتھ اچھا لگتا تھا۔ شترو گھن سنہا بہت ہنساتے تھے وہ آج بھی ایسے ہی ہیں۔ دوسرے ہیرو کے ساتھ بھی اچھے رشتے تھے۔ امیتابھ جی کے ساتھ تو ابھی بھی کام کرتی ہوں۔ سوال: دھرمندر کو چھوڑ کر کس ہیرو کے ساتھ آپ کی جوڑي اچھی لگتی تھی؟ جواب: مجھے لگتا ہے میری جوڑی سب کے ساتھ اچھی لگی۔ میں یہ ہیما مالنی بن کر نہیں بول رہی ہوں۔ آج بھی جب میں دیکھتی ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ امیتابھ جی سے لیکر ششی کپور تک سبھی کے ساتھ میری جوڑی اچھی لگتی ہے۔ سوال: اس عمر میں بھی خوبصورت لگنے کا کیا راز ہے؟ جواب: اگر خوبصورت ہوں تو اس کے لیے میں بھگوان کی شکر گزار ہوں۔ یوگا کرتی ہوں، ڈانس کرتی ہوں اور جب وقت ملتا ہے تو ورزش کرتی ہوں۔ کم کھاتی ہوں اور خوب پانی پیتی ہوں۔ سوال: اچھا یہ بتایے کہ دھرمندر سے یا دھرمندر کو آپ سے عشق کیسے ہوا؟ اس کی شروعات کیسے ہوئی؟ جواب: دیکھیے جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو کر ہی رہے گا، جب میں نے فلمی دنیا میں قدم رکھا تب سے یہ طے تھا کہ مجھے دھرم جی سے اور دھرم جی کو مجھ سے پیار ہونا تھا، اور ہم دونوں میں عشق ہوا اور شادی کرلی۔ سوال: اس کے لیے پہل کس نے پہلے کی؟ جواب: میں کیسے پہل کرتی، پہل تو آدمی کو ہی کرنا پڑتا ہے، ویسے بھی میں کافی شرمیلی تھی، اور دھرمندر جی کافی خوبصورت تھے۔ کوئی بھی لڑکی ان پر مر مٹتی تھی، میں انہيں پسند کرتی تھی اور وہ پہلے سے شادی شدہ تھے۔ اس لیے میں نے سوچا بھی نہيں تھا کہ شادی کروں گی۔ لیکن یہ سب ہوگيا۔ سوال: کبھی کسی اور سے شادی کرنے کے بارے میں سوچا؟
جواب: بہت سوچا لیکن دھرم جی نے کسی اور کے بارے میں سوچنے نہيں دیا۔ سوال: لگتا ہےکہ آپ بہت ناراض ہيں کہ دھرمندر جی نے آّ پ کو کسی اور کے بارے میں سوچنے نہيں دیا؟ جواب: ناراض نہیں بلکہ خوش ہوں کہ انہوں نے اتنا پیار دیا کہ دوسرے کے بارے میں سوچنے کا موقع نہیں مل سکا۔ سوال: مجھے یاد آتا ہے کہ اس وقت رسالوں اور اخباروں میں بہت بحثیں ہوتی تھیں کہ آپ کس سے شادی کریں گي۔ ایک نام جو باہرنکل کر آتا تھا اور وہ نام سنجیو کمار کا تھا۔ کیا اس میں بھی کچھ حقیقت ہے؟ جواب: دیکھيے ایک لڑکی جو شادی کی قابل ہے،اس کے لیے بہت سارے پروپوزل تو آئیں گے ہی۔ اس میں کچھ غلط نہيں ہے۔ اس وقت جتنے ہیرو تھے وہ سب مجھ سے شادی کرنا چاہتے تھے کیونکہ میرا چال چلن اچھا تھا۔ مجھے کہنے پر یہ فخر محسوس ہوتا ہےکہ میں ایسی لڑکی تھی جسے کوئی بھی اپنی بیوی کے طور پر چاہے گا۔ سنجیو جی نے پرپوزل رکھا تھا اس میں کچھ بھی غلط نہیں تھا، لیکن یہ ہو نہیں سکا، سنجیو جی ایک لاجواب ادکار تھے۔ سوال: آپ نے کہا کہ دھرمندر پر تو کوئی بھی مر مٹتی تو کیا آپ کا ان کے ساتھ پہلی نظر کا پیار تھا؟
جواب: نہيں ایسا نہیں تھا۔ میں انہيں صرف پسند کرتی تھی کیونکہ وہ بہت اچھے دکھتے تھے، ویسے میرے زمانہ میں زيادہ تر اداکار لمبے تھے، آج کل کے ہیرو چھوٹے قد کے ہوتے ہيں۔ میں نے دھرم جی کے ساتھ بہت ساری فلمیں کیں اور دھیرے دھیرے قریب آئے۔ ایسا بھی ہوتاہے کہ جب آپ لمبےوقت تک کسی کے ساتھ رہتے ہيں تو جذباتی لگاؤ ہو ہی جاتاہے۔ سوال: آپ نےکہا کہ لمبے وقت تک رہی تو ایسا ہوا،توکیا آپ جذبات میں بہہ گئی؟ جواب: بالکل نہیں ! میں بہہ نہيں سکتی تھی کیونکہ میرے ماں باپ مجھے بہت کنٹرول میں رکھتے تھے۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ جب مجھے کسی کی سرپرستی کی ضرورت تھی تو مری ماں موجود تھیں۔ | اسی بارے میں راموکی شعلے میں امیتابھ بنے گبر08 October, 2006 | فن فنکار مقبولیت: سانوریا یا اوم شانتی اوم ؟08 November, 2007 | فن فنکار فلم’ایکلویہ‘ آسکر کے لیے نامزد 25 September, 2007 | فن فنکار عائشہ کی راکھی، میرا کی اننگز03 September, 2007 | فن فنکار انشااللہ جلد بری ہو جاؤں گا: سلمان01 September, 2007 | فن فنکار سلمان خان رہا، ممبئی واپس31 August, 2007 | فن فنکار ’ایسے مت چک انڈیا‘25 August, 2007 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||