فلم’ایکلویہ‘ آسکر کے لیے نامزد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلمساز ودھو ونود چوپڑہ کی فلم ایکلویہ کو فلم فیڈریشن آف انڈیا نے آسکر کے لیے نامزدکیا ہے۔ غیر ملکی زبان کے زمرے میں ہر برس بالی وڈ کی ایک فلم کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس فلم میں امیتابھ بچن، سیف علی خان اور سنجے دت کے ساتھ ودیا بالن اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ فلم فیڈریشن آف انڈیا کے چیئرمین ونود پانڈے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ کئی فلموں کے درمیان کسی ایک فلم کا انتخاب بہت مشکل تھا۔ پنکج کپور کی فلم ’دھرم‘ اور ’ایکلویہ‘ کے درمیان سخت مقابلہ تھا‘۔ پانڈے کےمطابق فلمساز سدھیر مشرا،انیل شرما، جلیس شیروانی، ندیم خان اور وجے کلیانی سمیت گیارہ ممبران کے اتفاق رائے سے ایکلویہ کا انتخاب کیا گیا۔ ایکلویہ کے منتخب ہونے پر فلمساز ودھو ونود چوپڑہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ وہ بہت خوش ہیں کہ ایک مرتبہ پھر ان کی فلم آسکر کے لیے نامزد ہوئی ہے‘۔ اب اپنی فلم کے پروموشن کے لیے وہ دو اکتوبر کو امریکہ جائیں گے۔جہاں وہ اپنے تجربے کی روشنی میں فلم کی تشہیر کے لیے کام کریں گے۔چوپڑہ کے مطابق ان کی اس فلم کی تعریف کولمبیا پکچرز کے سابق صدر فریڈمین نے بھی کی تھی انہوں نے اسے دیکھنے کے بعد کہا تھا کہ’ یہ فلم چند اچھی فلموں میں سے ایک ہے جو ہالی وڈ کی شان کہلانے کے لائق ہے ،اس فلم نے جغرافیائی حدود کو ختم کر دیا ہے اور یہ ایسی فلم ہے جسے ہر طرح اور ہر ملک کے لوگ پسند کر سکتے ہیں‘۔ چوپڑہ کی یہ تیسری فلم ہے جو آسکر کے لیے نامزد ہوئی ہے۔ سب سے پہلے انیس سو اسی میں مختصر نان فکشن فلم ’این انکاؤنٹر ود مینی فیسیز‘ کو آسکر کے لیے نامزد کیا گیا اس کے بعد 1989 میں فلم پرندہ کا انتخاب کیا گیا اور اب ’ایکلویہ‘ چوپڑہ کی تیسری فلم ہے۔ گزشتہ برس آسکر کے لیے رنگ دے بسنتی کا انتخاب اسی فلم فیڈریشن آف انڈیا کے ممبران نے کیا تھا۔ لیکن بعد میں چوپڑہ نے اپنی فلم ’ لگے رہو منا بھائی‘ کو عام زمرے کی فلموں کی فہرست میں شامل کر آسکر کے لیے بھیجا تھا۔ رنگ دے بسنتی کے ساتھ ہی کناڈا سے دیپا مہتہ کی فلم’ واٹر‘ کو غیر ملکی زمرے کی فلم کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ رنگ دے بسنتی تو جلد ہی آسکر ایوارڈ کی دوڑ سے باہر ہو گئی تھی لیکن واٹر غیر ملکی زمرے کی فلموں میں پہلی پانچ فلموں کی دوڑ میں شامل ہونے میں کامیاب ہوئی تھی۔ ایکلویہ کے انتخاب پر فلمی دنیا میں چہ میگوئیاں جاری ہیں۔لوگ اب فلم فیڈریشن آف انڈیا کے انتخاب پر بھی انگلیاں اٹھانے لگے ہیں۔اس پر پانڈے کا کہنا تھا کہ یہ ان کا اپنا فیصلہ نہیں ہے۔ کسی بھی فلم کا انتخاب گیارہ ممبران کے اتفاق سے کیا جاتا ہے۔ کیا اس مرتبہ پھر ففی ( فلم فیڈریشن آف انڈیا ) کے فیصلہ کی مخالفت میں کوئی اور فلم بالی وڈ سے بھیجی جائے گی؟ اس پر پانڈے کا کہنا تھا ’یہ تو ہر فلمساز کی اپنی پسند اور فیصلہ پر منحصر ہے اور اسے ایسا کرنے کا حق حاصل ہے‘۔ فلمساز کنال کوہلی نے اپنی رائے دینے سے یہ کہتے ہوئے اعتراز کیا کہ’ میں کسی طرح کے تنازعہ میں نہیں گھرنا چاہتا‘۔ | اسی بارے میں منا بھائی کی شہرت ہالی وڈ تک 13 May, 2005 | فن فنکار ’لگے رہو منا بھائی‘ بھی آسکر میں 29 September, 2006 | فن فنکار بھارتی دستاویزی فلم کیلیے آسکر28 February, 2005 | فن فنکار ۔۔۔کچھ تو اِدھر بھی14 October, 2006 | فن فنکار آسکر جیتنے والی فلم پہ اعتراض28 February, 2005 | فن فنکار آشوتوش آسکر کے ووٹنگ ممبر23 February, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||