پاکستانی ڈراموں کا انگریزی روپ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو ادب، ثقافت، تھیٹر اور فلم کے گھنے اور تناور بھارتی برگد کے تلے پاکستانی آرٹ، ادب اور ثقافت کا ننھا سا پودا عرصہ دراز تک گمنامی کے سائے میں خوابیدہ رہا ہے۔ لیکن چند برس پہلے صورتِ حال تبدیل ہونا شروع ہوئی اور کچھ ہی عرصے میں پاکستانی کہانیاں، ناول، ڈرامے اور شاعری کے انگریزی ترجمے منظرِ عام پر آنے لگے۔ بدلی ہوئی اس صورتِ حال کا کھوج لگاتے ہوئے آپ دو تین دہائیاں پیچھے جائیے تو آپ کو اس تمام عمل کی ابتداء منٹو کی کہانیوں کے انگریزی تراجم میں نظر آئے گی۔ خالد حسن کے کیے ہوئے یہ ترجمے انگریزی خواں قارئین میں، انہی کے محاورے کے مطابق گرم کیک کی طرح بکنے لگے اور فکشن کے مغربی قارئین پر کھُلا کہ اگلے زمانے میں فِکشن کا کوئی’میر‘ پاکستان میں بھی گزرا ہے۔ اسی مقبولیت کو بنیاد بنا کر بعد میں خالد حسن نے غلام عباس کی کہانیوں کو بھی انگریزی کا جامہ پہنایا اور دیگر مشاہیرِ ادب کے چیدہ چیدہ افسانوں کے تراجم بھی کئے۔ طاہرہ نقوی نے بھی منٹو کی کئی کہانیوں کو اُردو میں ڈھالا اور اسطرح برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا کے کتب خانوں میں بھارتی ترجموں کی طویل قطار کے مقابل چند پاکستانی ترجمے بھی خم ٹھونک کر کھڑے ہوگئے۔ تاہم ترجموں کا یہ سلسلہ بنیادی طور پر افسانوں تک محدود تھا۔ عبداللہ حسین کا ایک ناول خود ان کے ذاتی ترجمے کے طور پر اس فہرست میں ضرور موجود تھا۔ فیض احمد فیض، ساقی فاروقی، زی شان ساحل اور چند دیگر شعرا کی چیدہ چیدہ نظمیں بھی امریکی اور برطانوی کتب خانوں میں نظر آجاتی تھیں لیکن ڈرامے کا خانہ بالکل خالی تھا۔ شاہد محمود ندیم کے تحریر کردہ اُردو ڈراموں کا زیرِ نظر انگریزی مجموعہ اس لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ شاعری اور فکشن کے ساتھ ساتھ اب اردو ڈرامے نے بھی انگریزی خواں طبقے کے بُک شیلف میں اپنی جگہ پیدا کر لی ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے شائع کردہ اس مجموعے میں شاہد محمود کے سات کھیل شامل ہیں۔ تیسری دستک، بری، ایک تھی نانی، کالا میڈھا بھیس، دُکھینی، بلھا اور برقعہ وگینزا۔ یہ تمام کھیل شاہد محمود کے اس نقطہء نظر کی غمازی کرتے ہیں کہ فن کا ایسا اظہار جِس میں روحِ عصر دھڑکتی پھڑکتی محسوس نہ ہو، وہ محض کارِ لا حاصل اور تضیعِ اوقات ہے۔
شاہد کے لکھے ہوئے ہر کھیل میں ہمیں ہم عصر مسائل کی جھلک دکھائی دیتی ہے کیونکہ کِردار صدیوں پرانا بھی ہو تو علامتی سطح پر وہ آج کی آوازیں بن جاتا ہے۔ شاہد محمود نے تحریر کا فن کسی مکتب کے آرام دہ ماحول میں بیٹھ کر نہیں بلکہ زندگی کے لق و دق صحرا میں برہنہ پا بادیہ پیمائی کر کے سیکھا ہے۔ اسکی بے باک زبان اور منہ زور قلم زمانہء طالب علمی ہی سے اسے حکّام کے لئے ایک نا پسندیدہ شخص بنا چُکا تھا۔ پاکستان ٹیلی ویژن میں بطور ایک پروڈیوسر ملازمت اختیار کرنے کے بعد بھی اُس نے حالات سے کسی طرح کا سمجھوتہ نہ کیا اور فوجی حکام سے ٹکّر لینے کی پاداش میں اسے تین مرتبہ جیل جانا پڑا۔ 1978 کی جیل یاترا کے بعد اسے جلا وطنی تک اختیار کرنی پڑی اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسے ضمیر کا قیدی قرار دیتے ہوئے اپنے سایہ عاطفت میں لے لیا۔ وہ کئی برس تک لندن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے لئے کام کرتا رہا اور اپنے فرائضِ منصبی کےلئے کئی اور ملکوں کی خاک بھی چھانی۔ فوجی حکمرانی سے خلاصی کے مختصر وقفوں میں اسے پاکستان ٹیلی ویژن میں اعلٰی عہدوں پر کام کرنے کا موقع ملتا رہا اور وہ لاہور ٹی وی کے جنرل منیجر سے پی ٹی وی کے ڈائریکٹر پروگرامز تک کے عہدوں پر فائز رہا۔ سرکاری ملازمت کا زمانہ ہو یا معطّلی کے ایام، عوامی سٹیج سے شاہد کا رابطہ کبھی ختم نہیں ہوا اور 1988 میں ’اجوکا تھیٹر’ کی بانی مدیحہ گوہر سے شادی کے بعد یہی تھیٹر اسکا اوڑھنا بچھونا ہے۔ اجوکا تھیٹر (ہم عصر تھیٹر) اپنی نوعیت کے لحاظ سے اگرچہ سٹریٹ تھیٹر سے مختلف نہیں ہے، یعنی اِس میں گردوپیش کے عوامی مسائل کو موضوع بنایا جاتا ہے، تاہم پروڈکشن کے طمطراق، اداکاری کے معیار اور تفصیلات پر دی جانے والی توجہ کو پیشِ نظر رکھا جائے تو اجوکا تھیٹر کی کارکردگی کمرشل تھیٹر کے اعلٰی ترین معیار پر بھی پوری اُترتی ہے۔ اجوکا تھیٹر کا مرکز اگرچہ لاہور شہر ہے لیکن شاہد محمود اور مدیحہ گوہر اپنی ناٹک منڈلی کے ساتھ پاک و ہند کے مختلف شہروں کے دورے کرتے رہے ہیں۔ یہ پاکستان کا پہلا تھیٹر گروپ تھا جِسے ایران، نیپال، برطانیہ اور امریکہ میں کھیل پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ پاک ہند کشیدگی کے مشکل ترین ادوار میں بھی انھوں نے بھارتی شہروں میں جا کر اپنے کھیل پیش کئے اور کشمیر جیسے متنازعہ موضوع پر جمّوں شہر میں جاکر ایک کھیل سٹیج کرنا اجوکا تھیٹر کا منفرد اعزاز ہے۔
زیرِ نظر کتاب کا پہلا کھیل تیسری دستک قیامِ پاکستان کے بعد نادار طبقے پر ہونیوالے ظلم و ستم اور حکام بالا کی بے حسی کا نوحہ ہے جبکہ ’بری‘ نامی کھیل ضیاءالحق دور میں عورتوں پر ہونے والے مظالم کی داستان پیش کرتا ہے۔ کھیل کا انگریزی ترجمہ طاہرہ نقوی نے کیا ہے۔ ’ایک تھی نانی‘ میں نظریہ پاکستان کا اصل مطلب دریافت کیا گیا ہے اور سرکاری سرپرستی میں لکھی جانے والی تاریخ کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اسکا انگریزی ترجمہ خالد حسن نے کیا ہے۔ کالا میڈھا بھیس میں معاشرتی ناانصافی کا موضوع بھر پور طریقے سے اجاگر ہوا ہے اور پہلی بار مصنف نے شہری ماحول سے نکل کر دیہات کی فضا میں اپنا خیمہ گاڑا ہے۔ دُکھینی اگرچہ بنگلہ دیش کی ایک مظلوم تارکِ وطن عورت کا قصّہ ہے لیکن یہ اُن تمام مظلوموں کی نمائندگی کرتا ہے جنھیں انسانی سمگلر بھیڑ بکریوں کی طرح یہاں سے مشرقِ وسطٰی اور مغربی ممالک کو روانہ کرتے ہیں۔ اجوکا تھیٹر کی کامیاب ترین پیشکش بُلھا کا انگریزی ترجمہ بھی اس کتاب میں شامل ہے۔ یہ ترجمہ خود شاہد ندیم نے کیا ہے جبکہ انھیں نائلہ آزاد کی معاونت بھی حاصل رہی ہے۔ کتاب میں شامل آخری کھیل ’برقعہ ویگنزا‘ ہے جوکہ گذشتہ برس تحریر کیا گیا اور جب لاہور میں سٹیج ہوا تو بنیاد پرست حلقوں کی جانب سے اتنا شدید واویلا ہوا کہ روشن خیالی کا ڈھنڈورا پیٹنے والی حکومت اسے بین کرنے پر مجبور ہوگئی۔ اس کھیل کا ترجمہ بھی مصنف نے خود کیا ہے، جبکہ بھارتی قلم کار پراتِک کانجی لال کی مشاورت انھیں حاصل تھی۔ اعلٰی کاغذ، عمدہ طباعت، رنگین ٹائٹل اور معیاری جِلد بندی والی اس کتاب کی قیمت آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے صرف چار سو پچانوے روپے رکھی ہے جو اسے درمیانی آمدنی والے طبقے کے لئے بھی قابلِ حصول بنادیتی ہے۔ | اسی بارے میں ملک شہباز احمد پر فیض کا فیض 20 November, 2007 | قلم اور کالم اُردو کا فراموش کردہ محسن: گیان چند07 December, 2007 | قلم اور کالم جتندر بلو کی نئی کہانیاں08 March, 2008 | قلم اور کالم مقامی انگریزی فِکشن۔۔۔ کِدھر کو؟21 March, 2008 | قلم اور کالم جو ’رامچند پاکستانی‘ میں نہیں04 May, 2008 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||