مقامی انگریزی فِکشن۔۔۔ کِدھر کو؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عرصہ دراز تک یہ حقیقت پاکستانی فکشن نگاروں کےلیے ایک احساسِ کمتری کا سبب بنی رہی ہے کہ بھارت میں ایک سو کے قریب ایسے فِکشن رائٹرز موجود ہیں جن کا ذریعہء اظہار انگریزی جیسی انٹرنیشنل زبان ہے جبکہ پاکستان اس سلسلے میں کم و بیش تہی دامن ہے۔ ٹیگور، راجہ راؤ اور دھن گوپال مکھوپادھیائے کے ابتدائی دور سے گزر کر جب ہم آر ۔ کے نارائن اور ملک راج آنند سے ہوتے ہوئے سلمان رُشدی تک پہنچتے ہیں تو راستے میں کئی نام ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں اور ماضی قریب میں اس آسمان پر یکایک اتنے درخشاں ستارے نمودار ہوگئے کہ کسی ایک پر نگاہ جمانا مشکل ہوگیا۔ وِکرم سیٹھ کی اے ُسوٹ ایبل بوائے نے جہاں انیسویں صدی کے طویل روسی اور فرانسیسی ناولوں کی یاد تازہ کی تو ششی تھرور کے رایٹ نے فکشن میں ہونے والے کئی یورپی تجربوں کو جدید بھارت کی ایک کہانی میں سمودیا۔ ششی کا یہ ناول کسی آواز یا بیانئے کا سہارا لیے بغیر براہِ راست خام مال کی ترتیب و پیشکش سے تیار کیا گیا ہے اور اسے کہیں سے بھی شروع کیجئے، کہانی کا دائرہ مکمل ہوکر عین اسی جگہ آن پہنچے گا جہاں سے آپ نے پڑھنا شروع کیا تھا۔ ان کے علاوہ راج کمل جھا، سی آر کرشنن، جھمپا لہری، امیتا وگھوش اور امِت چوہدری کے نام بھی قابلِ ذکر ہیں۔ یہ بحث اپنی جگہ ہے کہ جو ہندوستانی مصنفین سر زمینِ ہند پر زندگی نہیں گزار رہے انہیں اس فہرست میں رکھنا کس حد تک جائز ہے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے فارغ التحصیل ہونے والے خوشونت سنگھ کا نام اُن کے ابتدائی ناول ٰ ٰ ٹرین ٹو پاکستانٰ ٰ کی بدولت سرحد کی اِس جانب بھی خاصا معروف ہے۔ اُن کے مختصر افسانوں کے ترجمے اُردو اور پنجابی میں بھی ہوچُکے ہیں۔ انگریزی میں لکھنے والی نئی بھارتی خواتین میں اگرچہ پاکستان کی حد تک زیادہ شہرت اُرن دھتی رائے ہی کو ملی کیونکہ اُن کے انعام یافتہ اور ترجمہ شدہ ناول کی رسائی یہاں تک ہوگئی تھی لیکن محدود پیمانے پر لوگ انیتا ڈیسائی، کرن ڈیسائی اور چترا بینرجی کے ناموں سے بھی واقف ہیں۔
جرمن نژاد خاتون رُوتھ جھب والا کو اس فہرست میں شامل کرنا یوں جائز ہوگا کہ انیس سو اُنتالیس میں اپنا وطن چھوڑنے کے بعد وہ لندن آ گئیں اور انگریزی زبان میں مہارت حاصل کی پھر ایک ہندوستانی ماہرِ تعمیرات سے شادی کرنے کے بعد دہلی آگئیں اور نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ ہندوستان ہی میں گذارا۔ 1960 میں شائع ہونے والا ان کا ناول ہاؤس ہولڈر پڑھ کر قطعاً احساس نہیں ہوتا کہ یہ کسی غیر ملکی کی تحریر ہو سکتی ہے۔ یہ ایک نوجوان ٹیچر کی کہانی ہے جو شادی کے بعد روزمرہ زندگی میں آنے والی تبدیلیوں سے پریشان ہوگیا ہے اور اسکی نو عمر بیوی اُس سے بھی زیادہ پریشان ہے کیونکہ سیدھے سادے شوہر کے ساتھ ساتھ اسے ایک تجربہ کار اور گھاگ قسم کی ساس سے بھی نمٹنا پڑ رہا ہے۔ یہ امر باعثِ حیرت ہے کہ جنوبی ایشیا کے انگریزی زبان میں تحریر ہونے والے ادب کی کسی بھی سنجیدہ بحث میں جھب والا کا ذکر مفقود ہوتا ہے۔ شاید ناقدینِ ادب اسے پاپولر ادب کے ناخوشگوار زُمرے میں پھینک کر مطمئن ہو چُکے ہیں۔ انگریزی میں لکھنے والے بھارتی ادیبوں کی طویل فہرست کے مقابلے میں پاکستان کے پاس، چند برس پہلے تک، کوئی ایک وقیع نام بھی نہیں تھا۔ جدید تر فکشن کے ٹھہرے ہوئے پانی میں پہلا پتھر محسن حامد نے مارا اور موتھ سموک نامی اپنے پہلے ناول کے بل بوتے پر نئی فکشن کے بھارتی جنّات کی قطار میں اپنے لیے جگہ بنالی۔ محسن کا دوسرا ناول سات برس بعد سامنے آیا لیکن اِس دوران امریکہ میں نو / گیارہ کا واقعہ ہو چُکا تھا اور مابعدِ استعمار کا ادب ایک مستند زُمرے کے طور پر ماہرینِ عمرانیات اور ناقدینِ ادب کا پسندیدہ موضوع بن چُکا تھا۔ مابعدِ جدیدیت، ساخت شِکنی، بین المتونیت اور نسوانی تنقید کے مباحث پاکستان کی ادبی اشرافیہ کی محفلوں اور خواص کے لیے شائع ہونے والی محدود اشاعت کی مطبوعات میں راہ پا چُکے تھے۔ اسی دوران میں کاملہ شمسی کا نام بھی انگریزی زبان کے مقامی ادیبوں میں شامل ہو چُکا تھا اور اوپر تلے ان کی چار کتابیں منظرِ عام پر آچکی تھیں۔ سن دو ہزار چار میں صہبا سرور کا ناول بلیک ونگز شائع ہوا جس میں تاریخِ پاکستان کے ایک افسوس ناک باب یعنی سانحہء مشرقی پاکستان پر پہلی مرتبہ کھُل کے بات کی گئی تھی۔ انگریزی فکشن کے میدان میں طبع آزمائی کرنے والی دو نئی خواتین ثریا خان اور شاہ بانو بلگرامی نے بھی اس موضوع کو اپنی کہانیوں کے تانے بانے میں شامل کیا لیکن بہت سے لوگوں کے خیال میں شرطیہ کامیابی کا نسخہ نو / گیارہ کے سانحے میں ہی پوشیدہ تھا اور نادیا اے آر کے تھِرلّر کلاچی ڈریمز میں اگرچہ مولا جٹ اور شعلے کی تمام خوبیاں یک جا ملتی ہیں لیکن کہانی کی تان، نو / گیارہ کے امریکی سانحے پر ہی آکر ٹوٹتی ہے۔
نوشین پاشا زیدی (کلر آف مہندی) سمیت پاکستانی فکشن میں اُبھرنے والی بیشتر نئی آوازیں سن ستر کے عشرے میں پیدا ہونے والی خواتین سے عبارت ہیں جو سب کی سب بیرونِ ملک، خاص طور پر امریکہ میں، زیرِ تعلیم رہی ہیں یا شادی / نوکری کے بعد وہاں مقیم ہو گئی ہیں۔ کیا ان نئی آوازوں کو پاکستانی فکشن کی نمائندہ آوازیں قرار دیا جاسکتا ہے؟ آئیے موازنے کےلیے ایک بار پھر ہمسایہ ملک کا رُخ کرتے ہیں۔ ہندوستان زبانوں کا جنگل ہے اور ہندی، تمل، تلیگو، ملیالم، بنگالی، اردو پنجابی اور مراٹھی وغیرہ کے ادیبوں کی اپنی اپنی دنیا ہے اور اپنے اپنے چاہنے والے۔ لیکن انگریزی میں لکھنے والے ہندوستانی ادیب کی رسائی کشمیر سے مدراس تک اور بمبئی سے کلکتے تک ہر جگہ کے پڑھے لکھے لوگوں تک یقینی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ خود ہندوستانی ادیب کا مقصد اپنے ہم وطنوں کے دائرے سے نکل کر بین الاقوامی قارئین تک پہنچنا اور خاص طور پر شمالی امریکہ اور برطانیہ کی مارکیٹ میں مقام پیدا کرنا ہو۔ ہندوستان میں کئی برسوں سے یہ بحث زوروں پر ہے کہ آیا انگریزی میں لکھنے والے ادیب ہندوستان کے کلچر کی مکمل نمائندگی کر سکتے ہیں ؟ کیا ہندی، بنگالی، تمل، تلیگو وغیرہ کی تحریروں میں دھڑکتی پھرکتی ہندوستانی زندگی انگریزی زبان میں اپنی روح برقرار رکھ سکتی ہے؟ سلمان رشدی کے اس بیان نے جلتی پر تیل کا کام کیا کہ تقسیمِ ہند کے بعد ہندوستان کا اہم ترین ادب انگریزی میں تحریر ہوا ہے۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ چار پانچ برس پہلے اچانک سلمان رشدی کا یہ بیان بھی منظرِ عام پر آیا کہ منٹو پاکستان کا عظیم ترین فکشن رائٹر ہے۔ منٹو کی موت کے پچاس برس بعد اور خود فکشن کی دنیا میں ربع صدی تک بادیہ پیمائی کے بعد رشدی کو یکایک منٹو کی عظمت کا احساس کیسے ہوا؟ جواب سادہ اورآسان ہے: خالد حسن کے کئے ہوئے منٹو کے انگریزی ترجمے اس سے پہلے میسر نہیں تھے جنھیں پڑھ کر رشدی پر منٹو کی عظمت آشکار ہوئی۔ یہاں یہ بنیادی سوال ہماری توجہ چاہتا ہے کہ اگر منٹو کی عظمت دنیا پر اسکے انگریزی ترجموں کے ذریعے ہی آشکار ہو سکتی ہے تو پھر کیا ہمیں سب سے پہلے یہی کام نہیں کرنا چاہیئے؟ یعنی مکمل منٹو کے ساتھ ساتھ غلام عباس، عصمت چغتائی، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی اور اردو ادب کے دورِ زرّیں سے تعلق رکھنے والے تمام ادیبوں کے مکمل متون کا ترجمہ – اور اچھا ترجمہ – انگریزی میں کرنا چاہیئے، جہاں سے اُسے دیگر زبانوں یعنی ہسپانوی، اطالوی، فرانسیسی، روسی اور جرمن وغیرہ میں بھی منتقل کیا جاسکے۔
اگر ہم اپنا دائرہ کار اُردو کی وسیع دنیا سے مختصر کر کے صرف پاکستان تک محدود کرنا چاہیں تو بھی ہمیں منٹو کے علاوہ انتظار حسین، خدیجہ مستور، ممتاز مفتی، اشفاق احمد، بانو قدسیہ احمد ندیم قاسمی، اے حمید، امتیاز علی تاج، حجاب امتیاز علی اور دیگر پاکستانی ادیبوں کے تراجم پر سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔ آج کے سکڑتے ہوئے عالم گیر گاؤں میں جنوبی امریکہ سے افریقہ تک کے ادیبوں کی آوازیں ہمیں ترجموں کے ذریعے ہی موصول ہو رہی ہیں۔ اگر براہِ راست انگریزی میں لکھنے والوں کی تحریروں پر انحصار کیا جائے تو دنیا بھر کے نوع بہ نوع ادب کا محض تھوڑا سا حصّہ ہم تک پہنچ پائے گا۔ اسی طرح ہم بھی اپنے ادب کا محض وہی حصّہ بیرونی دنیا تک پہنچا سکیں گے جو یہاں کے مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھنے والے اور بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے یا وہیں پر اقامت اختیار کرنے والے گنتی کے چند ادیبوں کے زورِِ قلم کا نتیجہ ہے۔ ظاہر ہے یہاں انگریزی زبان کو بطور ذریعہ اظہار استعمال کرنے والے ادیبوں کی تنقیص مقصود نہیں – اُن کے کام کا اپنا دائرہ کار ہے – بلکہ یہاں ترجموں کی ضرورت اور آج کی دنیا میں ان کی روز افزوں اہمیت کی طرف اشارہ مقصود ہے۔ |
اسی بارے میں جان بوجھ کر علامتی نہیں لکھتی: خالدہ حسین16 October, 2007 | صفحۂ اول پاکستانی ناول نگار کے ناولوں پر فلمیں02 May, 2007 | انڈیا مونیکا علی کے ناول پر فلم، لوگ ناخوش20 July, 2006 | آس پاس بُکر انعام، رشدی اب شامل نہیں09 September, 2005 | فن فنکار ’دشت تنہائی‘ کے باسی24 June, 2004 | فن فنکار گمنام ناول نگار بکر انعام جیت گئے15 October, 2003 | فن فنکار محسن حامد کا نیا ناول01 June, 2007 | فن فنکار سکول کی کتابوں میں صدام کی کہانیاں24.06.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||