BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 June, 2007, 17:21 GMT 22:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محسن حامد کا نیا ناول

محسن حامد کا ناول
محسن حامد نے ناول میں بہت سی آوازوں کی بجائے صرف مرکزی کردار کی آواز میں سارا قصّہ بیان کیا ہے
عظیم روسی ناول نگار دوستوئفسکی کے بعد واحد متکلم (فرسٹ پرسن) میں کامیابی سے مکمل کہانی بیان کر دینے کا اعزاز بیسویں صدی کے نصف آخر میں اطالوی مصنف البرتوموراویہ کو حاصل ہوا تھا۔

عالمی ادب کے اِن جِنّات کی محفل میں ایک نوجوان پاکستانی ناول نگار کا نام لینا گستاخی شمار نہ ہو تو کہا جاسکتا ہے کہ محسن حامد نے اپنی نئی کتاب میں بیانئے کی اس صِنف کو ایک قدم آگے بڑھایا ہے۔

ظاہر ہے کہ صیغہء غائب (تھرڈ پرسن) میں بیانئے کا عمل آسان ہو جاتا ہے۔ کہانی کا راوی جب حاضر و غائب سے واقف ایک ہمہ داں اور عالمِ کُل شخص کی صفات اپنا لیتا ہے تو داستان کے تمام کردار، کہانی کی تمام پرتیں اور ماضی و مستقبل کی تمام تفصیلات اُس پر عیاں ہو جاتی ہیں۔ وہ جس کردار کے باطن میں چاہے جاگُھستا ہے اور وہاں سے اسکے ذاتی خیالات اور اندرونی جذبات کی خبر لاتا ہے۔ کرداروں کی انفرادی سوچ کے علاوہ وہ اُن کے باہمی تعلق پر خود اپنا تبصرہ بھی پیش کر سکتا ہے، گویا کرداروں کی شخصیات اپنی تمام تر نفسیاتی باریکیوں کے ساتھ مصنف کے ہاتھ میں ہوتی ہیں اور وہ بآسانی قارئین کو قصّے کی ہر تفصیل سے آگاہ کر سکتا ہے۔

دوستوئفسکی کا ناول
دوستوئفسکی کا یہ ابتدائی ناول واحد متکلم میں کہانی بیان کرنے کی ایک کلاسیکی مثال ہے

لیکن بیانیہ اگر تھرڈ پرسن کی بجائے فرسٹ پرسن یعنی واحد متکلم میں ہو تو اس پر خود بخود کئی پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں، مثلاً راوی جس کردار کے توسط سے قارئین تک پہنچے گا، ظاہر ہے کہ بیانیہ اسی کے تجربات تک محدود رہے گا۔ ناول نگار کےلیے یہ فیصلہ انتہائی اہم ہوتا ہے کہ وہ ایک ہمہ بِیں راوی کے طور پر پوری آزادی کے ساتھ سارا قصّہ بیان کرتا ہے یا بیانئے کو کسی ایک کردار کی ذاتی پہنچ تک محدود رکھتا ہے۔

محسن حامد نے اگرچہ بیانئے کو مرکزی کردار کے نقطۂ نظر تک محدود رکھا ہے لیکن بطور راوی وہ قارئین سے مخاطب نہیں ہے بلکہ اسکا مخاطب ایک امریکی کردار ہے جو لاہور میں پرانی انارکلی کے ایک ریسٹورنٹ میں اچانک مِل جاتا ہے۔

مصنف نے کہانی بیان کرنے کےلیے ایک بے نام امریکی ہی کو کیوں چنا؟ کیا لاہور میں رہنے والا چنگیز (ہیرو) اپنی کہانی کسی پاکستانی کو نہیں سُنا سکتا تھا؟ یقیناً سنا سکتا تھا لیکن ایسا کرنے سے قصّے کا سارا تناظر بدل جاتا۔

اپنے پہلے ناول ’موتھ سموک‘ میں محسن حامد نے اگرچہ کسی ایک کردار کی زبان سے کہانی بیان نہیں کی تھی لیکن اس نے خدائی صفات کے حامِل ایک عالمِ الغیب راوی کی صورت بھی اختیار نہیں کی تھی بلکہ ہر کردار کو خود اپنی کتھا سنانے کی اجازت دی تھی اور یوں بیانئے کو بے لگام اور مادر پدر آزاد ہونے سے بچا لیا تھا، لیکن اپنے دوسرے ناول میں مصنف نے بہت سی آوازوں کی بجائے صرف مرکزی کردار چنگیز کی آواز میں سارا قصّہ بیان کیا ہے، اور یوں خود کو مزید محدود کرتے ہوئے اپنے لیے ایک بڑا چیلنج پیدا کرلیا ہے۔ محسن حامد کا نیا ناول The Reluctant Fundamentalist اسی چیلنج سے نبرد آزما ہونے کی داستان ہے۔

 مصنف نے کہانی بیان کرنے کے لیے ایک بے نام امریکی ہی کو کیوں چنا؟ کیا لاہور میں رہنے والا چنگیز (ہیرو) اپنی کہانی کسی پاکستانی کو نہیں سُنا سکتاتھا؟ یقیناً سنا سکتا تھا لیکن ایسا کرنے سے قصّے کا سارا تناظر بدل جاتا

چنگیز ایک نسبتاً خوشحال پاکستانی گھرانے کا نوجوان ہے جو وظیفے پر اعلیٰ تعلیم کےلیے امریکہ کی پرنسٹن یونیورسٹی میں جاتا ہے۔ اپنے اچھے خاندانی پس منظر، بہترین ابتدائی تعلیم، ذاتی محنت اور ذہانت کی بنیاد پر اسے امریکی ہائی فنانس کی دنیا میں انتہائی عمدہ ملازمت مل جاتی ہے۔ جس ادارے میں وہ کام کرتا ہے اسکا کام ڈوبتی ہوئی کمپنیوں کی کاروباری قدر متعین کرنا ہے۔ تاکہ مارکیٹ میں موجود خریدار انہیں اونے پونے خرید کر نفع بخش طریقے سے چلا سکیں۔

چنگیز اگر ایک طرف ہائی فنانس کےسِحر میں گرفتار ہے تو دوسری جانب ایریکا نام کی ایک لڑکی بھی اس کے دل و دماغ پر جادو کر چکی ہے۔ امریکہ اور ایریکا کی مشترکہ محبت میں گرفتار بائیس سالہ پاکستانی نوجوان ایک ایسے حسین مستقبل کے خواب دیکھ رہا ہے جس میں اپنی اعلٰی ملازمت کے بل بوتے پر حاصل کیا ہوا ایک رہائشی محل بھی ہے اور اس کی خوابگاہ میں سوئی ہوئی شہزادی ایریکا بھی موجود ہے۔۔۔ لیکن پھر ایک بھونچال آتا ہے اور نیویارک میں ایستادہ ٹریڈ سینٹر کے ساتھ ساتھ چنگیز کے سارے محل بھی مسمار ہو جاتے ہیں۔

یہاں اس بات کا ذکر بہت ضروری معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ پانچ برس کی مدت میں ایسی بے شمار کہانیاں شائع ہوئی ہیں جن میں 11/9 کے واقعے کو پس منظر کے طور پر استعمال کرتے ہوئے امریکہ میں مقیم غیر ملکی باشندوں کے مصائب کی تصویر کشی کی گئی ہے، لیکن محسن حامد کا ناول اس قبیل سے ماوراء ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ٹریڈ سینٹر کی تباہی کا واقعہ چنگیز کی ملازمت یا امریکی کمپنی میں اسکی حیثیت اور عزت و توقیر پر ایک لمحے کےلیے بھی اثر انداز نہیں ہوتا۔ 11/9 کے بعد نیویارک کی عمومی منظر کشی کے دووران دکھایا گیا ہے کہ کچھ مقامی کردار چنگیز کو عرب باشندہ سمجھتے ہوئے اس پر آوازے کستے ہیں۔۔۔ لیکن یہ منظر محض ماحول نگاری کا تقاضہ ہے، چنگیز کی کایا کلپ میں اسکا کوئی حصّہ نہیں، بلکہ یہ امر ناول کا ایک دلچسپ پہلو ہے کہ چنگیز کی سوچ میں جوہری تبدیلی امریکیوں کے کسی مخاصمانہ رویے کی بجائے سان تیاگو کے ایک بوڑھے باشندے کی چشم کشا گفتگو سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ دانش مند بوڑھا سان تیاگو کے اس اشاعتی ادارے کا مینجر ہے جِسے اونے پونے خریدنے کی نیت سے ایک امریکی کلائنٹ نے چنگیز کی کمپنی کو اشاعت گھر کی کاروباری قدر و قیمت کا اندازہ کرنے کےلیے سان تیاگو بھیجا ہے۔

البرتو موراویہ کا ناول ’دی ووئیر‘
البرتو موراویہ نے مرکزی کردار کی زبان سے کہانی بیان کرنے کا ایک انوکھا انداز اپنایا

بوڑھے مینجر کےلیے چنگیز اور اسکے ساتھی اُن گِدّھوں کی طرح ہیں جو موت سے کچھ دیر پہلے جاندار کے گرد منڈلانے لگتے ہیں۔ یہی بوڑھا چنگیز کو احساس دلاتا ہے کہ وہ امریکی سرمائے کے ہاتھوں میں ایک مہرے کی طرح کام کر رہا ہے: وہ چھوٹی مچھلیوں کو نِگل جانے والے مگر مچھوں کا گماشتہ ہے۔ یہیں سے چنگیز کا کردار کروٹ لیتا ہے اور وہ امریکی ہائی فنانس کی دنیا سے متنفر ہو کر واپس وطن لوٹ جاتا ہے۔

لیکن اُس کی محبوبہ ایریکا کہاں گئی؟ ۔۔۔ اور وہ اس کہانی میں آئی ہی کیوں تھی؟ کیا محض رُومانس کا تڑکا لگانے کے لیے؟ یااس سے بڑھ کر اسکا کوئی مقام تھا؟ ذرا سا غور کرنے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ ایریکا سے ہیرو کی محبت دراصل خود امریکہ سے اسکی محبت کی تمثیل ہے۔ مصنف اس بات سے نہ صرف پوری طرح آگاہ ہے بلکہ اپنے پڑھنے والوں کو بھی آگاہ کرنا چاہتا ہے چنانچہ امریکہ اور ایریکا کے ناموں کی مماثلت کو ناکافی سمجھتے ہوئے وہ ایک مقام پر زیادہ واضح انداز میں دونوں امور کا موازنہ کرتا ہے۔

ایریکا گزرے زمانے کی یادوں میں کھوئی ہوئی ایک ایسی لڑکی ہے جسے اپنے حال سے زیادہ اپنا ماضی حقیقی معلوم ہوتا ہے اور چنگیز باوجود کوشش کے اسے ماضی کی گرفت سے آزاد نہیں کر سکتا۔ اسی دوران میں ٹریڈ سینٹر پر حملے کے نتیجے میں ایک عجیب طرح کی قوم پرستی کے مظاہرے امریکہ بھر میں شروع ہو جاتے ہیں:

’۔۔۔مجھے یوں محسوس ہوا کہ (ایریکا کی طرح) خود امریکہ بھی ایک خطرناک نستالجیا میں گرفتار ہوتا جا رہا ہے۔ ہر طرف یہ جھنڈے اور یہ وردیاں، ٹیلی ویژن پر ہمہ وقت جرنیلوں کی تقریریں اور اخبارات کی سرخیوں میں فرض اور عزت پہ مر مٹنے کے نعرے۔

’میں تو امریکہ کو مستقبل پہ نگاہ رکھنے والی ایک قوم سمجھتا تھا لیکن حیرت ہے کہ اب یہ حسرت کی نظر سے اپنے ماضی کی طرف دیکھنے لگی ہے۔ نیو یارک میں زندگی گزارنا یوں تھا جیسے ہم اچانک دوسری جنگِ عظیم سے تعلق رکھنے والی کسی فلم کا حصّہ بن گئے ہوں۔

’۔۔۔امریکی لوگ کیا چاہتے تھے؟ میری سمجھ سے بالاتر تھا لیکن ایک بات واضح تھی کہ وہ (حال سے آنکھیں بند کر کے) ماضی کا کوئی لبادہ زیبِ تن کرنا چاہتے تھے۔۔۔مجھے یہ خیال بہت پریشان کرتا تھا کہ اگر یہ سارا ماحول ایک فلمی سیٹ کی طرح جعلی ہے، تو اس فلم میں مجھ جیسے غیر ملکی کو کونسا کردار ادا کرنا ہوگا۔۔۔‘

یوں تو پاک و ہند میں درجہ دوم کی کہانیوں سے لیکر درجہ سوم کے ٹی وی ڈراموں تک جگہ جگہ یہ تِھیم دکھائی دیتی ہے کہ ہیرو بیرونِ ملک گیا اور وہاں کی تہذیب سے دِل برداشتہ ہو کر مادرِ وطن کی مقدس آغوش میں لوٹ آیا، لیکن محسن حامد کے یہاں یہ سب کچھ انتہائی موثر انداز میں ہوتا ہے۔ چنگیز کا ردِعمل کسی سستے رومانوی پلاٹ کے ہیرو کا جذباتی ردِ عمل نہیں ہے بلکہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، زِیرک اور فہیم نوجوان کا وہ تجزیہ ہے جو اسے امریکی سیاست گری کا اصل چہرہ دکھاتا ہے اور دنیا بھر کی معیشت کو اپنی بے رحم گرفت میں لینے کےلیے بے قرار امریکی فنانس کے خونی پنجے کو انتہائی قریب سے دیکھنے کا موقعہ فراہم کرتا ہے، اور جوں ہی اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ تو لٹیروں کے کسی ظالم و جابر جتھے میں کام کرنے والا کرائے کا ایک سپاہی ہے، تو وہ اس صورتِ حال سے نکل بھاگتا ہے۔

وطن جا کر اسے جس انداز میں اپنی محبوبہ ایریکا کی یاد ستاتی ہے وہ قاری کو ناول ختم ہونے کے بعد بھی سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہیرو واقعی اپنی محبوبہ کو یاد کر رہا تھا یا اس پردۂ زنگاری میں کوئی اور محبوب ۔ غالباً خود امریکہ ۔ اپنی جھلک دکھا رہا تھا۔

فلم ساز شرمین عبیدپردہ اٹھتا ہے
طالبان کے 5 سال بعد افغان خواتین کا حال
چلتی پھرتی نمائشچلتی پھرتی نمائش
لاہور میں ایک انوکھی نمائش کا آغاز
فلمی پوسٹر فلمی پوسٹر کا فن
یہ دم توڑتا فن کلکتے اور بمبئی میں پروان چڑھا
اسد مفتی’جنگل میں فٹ پاتھ‘
اسد مفتی کے اخباری کالموں کا نیا مجموعہ
روسی سنیماتازہ ہوا کے جھونکے
روسی سینما میں نئی لہر پر عارف وقار کی تحریر
شوقیہ فلموں کا میلہ
لاہور کے الحمرا ہال میں ’امیچر فلم فیسٹیول‘
اسی بارے میں
شیکسپیئر لاہور میں
28 January, 2007 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد